مثبت تبدیلیاں، جو ملک کی ترقی کا باعث بن رہی ہیں


حکومت سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر جو اس وقت تک معاشی بحرانوں کے باوجود بھی جو مثبت کام کیے ہیں ان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔

ملک کو معاشی بحران کے حل کے لیے وزیراعظم عمران خان کا ملکوں ملکوں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے جانا، لیکن اگر کسی نے کچھ نہیں دیا تو اس میں ان کا قصور نہیں۔

ان کی کوشش یہ بھی ہوئی کہ نو ماہ ہر طرح کے معاشی مسائل اور اپوزیشن کے پریشر کے باوجود دو منی بجٹ بھی پیش کیے، ٹھیک ہے عوام کو وقتی فائدہ نہیں ہوا لیکن مستقبل تو محفوظ کیا گیا ہے۔

بے فکر ہو کر کام کریں مہنگائیاں کچھ نہیں کرسکتیں حوصلہ انسان کو مضبوط رکھتا ہے حوصلے سے آگے بڑھیں اور امید رکھیں کہ اس مہنگائی سے آپ کی نسلیں ضرور فائدہ حاصل کریں گی۔

بین الاقوامی مالیاتی ادرے کے پاس وزیراعظم کا جانا غلط قیاس کیا جا رہا ہے دراصل وہ آئی ایم ایف کی خاتون خود چل کر پاس آئی تھیں، ان کی پاکستان میں ذاتی دلچسپی ہے اور اس کا سارا کریڈٹ ہمارے محترم وزیراعظم کو جاتا ہے جس کی لافانی سوچ کو ان اداروں نے بھانپ لیا ہے اور وہ خود پاکستان کے معاشی مسائل کے حل پر تیار ہیں وہ خود پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم صاحب نے ان کی لاکھ منتوں سماجتوں کے باوجود بھی انہیں انتظار کا کہا کہ وہ اپنی عوام کو اعتماد میں لے کر ان سے پیسے لینے کا سوچیں گے۔

دبئی میں ہونے والے سمٹ میں وہاں پر شرکاء کا خان صاحب کی تقریر سننے کے بعد جس قدر لوگوں نے سیلفیاں بنوائیں اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان میں کاروبار کرنے کے جس لمحے کا انتظار کر رہے تھے وہ لمحہ آن پہنچا ہے۔

ہمارت برادر اسلامی ملک السعودیہ العربیہ کے خوبرو، خوبصورت شہزادہ محمد بن سلمان دورہ پاکستان کے لیے بھی اسی تبدیلی کے پیش نظر آ رہے ہیں، ان کا نہ صرف اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ہے بلکہ اربوں روپے فری میں بھی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ ہماری حکومت شہزادے کے ساتھ آنے والے تمام عربوں کی خوب خدمت کرے، خوب مہمان نوازی کرے۔ چاہے وہ کھانا بھی اپنا بسترے بھی اپنے اور چارپائیاں بھی اپنی بھجوا چکے ہیں۔

وہ ایک شرارتی دوست کہہ رہا تھا کہ کہ شہزادے کا سارا مال سامان، کھانے کا بندوبست سعودیہ سے ہی آیا ہے وہ تو پاکستان کا کھانا کھانا بھی پسند نہیں کرتے۔ اسے کہا یہ سوچ مثبت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ وور مثبت باتیں جو آپ کا لفافہ میڈیا درست نہیں بتا رہا۔

ہر ممبر پارلیمنٹ کا اپنے اپنے علاقوں کے منتخب ہونے کے بعد اپنے اہل حلقہ کے پاس جانا، فرش پر بیٹھنا، چارپائیوں پر بیٹھنا اور تصاویر بنوانا۔

تمام وزراء کا ملک کے تمام مسائل کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اور اس پر منصوبہ بندی کے وعدے کرنا اور امید ہے آنے والے سالوں میں ان منصوبوں پر کام تمام ہوجائیں گے۔

تمام حکومتی وزراء و پارلیمنٹیرین کا اس بات پر مکمل اتفاق رائے ہونا کہ تمام بحرانوں اور مسائل کی وجہ سابقہ حکومتیں ہیں، حالانکہ بڑے دل کی بات ہے کہ وہ ان حکومتوں کا حصہ ہوتے ہی سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

ماشاءاللہ سے تمام وزراء اور خصوصاً خواتین ممبرز کے ٹویٹرز پر فالوورز کی بڑھتی تعداد ہی ان کی کامیاب پالیسیوں کی علامت ہے۔

وزراء کے بیانات سے پر یقین پختہ ہوگیا ہے کہ سب کے سب ہی اہل علم میں سے ہیں انہیں تعلیمی اداروں میں بطور معلم بھی کام کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں غرق ہوسکیں۔

ان کے بیک گراؤنڈ کوالیفکیشن کا علم تو نہیں لیکن اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تمام قومی و بین الاقوامی قوانین، معیشت، سماجیات، سیاسیات، طب، زراعت، مذہب پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔

قصہ مختصر حکومت کے اچھے کاموں کو نہ سراہنا انتہائی زیادتی ہے، حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے، ہمیں خوشی ہے کہ حکومت نے مین سٹریم میڈیا کو بہتر نتھ ڈالی ہے، تاکہ یہ میڈیا ادارے بحرام کا شکار ہو کر ان تمام صحافیوں کو سبق سکھا دیں جو حکومت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلاتے رہے ہیں۔

پاکستان کی جاہل قوم کو علم ہی نہیں کہ اس وقت ففتھ جنریش وار کا آغاز ہو چکا ہے، افغانستا، بھارت، امریکہ، روس برطانیہ اور اسرائیل جیسے ممالک نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر نظر رکھی ہوئی ہے، یہ تمام ممالک پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے خوفزدہ ہیں۔

ہم اس بات کی حمایت کرتے ہیں سوشل میڈیا سب سے زیادہ خطرناک بن چکا ہے جس کے پریشر سے حکومت کو کام نہیں کرنے دیے جا رہے، لوگ ریاست کے خلاف جھوٹ پھیلاتے ہیں، لوگ دفاعی بجٹ کا سوال کرتے ہیں، لوگ پختون، بلوچستان لے حالات پر جھوٹ بولتے ہیں۔

سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ساہیوال واقعہ ہو یا اس طرح کا کوئی اور آپریشن جو دہشتگردوں کے خلاف کیا جاتا ہے، اس پر غلط معلومات پھیلا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے اس لیے حکومت کا اس دجالی سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے فیصلے کی کھلے دل سے حمایت کرتے ہیں۔

ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریاست کے تمام شہریوں کا مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہی سب کا فرض ہے، قومیں اتحاد سے بنتی ہیں اور اچھی باتوں سے حکومت کا بھی حوصلہ بڑھتا ہے، حکومت نے اس وقت قوم کو جس قدر کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود حوصلہ دیا ہے تو آپ سب کا حق ہے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کا حوصلہ بڑھائیں چاہے تعریفوں کے لیے جھوٹ بھی کیوں نہ بولنے پڑیں۔

Facebook Comments HS