بھرم بازی مہنگی پڑ سکتی ہے!


چار دن قبل ایک خبر واٹس ایپ کے ذریعے ملی کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا اور طالبان وفد اور امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کی ملاقات قائد انقلاب صاحب سے بھی متوقع ہے۔ تشکیک کے مارے ذہن میں اس وقت سے بہت سے وسوسے سر اٹھا رہے ہیں، اور بہت سے خدشات ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے اور وہاں سے آنے والی خبر کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے والوں میں سلیم صافی صاحب کا معتبر مقام ہے۔

اس خبر پر انہوں نے ٹوئٹ کے ذریعے ردعمل دیا جس سے دل کی بے سکونی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے ‏ ”کریڈٹ کے چکر میں طالبان کو مذاکرات کے نام پر اسلام آباد بلانا، احمقانہ اقدام ہے جس پر خاکم بدہن بعد میں ہم پچھتائیں گے۔ یہ درحقیقت مذاکرات بھی نہیں بلکہ وزیراعظم، بعض دیگر شخصیات اور زلمے خلیل زاد کی ملاقاتیں ہیں جو صرف اور صرف وزیراعظم کی ضد اور زلمے خلیل زاد کی خواہش پر ہو رہے ہیں“۔ درویش کی ناقص سوچ میں واقعتا عالمی سطح پر اپنا معتبر نام اور اثر و رسوخ ثابت کرنے کی کوشش آنے والے دنوں پیر تسمہ پا بن کر کس طرح ہماری جان کو چمٹ سکتی ہے، نیا پاکستان بنانے کی تمنا میں بیٹھے جوش سے بھرے انقلابیوں کو اس کی شاید خبر نہیں۔

کیا وجہ ہے، جس کی بنا پر ہم اتنے حساس ہو رہے ہیں۔ یاد داشت جس کی ساتھ دے اسے پتہ ہو گا گذشتہ سے پیوستہ سال امریکیوں کی فراہم کردہ انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ہماری فورسز نے کارروائی کی اور قبائلی علاقوں سے ایک مغوی کینڈین جوڑے کو بازیاب کرالیا۔ اس کے فورا بعد ہماری جانب سے دنیا کو اپنی کارکردگی اور فعالیت بتائی گئی۔ امریکا بہادر نے بھی تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسائے، یہ مژدہ بھی سنایا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہوگا اور باہمی اعتماد میں اضافے کی جانب اٹھایا جانے والا یہ قدم پاکستان کی نیک نیتی ثابت کرتا ہے۔ ان باتوں کی بازگشت ختم نہ ہوئی کہ امریکی نائب صدر نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فون کیا جس میں انہوں نے پاکستان سے ”دہشت گردوں“ کے خلاف مزید کارروائیوں کا مطالبہ کیا اور پھر ہفتوں کے دوران امریکی لب و لہجے بدلنے لگے، جو زبانیں تعریف میں رطب السان تھی وہ دھمکیوں اور بے توقیری پر اتر آئیں۔

کینڈین جوڑے کی بازیابی کے دوسرے دن درویش نے لکھا تھا، ہم ایک بار پھر ”ہنی ٹریپ“ کا شکار ہونے والے ہیں۔ میرا اصرار تھا کہ امریکا نے یہ جال ہمیں ڈومور کے لیے تیار کرنے کے لیے ہی بچھایا ہے اور ہم اپنی روایتی سادگی اور بھرم بازی کے چکر میں اس کا شکار ہوگئے ہیں۔ اب امریکا کے پاس پروپیگنڈے کے لیے بہانہ دستیاب ہوگا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے پاکستانی سر زمین پر اب بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور اس کی تصدیق خود پاک فوج کے ترجمان کے بیان سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکا کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان کی سر زمین پر کچھ علاقے ہیں جہاں کے بارے میں پاکستان کو کچھ علم نہیں کہ وہاں کون آ اور جا رہا ہے۔ بعدازاں دنیا نے دیکھا اس آپریشن میں فوجی جوانوں کی شہادت کو بنیاد بنا کر امریکا نے پاکستان کے اس دعوے کو جھٹلانے کی بھرپور کوشش کی کہ ہم نے اپنے تمام علاقے کلیئر کروا لیے اور مطالبہ ہونے لگا اب بھی بہت سے علاقے حکومتی عملداری سے باہر اور فوج کے لیے نوگو ایریاز ہیں۔ لہذا امریکی حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ابھی پاک فوج کو مزید کام کی ضرورت ہے اور اس کے لیے امریکا کے ساتھ جوائنٹ آپریشن یا کم از کم فراہم کردہ اطلاعات پر عملدرآمد ضرور لازم ہے۔

