پلوامہ حملہ اور ہمارے کرنے کے کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں حملے بعد بھارتی موقف کی تائید میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔ جب کہ پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی سطح پر ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ دوسری طرف جیش محمد نے واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔ اب ہم جتنی بھی وضاحتیں دیتے رہیں لیکن دنیا کے نزدیک ہم قصور وار ٹھہرائے جا چکے ہیں۔

یہ صورت حال پاکستان کی خارجہ پالیسی کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب سے بھارت میں مودی کی حکومت بنی ہے، ہر الیکشن سے پہلے اور سال کے آغاز میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے اور بھارتی میڈیا شور ڈال دیتا ہے کہ یہ پاکستان نے کرایا ہے۔ بھارتی عوام کے جذبات کو بھڑکا کر مودی کی بی جے پی الیکشن جیت جاتی ہے۔ ادھر پاکستان میں گزشتہ کئی برس سے تواتر سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اتنا شور نہیں ہوتا جتنا بھارت کے سال میں اک آدھ واقعے پر مچ جاتا ہے، جب کہ بھارت کے پاس پاکستان کی انوالمنٹ کے کوئی واضح ثبوت بھی نہیں ادھر ہمارے پاس زندہ سلامت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو موجود ہے۔ یہ صورت حال ہماری پروپیگنڈا وار میں ناکامی کا ثبوت ہے۔

عمران خان نے نواز شریف کو مودی کا یار اور ملک کا غدار قرار دیتے ہوئے حکومت سنبھالنے کے بعد کرتار پور بارڈر کھولنے کے انتظامات کر ڈالے، جب کہ دوسری طرف مودی نے بنگلہ دیش میں جا کر مکتی باہنی میں شمولیت کا دعویٰ کر کے اس بات کا ثبوت دیا کہ سقوط ڈھاکہ میں بھارت کتنا ملوث تھا۔ یہ صورت حال پاک بھارت تعلقات میں سیاسی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ اب اصل بات یہ ہے کہ ہمیں بھارت کے متعلق اک فیصلہ کرنا ہو گا، اگر تو ہم نے دوستی کرنی ہے جو کہ میرے خیال میں اچھا فیصلہ ہو گا تو پھر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی جیش جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔

ہماری دشمنی امریکہ جاپان یا فرانس جرمنی سے زیادہ بڑی نہیں۔ امریکہ نے جاپان میں ایٹم بم تک چلا دیے تھے۔ جنگوں بلامبالغہ کروڑوں لوگ کھیت ہوئے لیکن آج امریکہ اسی جاپان کی مصنوعات کی بہت بڑی منڈی ہے اور کروڑوں ڈالرز کا مقروض بھی، آج آپ فرانس میں ٹرین پر بیٹھیں اور جرمنی جا کر اتریں بیچ میں کب کہاں بارڈر آیا عام آدمی کو پتا ہی نہیں چلتا۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اگر ہم نے دشمنی نبھانی ہے تو عالمی فورم پر بھارت کے زہریلے پروپیگنڈے کا جواب دینا ہو گا، بھارتی میڈیا ہر واقعے کے بعد جس طرح ہم پر چڑھ دوڑتا ہے یہاں سے اس سے بھی سخت جواب دینا ہو گا۔ بھارت نے اپنے پروپیگنڈے کی بدولت کشمیر تحریک کو دہشت گردی بنا ڈالا ہے۔ اب کشمیر میں بھارتی مظالم میں جواب کوئی اگر کوئی مسلح جدوجہد ہوتی ہے تو بھارتی میڈیا اگلے پانچ منٹ میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے اور ہم آگے سے وضاحتیں دیتے رہ جاتے ہیں۔

سب سے پہلے پاکستانی حکومت کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ دنیا کے ممالک کی آپس میں ہم مذہب مسلم امہ یا دوستی وغیرہ کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا صرف باہمی مفادات کا رشتہ ہوتا ہے۔ بھارت ڈیڑھ ارب کے قریب آبادی رکھنے والی اک بہت بڑی مارکیٹ ہے اوردنیا کے تمام ممالک اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی فوائید کے حصول کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی مفادات کے پیش نظر یو اے ای مسلم دشمنی کے لیے مشہور بھارتی وزیر اعظم کو خصوصی پروٹوکول دیتا ہے اور ملک میں مندر کا افتتاح کراتے ہیں۔

دوسری طرف انہیں مفادات کے چلتے سعودی عرب اسی مودی کو سعودیہ کا سب سے بڑا سول اعزاز دیتے ہیں۔ اس مارا ماری کے دور میں اگر ترکی اور چین جیسے ممالک عالمی سطح پر ہمارا ساتھ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے وزیر ٹوئٹر پر شیخیاں بھگار کر ان ممالک کو ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیتے ہیں۔ نتیجاً وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پاکستان ریڈ گرے بلیک سمیت نجانے کس کس کلر لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے اسے ڈپلومیسی بلنڈر کہتے ہیں۔

پاکستان کو ان حالات میں عالمی سطح پر مضبوط پروپیگنڈا کرنا ہو گا ترکی چین روس جیسے ممالک کو ساتھ ملا کر بھارتی عیاریوں مکاریوں اور در اندازیوں کو موثر انداز میں دنیا کو دکھلانا ہو گا۔ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو موثر انداز میں بلاتعطل بتلاتے رہنا ہو گا۔ اس سے قبل بھارت ہم پر الزام لگائے اور ہم دفاعی انداز میں وضاحتیں دیتے رہ جائیں، ہمیں بھارت پر الزامات کی بارش کر کے اٹیکنگ پوزیشن میں آنا ہو گا۔ کلبھوشن جیسے زندہ جاسوس کو بھارتی دراندازی کے ثبوت کے طور پر پروپیگنڈے کا حصہ بنانا ہو گا اور اپنی معصومیت و مظلومیت دنیا کو ثابت کرنا ہو گی۔

اس کے علاوہ ہمیں ہر اس متنازع نان سٹریٹیجک اثاثوں سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی جن کی جذباتیت بطور ریاست ہمیں فائدے کی بجائے نقصان دیتی ہے۔ اب میڈیا و پروپیگنڈے کا دور ہے اس کے لیے کسی انسان کے خون کو بہانے کی ضرورت نہیں بس صرف مضبوط دلائیل اور ثبوتوں کے ساتھ بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں