ادب، ادیب اور معاشرتی رویے
ادیب کی حیثیت کسی بھی معاشرے کے لیے ارتھ ورم کی سی ہے۔ عجیب سی بات نہی ہو گئی کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو ایک کیڑے سے مشابہت۔ اس کے لیے ارتھ ورم یعنی کیچوے کا تعارف ضروری ہے۔
کیچوا ایک کسان دوست کیڑا ہے جو زمین کی زرخیزی میں کئی طرح سے اضافہ کرتا ہے۔ یہ گلے سڑے نامیاتی و نباتاتی معدوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرکے ایکو سسٹم کو مینٹین رکھتا ہے۔ نامیاتی معدوں کو کی ترکیب میں مثبت تبدیلیاں لا کر ان کو مٹی میں مکس کر دیتا ہے۔ یہ عمل زمین کی زرخیزی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کیڑے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ عمل تنفس اپنی جلد سے کرتا ہے۔ اسے بائیولوجیکل پسٹنز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
یہ ہوا کو مٹی میں مکس کر کے اس میں جان ڈال دیتا ہے۔ چالس ڈارون کے بقول دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور جانور نے ایکولوجیکلی اتنا فائدہ پہنچایا ہو جتنا کہ اس خوب صورت تخلیق نے۔ یوریائی کھادیں زمیں کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جس سے اس ماحول دوست تخلیق کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یوں مصنوعی طریقوں سے زرخیزی بڑھانے کے چکر میں قدرتی خداد صلاحیتوں کو تلف کر دیا جاتا ہے۔
جس طرح کسی بھی زمین کی زندگی اور شادابی اس کے زرخیز ہونے سے مشروط ہے اسی طرح ایک معاشرہ ادب سے تمدن و تہذیب کا گہوارہ بنتا ہے۔ ادب کے بغیر معاشرے مردہ ہوتے ہیں۔ تہذیب و تمدن ادب کی اولاد ہیں۔ ادب نہی تو معاشرہ اس بنجر زمین جیسا ہوتا ہے جہاں خود رو جھاڑیاں ہی اگتی ہیں۔ ادب معاشرے کو اسی طرح آکسیجن مہیا کر کے زندہ کرتا ہے جیسے کیچوا زمین کو قوت و مضبوطی۔ ادب ہی ہے جو حسین تخیلات کو کہیں الفاظ کا جامع پہنا کر تو کہیں رنگوں کے کینوس پر سجاکر دل نشیں و مرمریں وجود فراہم کر کے زندگی کو جینے اور محظوظ ہونے کا جواز مہیا کرتا ہے۔
بے ربط و بکھرے موتیوں کو مالا میں پرو کر گوہر نایاب کرنا بس ادب ہی سے ممکن ہے۔ ادب کسی قوم کے لیے مردہ وجود میں روح کے مانند ہے‘ جس سے زندگی کا شعور ملتا ہے۔ ادب سے جینے کا قرینہ آتا ہے اور اسی سے مقصد حیات کی موشگافیوں کا ادراک ہوتا ہے۔ انسانی نفسیات کی ان گنت پرتیں ہیں جن کا فہم ادب کی نمو سے متصل ہے۔ معاشرتی زندگی کی بقا ادب کی نمو میں ہے۔
ادب کے وجود کا سب سے بڑا مظہر تخلیق کائنات ہے کہ کس طرح اکائیاں اپنے اپنے افعال کی انجام دہی سے وجود کائنات کو رنگ بخشے ہوئے ہیں۔ کارخانۂ قدرت کے سبھی رنگ ایک مصور کے ید طولی کا شاندار مظہر ہیں۔ اب یہ انسانوں پر منحصر کہ بے مثال فن سے کس طرح زندگی سجاتے ہیں۔
ادب سے انسانیت کو روشناس کروانا سب کے بس کی بات نہی۔ کچھ لوگ اس قدر حساس طبع ہوتے ہیں کہ زندگی کی باریکیوں کا خورد بینی مشاہدہ کرتے ہیں۔ پھر اپنے اپنے ذوق کے مطابق اسے سجا سنوار کر فلاح عامہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ مصوری احساسات کے بیاں کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ سائنسی ایجادات بھی ادب کی ایک قسم ہیں کہ ادیب زندگی اور اس سے وابستہ چیزوں کو اپنی طبع کے مطابق مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ادب کی ایک قسم جس نے معاشرتی زندگی کو دستور مہیا کیا کتابت ہے۔
ادب کی تخلیق کا جامع اور مفصل بیان جس نے عوام و خواص کو یکساں سیراب کیا تصنیفی ادب ہے۔ تاریخ کا مستند ترین حوالہ کتابی شکل میں موجود رہا ہے۔ کتابیں انسانی تاریخ کو اس طرح بیان کرتی ہیں کہ قاری کا انہماک اسے دور کسی پتھروں کے زمانے میں لے جاتا ہے۔ بابل و عراق کی تہذیبوں کی سیر ادب کے بغیر ممکن ہی نہی۔
ایک ادیب جب اپنے احساسات سے معاشرے کے دکھ درد، خوشی و مسرت محسوس کرکے انہیں بیان کرتا ہے تو معاشرت کے نت نئے اسلوب متعارف کرواتا ہے۔ ایک متوازن ادب پارہ زندگی کے مصائب و آلام کے مطالعہ کا عکس بن کر امرت کا کام کرتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز جو عمومی طور پر افراد کو متاثر کرتے ہیں ایک ادیب کے نذدیک پورا معاشرتی نظام ان تبدیلیوں کے زیر اثر تغیر پذیر ہوتا ہے۔ عمومی رجحان کی مجموعی کیفیت کو انسانی نفسیات و رجحانات کے پیرائے میں ڈھال کر ایک ادیب طبقاتی تفاوت کے بیانیے کو حقائق کی روشنی، گاہے معروف گاہے متروک اسالیب سے، میں ڈھالتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ ادبا کا طرز بیان عوام و خواص میں یکساں شہرت نہ پا سکا لیکن ان کی تخلیقات نے عمومی رجحانات کو متاثر ضرور کیا۔ طبقاتی فرق نے ادب کی سمتیں متعین کرنے کی کوشش میں ادیبوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس سے ہمارے معاشرے میں ادب کی ترویج اس طرح سے نہ ہوسکی جیسے ہونی چاہیے تھی۔ کہیں پہ منٹو کو متروک کیا گیا تو کسی نے نسیم حجازی جیسے ناول نگار پر قدغن لگانے کی سعی کی۔
پس الفاظ جو ان کا مقصد تھا اسے یکسر نظرانداز کیا گیا۔ وہ سرزمین جس پہ ہیر رانجھا جیسی داستان سے معاشرتی رویوں کو اجاگر کیا گیا، اب شاذ و نادر ہی کوئی ایسی شاہکار تصنیف دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا نہی کہ ادب جامد ہوگیا ہو۔ معاشرے سے مقامی ادب کی چاہت نکل رہی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ادیبوں کو بانٹ لیا گیا اور ان کے کام کو قومی عصبیتوں کی نظر کرکے اشاعت کو صوبائیت اور قومیت کی سرحدوں میں محدود کرلیا گیا۔ ایسا کوئی انتظام ہی نہ ہوسکا کہ پنجاب کے کتب خانوں سے اس خوشحال خان خٹک کی پہچان پنجابیوں کو کروائی جاسکے جس کے کام سے اقبال نے استفادہ کیا ہو۔ عبدالطیف بھٹائی سندھی درسی کتب تک محدود کردیا گیا اور مست توکلی کے کام کو بلوچستان کے ایک مختصر سے حصے میں دبیزپردوں تلے ڈھانپ دیا گیا۔
اس سب کے پیچھے نجانے کیا مصلحتیں کارفرما تھیں، لیکن جیسے بھی کیا گیا ادب سے دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔
پرانے ادب کو دبا دینے سے ادبی تخلیق کو گہنا دیا گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ کتب بینی کا مشغلہ دم توڑ گیا۔ کہیں تصنیفات سینسرشپ کی زد پر آئی تو کچھ کتب خانوں کی الماریوں میں مٹی کی تہوں تلے دب کے رہ گئیں۔ زمانے کی رفتار سے مرعوب ہو کر لائبریریوں میں ادبی نثر پاروں کی جگہ سائنسی و نصابی کتب نے لے لی ہے۔ کتابوں سے دوری کا نقصان یہ ہوا کہ انسانی رویے انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں متشدد ہو گئے۔ عدم برادشت سے مکالمے کی راہیں مسدود ہو کے رہ گئیں۔
رشتوں کا احترام اور خاندانی نظام جو شاندار مشرقی روایات کی عالمگیریت کا امین تھا‘ کا شیرازہ بکھر گیا۔ معاشرے میں بڑھتی جرائم اور طلاق کی شرح اسی نفسیاتی الجھن کے باعث ہے۔ اس تمام صورت احوال میں جہاں معاشرتی رویے انسانی نفسیات کی نئی جہتوں سے محروم ہیں‘ وہیں ادیب کس مپرسی کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں۔ رہی سہی کسر الیکٹرونک مشینوں نے پوری کردی۔ ادب اور کاغذ کا صدیوں کا رشتہ جس کی منفرد خوش بو سماجی الجھنوں کے لیے تریاق کا کام کرتی ہے‘ ناپید ہو رہی ہے۔
اس کی بقا کے لیے حکومتی سطح پر ادب کی ترویج و حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ علمی حلقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ معاشرے میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ کتابوں سے دوستی ہی سماج میں پھیلتی] بے چینی و عدم برداشت کا واحد حل ہے۔ کتابیں ضبط و احترام باہمی کی بہترین مبلغ ہیں۔ ان کی اشاعت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتی مادیت پرستی و شکم پرستی کو کم کر کے ہی ادب ادیب کو بچایا جا سکتا ہے۔ تحفے تحائف کا نظام کسی صورت باقی ہے۔ اگر اسی کا سہارا لے لیا جائے تو راہیں نکل سکتی ہیں۔ اس کے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح آج کل میل جول بڑھانے کے لیے ضیافتوں کا اہتمام بڑے شوق سے کیا جاتا ہے اگر ایسے موقعوں پر مادی اشیا کے تبادلے کی جگہ اپنے اپنے ذوق کے مطابق ادبی کتب کا تبادلہ کیا جائے تو نہ صرف ادیبوں کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ رشتوں کی اہمیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ لوگوں کی نفسیات سے آگاہی ہوگی اور تعلقات کی مٹھاس بڑھنے سے انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں چاشنی بڑھ جائے گی۔