پھر خبر ملی کہ امریکا نے دھمکی دی تھی اگر اس اطلاع پر فوری کارروائی نہ کی تو بصورت دیگر امریکا خود ایبٹ آباد طرز کی کارروائی کرے گا۔ یہ خبر اگر درست تھی پھر تو خیر کارروائی لازم تھی کیونکہ امریکی فوج خود کارروائی کرتی تو بہت زیادہ سبکی کا اندیشہ تھا۔ لیکن اس کارروائی کے بعد بڑھتے امریکی دباؤ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے لازم تھا امریکا سے کھل کر پوچھا جاتا آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیشہ سیٹلائٹ نے مشتبہ افراد کی ہماری حدود میں داخلے کے بعد ہی نشاندہی کی؟

حکیم اللہ محسود، ملا اختر منصور کو پاک سر زمین پر ہی کیوں نشانہ بنایا گیا؟ جب ہم ننگرہار میں فضل اللہ کی موجودگی کی بار بار نشاندہی کرتے تھے اس کے خلاف وقت پر کارروائی کیوں نہیں کی؟ سب سے بڑھ کر اس چیز کی جواب طلبی لازم تھی جب اس جوڑے کی افغان زمین پر نشاندہی ہوگئی تو وہیں پر کارروائی کیوں نہ کی اور اسے ہماری حدود میں داخل ہونے کا موقع کیوں فراہم کیا؟

خدا کرے کہ یہ گمان غلط ثابت ہو مگر حالات یہی بتا رہے ہم نادانستگی اور سادگی میں ایک بار پھر امریکی سازش کا شکار ہونے جارہے ہیں۔ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اونٹ اب تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔ طالبان واضح طور پر ڈٹے ہیں کہ بیرونی افواج کے انخلا، افغان آئین کی تبدیلی، اور ان کی شمولیت کے علاوہ کسی سیاسی بندوبست پر وہ راضی نہیں ہوں گے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل ایک انٹرویو یہ کہہ کر ہمارے اثر و رسوخ کی اہمیت بھی بیان کر دی تھی کہ وہ کسی بیرونی دباؤ پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی قابض قوت کے بنائے آئین کو تسلیم کریں گے۔

یہ بھی سب کے سامنے ہے جب پچاس ممالک اور ڈیڑھ لاکھ افواج افغانستان میں موجود تھی اس وقت طالبان نے دباؤ میں سمجھوتا نہیں کیا تو اس وقت جب وہ فاتح ہیں کیوں سمجھوتے پر تیار ہوں گے۔ جبکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ، کانگریس، اور امریکی صدر کی متضاد رائے اور خیالات بھی آشکار ہیں۔ ٹرمپ گرتی معیشیت کو سہارا دینے اور جنگ کے باعث بڑھتے خسارے اور قرض کی وجہ سے پریشان ہیں اس لیے جلد از جلد انہیں جنگ بندی کی جلدی ہے۔ سمجھنا ہو گا امریکا بہرحال عالمی طاقت ہے اور طالبان جو شرائط عائد کر رہے ہیں ان کو قبول کرتے ہوئے فورا افغانستان سے نکلنا اس کی بچی کھچی عزت پر دھبہ ہوگا۔ امریکیوں کو فیس سیونگ چاہیے، طالبان اگر اپنی شرط پر اڑے رہے تو آگے چل کر ہم پر دباؤ میں اضافہ ہوگا کہ جس طرح طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کیا اسی طرح انہیں کسی قابل قبول حل پر قائل کریں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ابھی آئی ایم ایف کے در پر ہیں، آمدن میں بڑھوتری کے اثرات دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔ یہ قرضہ مل گیا تو کچھ وقت بعد اس کی اور پہلے سے موجود قرض کی ادائی سر پر آ جائے گی۔ یہی وہ وقت ہو گا ہمارے دوست ملک چین سے سی پیک منصوبوں کی مد میں حاصل قرضے لوٹانے ہیں۔ جوں جوں ہم اس صورتحال کے قریب پہنچیں گے توں توں ہمارے لیے خطرات، خدشات، سانحات، مشکلات، آفات، صدمات کا اندیشہ بڑھتا جائے گا اور مطالبات منوانے کی خاطر دھونس، دھمکی، لالچ، ترغیب اور تحریص سے کام لیا جائے گا اور ناکامی کی صورت معاشی میدان میں ہماری مشکیں کسی جائیں گی۔

ضرورت اس امر کی ہے خوامخواہ علاقائی امن کے ٹھیکیدار بننے کی کوشش ترک کریں، ذرا سی عزت ملنے پر ملنے آپے سے باہر نہ ہوں، اپنے حواس مجتمع رکھیں، جلد بازی سے گریز کریں اور کسی دباؤ میں آ کر اس قضیے میں مزید اپنا کردار بڑھنے نہ دیں۔ سب سے بڑی بات سیاسی حدت کم کریں، اختلافات ختم کر کے اندرونی طور پر متحد ہوا جائے کیونکہ طاقت کے مراکز کے درمیان اختلافات یا تضادات کے ہوتے ہوئے بیرونی دباؤ کا مقابلہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS