شہباز شریف کی ضمانت اور آنے والے کل کی تصویر!


لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک شہزاد احمد کی سر براہی میں قائم دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کو رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤس سکیم کیسز میں ضمانت ہر رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ فواد حسن فواد کو آشیانہ کیس میں ضمانت مل گئی جب کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں ا ن کے وکیل عدالت کو مطمئین نہیں کر سکے۔ سابق وزیر اعلٰی کو تین ماہ پہلے نیب نے صاف پانی کیس میں طلب کر کے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں دھر لیا تھا یعنی سجی دکھا کے کبھی ماری تھی۔

بعد میں نیب کے کرتا دھرتاؤں نے ان پر رمضان شوگر ملز کا کیس بھی بنادیا تھا۔ پاکستانیوں کی یادداشت اگرچہ بہت کمزور سہی مگر اتنا تو یاد ہو گا ان کیسوں کے حوالے سے بابا رحمتے، پی ٹی آئی اور نیب کے ہر کاروں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ پنڈی کا غیر سنجیدہ اور لا ابالی سیاست دان تو ان کیسوں کو پاکستانی تاریخ کے چند بڑے یعنی میگا کرپشن کے کیسوں سے تعبیر کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کے خلاف انہیں کیسوں کے حوالے سے بارہا کہا گیا کہ احد چیمہ اور فواد حسن فواد شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ سب بھی نیب اور نواز لیگ کے مخالفین کا پروپگنڈہ تھا۔

یوں لگتا ہے کہ ن لیگ کے خلاف عدالتی فیصلوں نے بھی اب یو ٹرن لے لیا ہے۔ شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی منظوری انتہائی نا مساعد حالات میں بہت بڑا ریلیف ہے۔ گھٹن اور حبس کے طویل دورانیے کے بعد یہ فیصلہ ن لیگ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ امید ہے کہ نواز شریف کو بھی طبی بنیاد پر ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت کی نہایت ناْقص اور ابتر کارکردگی کے ہنگام ن لیگ کے لیے یہ ریلیف حکومت کے لیے سیاسی حوالے سے مزید پریشان کن ہو گا۔

اگر حکومت نے عوام کے غیظ و غضب سے بچنا ہے تو ن لیگ کے دور میں شروع کیے گئے متعدد پروجیکٹز کی تکمیل کے موقعے پر اپنے نام کی تختیاں لگانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ کارکردگی نہ ہو تو تختیاں سیاہ بختیوں کو خوش بختیوں میں کبھی نہیں بدل سکتیں۔ نیب کو پھر سنجیدگی سے غور کر کے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہو گی جس کے مطابق وہ پہلے سیاست دانوں کو جیل میں ڈالتی ہے پھر جرم اور ثبوت تلاش کرتی ہے۔ یہ فیصلہ ن لیگ اور شہباز شریف کے لیے یوں بھی خوش آئند ہے کہ پی اے سی کے چئیر مین شپ سے حکومت کی طرف سے انہیں ہٹائے جانے کا دباؤ بھی کم ہو گا۔

ضمانت ایک عارضی ریلیف ضرور ہے کیونکہ مقدمات تو ابھی عدالتوں میں چلنا ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ ن لیگ کے لیے سیاسی اور عدالتی حوالے سے بہت بر وقت اور مفید ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو دریدہ دہن اور بغض نواز و شہباز میں ڈوب کر ان کے لیے چور، ڈاکو اور لٹیروں جیسے القابات استعمال کر رہے تھے انہیں بھی چاہیے کہ اپنے گریبانوں میں جھانک کر ندامت کے دو چار آنسو بہا لیں۔ آج تو ڈیل اور ڈھیل کا راگ الاپنے والے بھی رنجیدہ و شرمندہ ہوں گے۔ ن لیگ کے لیے یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ وہ انہیں عدالتوں سے اپنے مقدمات لڑ کر ریلیف حاصل کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS