مغرب میں بیوی سے محبت کی مثالیں کم تو نہیں
کہتے ہیں بیوی سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہو سکتا۔ تجربے کی بات ہے۔ کہ زمانہ افلاس میں دوست احباب اور خونی رشتے تک ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن بیوی نکاح کے وقت بولے گئے تین الفاظ (قبول ہے ) کا مان رکھتی ہے۔ ساری عمر اس عہد کو نبھاتی ہے اور ہر حال میں مرتے دم تک مرد کا ساتھ دیتی ہے۔
اسی طرح شوہر کی حیثیت ایک سائباں کی سی ہوتی ہے۔ جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تخفظ کا احساس دیتا ہے۔ کبھی قسمت کی سختی کو اپنی تدبیر سے آسان کرتا ہے۔ اور کبھی زمانے کی بے رخی بے امتنائی پر اپنی بے لوث محبت کا یقین دلاتا ہے۔
مشرقی عورت اور مرد تو اس رشتے کو نبھاتے ہی ہیں۔ مغرب والوں کی نظر میں بھی یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ جس کو وہ آخری دم تک نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سینئر کو لیگ اور ممتاز آرٹسٹ اور ادبی شخصیت ذوالقرنین جمیل عالی عرف راجو جمیل نے اپنے لندن وزٹ کا ایک واقعہ بیان کیا انہی کی زبانی پیش خدمت ہے۔
ایک دن میں لندن میں اپنے ایک میزبان کے ساتھ ایک پارک میں گئے اس پارک میں زیادہ تر بوڑھے اور بچوں والی خواتین سیر کے لئے آئی تھیں۔ ایک بنچ پر ایک بوڑھے انگریز صاحب بیٹھے تھے۔ ہم بھی کچھ دیر اس بنچ پر بیٹھے اور کچھ دیر بعد جب ہم گھر واپس آ رہے تھے تو دیکھاکہ وہی بنچ والے صاحب ہمارے آگے آگے ایک سٹک کے سہارے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہم بھی ان کے پیچھے چلنے لگے۔ تقریبا دس منٹ کی واک کے بعد وہ مڑے اور ایک گھر کا دروازہ کھولا اور اندر چلے گئے۔ میرا من کر رہا تھا کہ میں ان صاحب سے کچھ بات چیت کروں۔ میں نے یہ بات اپنے ساتھی سے کہی تو انہوں نے کہا کہ یہ غلط بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انگریز صاحب اس بات کا برا منائیں اور ہمیں اندر نہ آنے دیں۔ لیکن میں نے کہا کہ کوشش کرنے میں کیا خرج ہے۔
ہم نے دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور وہی صاحب باہر نکلے اور حیرانی سے ہمیں دیکھا۔ میں نے بڑھ کر اپنا تعارف کروایاکہ ٹورسٹ ہوں آپ کو پارک میں دیکھا تھا۔ آپ سے گپ شپ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے پہلے کچھ سوچا پھر ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ہم اندر داخل ہوئے اور فرنٹ روم میں بیٹھ گئے۔ ہمیں چائے کافی اور ڈرنک کا پوچھا۔ میں نے کہاچھوڑیں ان چیزوں کو آپ ہمارے پاس بیٹھیں بات چیت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس فلیٹ/گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔
ایک بیٹا ہے جو امریکہ میں جا بسا ہے اور بیٹی آسٹریلیا میں رہتی ہے۔ بیوی پچھلے سال اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں۔ میری اس سے محبت کی شادی تھی۔ مجھے اس سے بہت محبت تھی۔ پچاس سال سے زیادہ ہمارا ساتھ رہا۔ بچے اپنی پسند سے دوسرے ممالک میں شفٹ ہو گئے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے میں اور بیوی اسی گھر میں رہ رہے تھے۔ ہمارا معمول تھاکہ ہم روز صبح دس بجے اپنے گھر سے نکل کر اسی پارک میں جاتے اور ایک مخصوص بنچ پر دو تین گھنٹے بیٹھتے پرانی باتوں کو یاد کرتے اور پھر گھر واپس آ جاتے۔ ایک دن میری بیوی نے کہا چلو عہد کرتے ہیں ہم میں سے جو پہلے اللہ میاں کے پاس چلا جائے تو زندہ رہنے والا مرنے والے کی یاد میں روزانہ کم از کم پانچ منٹ کے لئے اس بنچ پر بیٹھے گا۔
میں اس وعدے کو نبھانے کے لئے روزانہ صبح دس بجے بلا ناغہ اس پارک میں جاتا ہوں اور پانچ منٹ وہاں بنچ پر بیٹھ کر اپنی بیوی کو یاد کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں ہمت اور صحت ہے میں روزانہ جاتا رہوں گا۔ کیونکہ یہ ہماری ایک مشترکہ یاد ہے میں بہت حیران ہوا اور ان کی محبت کی داد دی اور ان کی صحت و سلامتی کی دعا بھی کی وہ بہت خوش ہوئے راجو جمیل ساحب نے ہمارے ساتھ ان کی تصویریں بھی شئیر کیں۔
اسی طرح کا ایک واقعہ پچھلے سال میرے برطانیہ مین قیام کے دوران پیش آیا۔ میں اپنے پوتوں اور نواسوں کو لے کر برمنگھم کے مضافات میں والسل کے Arboretum Parkمیں سیر کر رہا تھا۔ یہ ایک پھولوں، گھاس کے لمبے لمبے قطوں اور جھیلوں سے بھرا ہوا
بہت ہی خوبصورت پارک ہے۔ وہاں ایک خوبصورت جھیل کے کنارے چلتے چلتے ہمیں ایک لکڑی کا بنچ نظر آیاجس پر کافی سارے پھول پڑے ہوئے تھے۔ میں وہاں رک گیا اور بنچ کو دیکھنے لگا۔ جس پر لوہے سے بنا ایک سٹیکر لگا ہوا تھا۔ جس پر انگریزی میں مندرجہ ذیل عبارت لکھی تھی۔
This bench has been donated to celeberate
the life of ”Tracey HartShorne“ a special wife۔
میں اور بچے وہاں کھڑے ہو گئے اتنے میں ایک انگریز مرد دو بچوں کے ساتھ اس بنچ کے پاس آیا اور اس پر اور پھول لا کر رکھے۔ میں نے اس کو ہائے کہا اس سے پھول رکھنے کی وجہ تسمیہ پوچھی۔ اس نے میرے بچوں کو مسکرا کے دیکھا۔ پھر اپنا تعارف کروایا۔ اور بتایا کہ یہ بنچ میں نے اپنی بیوی کی یاد میں یہاں پر رکھوایا ہے۔ اس کو یہ پارک بہت پسند تھا۔ ہم ہر اتوار کو اپنے بچوں کو یہاں لے کر آتے اور آدھے سے زیادہ دن یہاں گزارتے تھے۔
پچھلے سال اس کا ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے اس سے بہت محبت تھی اور ہے۔ اس لیے میں نے اس کی یاد میں یہ بنچ یہاں پر رکھا ہے اور ہر اتوار کو میں بچوں کو یہاں لے کر آتا ہوں۔ اور کچھ وقت یہاں گزار کر ہم اسے یاد کرتے ہیں۔ آج اس کی برسی ہے اس لیے میں اور بچے یہ پھول لے کر آئیں ہیں۔ میں نے اس سے کہاکہ مغرب کا کلچر بہت مختلف ہے۔ اور اس مشینی دور میں یہ کیسے یہاں کے لئے وقت نکال لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشرق والے سمجھتے ہیں۔ وفا اور محبت صرف مشرق میں ہی رہ گئی ہے۔ یہاں پر بھی اہل دل اور محبت کرنے والے بستے ہیں اور جس دن یہاں پر محبت اور وفا ختم ہو گئی۔ دنیا ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ دنیا دل والوں کی وجہ سے ہی قائم ہے۔
پیار۔ محبت۔ ایثار اور قربانی کی مثالوں سے دنیا بھری ہوئی ہے۔ یہاں پر بھی مرد اپنی خواتین کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال پچھلے دنوں دیکھنے کو ملی۔ میں روز ایک ڈائیلاسیز سنٹر میں کچھ دیر کے لئے جاتا ہوں۔ ایک پرانے ملنے والوں سے بہت عرصہ بعد ملاقات ہو گئی۔ حال احوال کے بعد پتہ چلا کہ ان کی زوجہ یہاں ڈائیلاسیز کے لئے داخل ہیں۔ مزید پتہ کرنے پر پتہ چلا کہ دو سال پہلے بیماری کی وجہ سے بیوی کے گردے فیل ہو گئے ہیں۔
اور ہفتے میں دو دفعہ ان کا ڈائیلاسیز ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو بیٹے ہیں اور دونوں دبئی میں ہوتے ہیں۔ میں سکول میں سائنس ٹیچر تھا۔ لیکن بیوی کی بیماری کی وجہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ اور ا ب وہ وقت بیوی کی تیمارداری میں گزر جاتا ہے۔ گھر کا سارا کام کاج بھی اب میں خودہی کرتا ہوں۔ بیماری میں بھی بیوی کام کاج کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن میں نے اسے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔ تو آپ بیٹوں کی شادی کیوں نہیں کر دیتے۔
جناب شادی تو کر ہی دوں گالیکن جتنی اچھے طریقے سے میں بیوی کی تیمارداری کرتا ہوں۔ بہوؤیں نہیں کر سکتی اور جناب پھرہمارا پچیس سال کا ساتھ ہے۔ اور خاوند کے علاوہ بیوی کاخیال اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ اور ہمارے معاشرے میں بھی ابھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ جس سے دنیا قائم ہے۔ ان کی یہ بات سن کر میں تو حیران رہ گیاکہ ابھی دنیا دل والوں سے خالی نہیں ہوئی۔


