محمد بن سلمان اور عمران خان میں مماثلت
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد آمد ہے۔ ان کے استقبال کے لیے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویٰ دار وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے سئینر وزراء کے ساتھ بنفس نفیس خود ائرپورٹ پر استقبال کریں گے ۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔
ولی عہد بننے سے قبل شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ جدید سعودیہ کی بنیاد رکھیں گے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انسانی قدروں سے انھیں شناسائی ہے۔ وہ پابندیوں میں جکڑے سعودی معاشرے کو اظہار رائے کی آزادی دیں گے۔ مگر ولی عہد بننے کے بعد وہ مطلق العنان بننے کی راہ پر چل پڑے۔ انھوں نے ہر اُس آواز کو دبا دیا جو ان کی پالیسوں پر تنقید کرتی تھی۔ جمال خاشقجی کا قلم ان کی پالیسوں کے خلاف اُٹھا تو انھوں نے اسے نشان عبرت بنا دیا ۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بارے میں بھی اقتدار میں آنے سے قبل تاثر عام تھا کہ وہ شخصی آزادیوں کے علمبردار بن کر سامنے آئیں گے۔ لوگوں کو اظہار کی مکمل آزادی ہو گی۔ مگر میری امیدوں کا محل اس وقت زمین بوس ہو گیا جب انھوں نے اپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو پابند سلاسل کرنا شروع کر دیا۔ ہر اُس ہاتھ کو روکا جا رہا ہے جو قلم پکڑ کے ان کے کارناموں کو طشت ازبام کر رہا ہے۔ ہر اُس آواز کو دبایا جا رہا ہے جو حکومت کی غلط پالیسیوں پر روک لگا رہی ہے۔ دانشوروں کا کام حکومت کے اچھے کاموں کی تحسین کرنا اور غلط پالیسوں پر اصلاح کی غرض سے تنقید کرنا ہوتا ہے مگر حکومت وقت یہ چاہتی ہے کہ راوی چین ہی چین لکھے۔
محمد بن سلمان نے ولی عہد بننے کے فورا بعد اپنے سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل کیا۔ سیکنڑوں کی تعداد میں دانشور، علمائے حق پابند سلاسل ہیں یا پھر ان کی جبری زبان بندی کر دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی کہ وہ وہاں جا کر دنیا کو ان کے حالات سے آگہی دے سکیں۔
عمران خان جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کو سینگوں پر رکھ لیا، انھیں پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے نعرے محض نعرے ہی رہے۔ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے پنجاب اور کے پی کے میں ڈمی وزرائے اعلیٰ کا تقرر کیا گیا۔ کے پی کے اور پنجاب کے تمام فیصلے اسلام آباد کے مضافاتی ایریا بنی گالا سے ہوتے ہیں۔ عمران خان نرگیست کا شکار ہیں وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں دوسروں کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے۔
عمران تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے بزرجمہر فواد چوہدری پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کی چتاؤنی دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آمریت کے بستر انسانی کھالوں کے خیموں میں بچھتے ہیں اور ہم پر بھی جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط ہے۔ انسانی کھالوں کے خیمے بنانے کے لیے صف بندی ہو رہی ہے۔
"خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوتا ہے، ہم کون ہوتے ہیں پابندیوں میں جکڑنے والے "
ہے نہ حیران کر دینے والی بات کہ حضرت عمرؓ کے ملک سعودیہ میں ولی عہد محمد بن سلمان نے شہریوں پر ہر طرح کی پابندی لگا رکھی ہے اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویٰ دار حکمران بھی اپنے شہریوں پر پابندی لگا رہا ہے یا لگا دی گئی ہیں۔ کتنی مماثلت پائی جاتی ہے دونوں حکمرانوں میں ۔۔۔۔۔۔


