پروانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ہفتے جب شمع کی میت کو مسجد لے جایا گیا تو عقیلہ سے نہ رہا گیا۔ وہ بے اختیار بھاگ کر مسجد پہنچ گئی۔ بال بکھرے ہوئے اور سر سے دوپٹّہ سِرکا ہوا۔ اسے دیکھ کر مسجد کا امام مولوی امین الدّین گھبرا گیا۔ عقیلہ نے بڑھ کر امین الدّین کا گریبان پکڑ لیا۔ ’میری بچّی، میری شمع کے قاتل تم ہو! اگر تم یہ کلینک بننے دیتے تو شمع آج زندہ ہوتی، وہ ٹھیک ہو چکی ہوتی۔ ‘

اب وہی عقیلہ یہ تہیّہ کر رہی تھی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہفتے میں دو بار امین الدّین کو اچھا کھانا بنا کر بھیجے گی۔

شمع چھ ماہ قبل بیمار ہوئی تھی۔ پیٹ میں درد رہتا تھا۔ عقیلہ اور اس کے شوہر فیض کو یقین تھا کہ یہ بیماری پینے کے پانی سے لگی تھی۔ یہ لوگ تو بعض دفعہ پانی کے لئے ترس جاتے، فلٹر لگوانا تو دور کی بات تھی۔ ک ئی ڈاکٹروں کو دکھایا، ک ئی ٹیسٹ کروائے، بہت دوائیاں بدلیں لیکن شمع کو عارضی طور پر کچھ فائدہ ہوتا اور پھر وہی تکلیف۔ شمع کی بیماری نے گھرانے کو کنگال کر دیا تھا۔ نماز کے بعد عقیلہ لمبی لمبی دعائیں مانگتی کہ اس کی دس سالہ بچّی کو آرام آجاے ٔ، وہ دوبارہ کھیل کود سکے اور اسکول جانا شروع کردے۔

عقیلہ نا امید نہیں تھی۔ اس کے گھر کے پاس ایک کلینک بن رہا تھا جہاں مریضوں کا معیاری اور مفت علاج ہو نا تھا۔ تعمیر کا سامان باقاعدگی سے آ رہا تھا اور دو چوکیدار اس کی نگرانی پر معمور تھے۔ پچھلے ہی ہفتے سماجی کارکنوں کا ایک وفد آیا تھا۔ انہوں نے محلّے کے لوگوں کو تفصیل سے کلینک کے بارے میں بتایا کہ یہ کلینک تجربہ کار ڈاکٹروں اور جدید آلات سے لیس ہو گا۔ انہوں نے کہا یہ بھی بتایا کہ ان کی تنظیم کے پاس اتنا چندہ جمع ہو چکا ہے کہ اب وہ کلینک کی تعمیر بہت تیزی سے مکمل کر سکتے ہیں۔

طبّی آلات کا بھی آرڈر دے دیا گیا ہے جن میں ایکسرے کی مشین، خون، پیشاب اور پاخانہ کے ٹیسٹ کرنے کے آلات بھی شامل ہیں۔ عقیلہ جب کبھی کلینک کی زیرِ تعمیر عمارت کے قریب سے گزرتی تو سوچتی کہ یہ دو تین ماہ کسی نہ کسی طرح گزر جائیں گے۔ پھر وہ خود بھی شمع کو کلینک لا سکتی تھی، اس طرح فیض کے کام کا حرج نہیں ہو گا۔ اس کو پوری امید تھی کہ یہ لوگ شمع کا صحیح علاج کریں گے۔

جنوری کا مہینہ تھا۔ عقیلہ کا دل چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر کے لئے وہ دھوپ میں بیٹھ جائے لیکن اس چھوٹے سے گھر میں دھوپ کی آمد پر شاید پابندی تھی۔ کبھی کبھار تو اسے فرصت کے کچھ لمحات نصیب ہوتے تھے۔ شمع کی تیمارداری اور گھر کا سارا کام وہ خود ہی کرتی تھی۔ اچانک عقیلہ کو گلی کی طرف سے کچھ شور سنائی دیا۔ اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ پھر گھر سے باہر آگیٔ۔ پتہ چلا کہ کلینک کی عمارت پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سن کر عقیلہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زمین کے اندر دھنسے جا رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آرہی تھی۔

محلّے کی کچھ عورتیں اسے ساتھ لے کر کلینک کی جانب چل دیں۔ وہاں جا کر دیکھا کہ زمین کے تقریباً ایک تہائی حصّے پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی وضع قطع سے یہ لگ رہا تھا کہ یہ کسی مدرسے سے آئے تھے۔ گلی کے کونے پر رہنے والی بلقیس عورتوں کے اس ہجوم کی رہنمائی کر رہی تھی۔ یہ سب عورتیں عمارت کے اندر چلی گئیں۔ قبضہ کرنے والے نوجوان عورتوں کی آمد پر حیران تھے۔ بلقیس نے آگے بڑھ کر بلند آواز میں پوچھا ’آپ لوگ کون ہیں اور یہاں آکر کیوں بیٹھ گئے ہیں۔ یہاں پر تو کلینک بن رہا ہے۔ ‘

کچھ دیر تو خاموشی رہی پھر ایک قدرے بڑی عمر کا جوان کھڑا ہوا اور بولا ’ہم کلینک کی تعمیر میں خلل پیدا کرنے نہیں آے ٔ ہیں۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ کلینک کے اندر ایک مسجد بھی بنے تاکہ مریضوں اور عملے کے لئے کوئی عبادت کا انتظام ہو۔ ‘

بلقیس کوئی جذباتی عورت نہیں تھی۔ ’آپ لوگ کلینک کے منتظمین سے بات کریں اور وہ ضرور ایک کمرہ نماز کے لئے وقف کر دیں گے۔ ‘

اس پر نوجوان نے نظر جھکا کر جواب دیا ’ہمیں ایک کمرہ نہیں چاہیے بلکہ پوری مسجد یہاں بنانی ہے کیونکہ اس علاقے میں کوئی مسجد نہیں ہے۔ ‘

ادھر انجینئر اور کاریگر سب کام کرنے کے لئے پہنچ گئے تھے۔ انجینئر غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا ’یہ پلاٹ پہلے ہی کلینک کے لئے زیادہ بڑا نہیں ہے۔ اس میں مسجد کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ اس کے علاوہ یہ نقشے بلدیہ سے منظور ہو چکے ہیں اور انہی کے مطابق کام ہو گا۔ ‘

انجینئر اور اس قبضہ گروپ کے سربراہ کے درمیان کچھ تلخ کلامی کے بعد انجینئر نے فیصلہ کیا کہ ان لوگوں کو نکالے بغیر کام جاری نہیں رہ سکتا۔ اس نے کاریگروں کو واپس بھیج دیا اور خود دفتر چلا گیا تاکہ سماجی تنظیم کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر اس کا کوئی حل نکالے۔

بلقیس عورتوں کا یہ چھوٹا سا وفد لے کر تھانے پہنچ گئی جو تقریباً ایک کلومیٹر دور تھا۔ تھانیدار اپنے کارندوں سے مالش کروا رہا تھا۔ اس نے عورتوں کو انتظار گاہ میں بھیج دیا۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد اس نے اردلی سے کہا ’ان عورتوں کے گھر والے کہاں مر گئے ہیں جو یہ خود تھانے آئی ہیں۔ ان کو اندر بھیجو۔ ‘

عقیلہ تو خاموش ہی رہی۔ بلقیس نے ساری بات چیت کری۔ کبھی کبھی ایک دو عورتیں اس کی ہاں میں ہاں ملا دیتیں۔ تھانیدار نے یقین دلایا ’میں آج ہی اپنے ایک افسر کو بھیجوں گا اور اگر یہ قبضہ ناجائز ہوا تو ان لوگوں کو وہاں سے ہٹوا دوں گا۔ ‘

عورتیں کچھ اطمنان کا سانس لے کر واپس آ گئیں۔ گھر آکر عقیلہ شمع کی تیمارداری میں مصروف ہو گئی۔

ک ئی دن اور گزر گئے۔ قبضہ گروپ وہیں بیٹھا رہا اور ایک چھپّر ڈال کر مسجد بنا دی۔ کلینک کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع نہیں ہوا۔ عقیلہ کی مایوسی بڑھتی جارہی تھی۔ دو دفعھ شمع کو اسپتال بھی لے جانا پڑا۔ ایک ڈاکٹر نے کہا کہ وہ سرجری کر کے دیکھے گا کہ کیا مسئلہ ہے۔ لیکن فیض اور عقیلہ کا دل نہیں مانا کہ بغیر کسی یقینی وجہ کے بچّی کے پیٹ کی چیر پھاڑ کی جائے۔ تین مہینے اور بیت گے ٔ۔ شمع کی حالت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ ایک حکیم کا علاج شروع کیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ پھر ایک دن عقیلہ صبح اٹھی تو دیکھا کہ شمع بے جان تھی۔ اس نے بیٹی کو بہت ہلایا مگر شمع تو بجھ چکی تھی۔ کلی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا چکی تھی۔ دوسری گلی میں ایک نرس رہتی تھی۔ اس کو فوراً بلوایا تو اس نے موت کی تصدیق کر دی۔

گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ محلّہ کے سب لوگ آگے ٔ۔ تدفین کی تیاری شروع ہو گئی۔ نمازِ جنازہ کا ذکر ہوا تو کسی نے کہا کہ یہ کلینک والی مسجد میں انتظام ہو جائے گا۔ عقیلہ تو غم سے مدہوش تھی۔ جب شمع کی میت کو مسجد لے جایا گیا تو عقیلہ سے نہ رہا گیا۔ وہ بے اختیار چیختی ہوئی بھاگ کر مسجد پہنچ گئی۔ ’شمع! شمع! تم کہاں ہو؟ ‘

اسے دیکھ کر مسجد کا امام مولوی امین الدّین گھبرا گیا۔ عقیلہ نے بڑھ کر امین الدّین کا گریبان پکڑ لیا۔ ’میری بچّی، میری شمع کے قاتل تم ہو۔ اگر تم یہ کلینک بننے دیتے تو شمع آج زندہ ہوتی۔ وہ ٹھیک ہو چکی ہوتی۔ ‘

فیض نے عقیلہ کو پکڑ کر پیچھے ہٹایا اور سمجھایا کہ ان سب باتوں کا ابھی وقت نہیں ہے۔ امین الدّین نے فیض کو تلقین کی کہ قبرستان سے واپس آ کر وہ عقیلہ کے ساتھ مسجد آے ٔ۔ عقیلہ بضد تھی ’میں بھی قبرستان جاؤں گی اپنی بچی کو خدا حافظ کہنے۔ مجھے چھوڑ دو! مجھے چھوڑ دو! ‘

گھبرایا ہؤا امین الدّین آہستہ سے بولا ’کوئی عورت قبرستان نہیں جائے گی۔ ‘

کئی مردوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ عقیلہ نے جب یہ سنا تو ایک ہارے ہؤے جواری کی آواز میں بولی ’ہاں! عورت کا قبرستان جانا تیرے لئے منع ہے۔ کلینک کی زمین پر قبضہ کر کے میری بچی کو مارنے کی تجھے اجازت ہے۔ ‘

فیض قبرستان سے سیدھا گھر آیا، جسم تھکا ہؤا، چہرا گرد سے اٹا ہؤا، آنکھیں بے نور۔ کچھ رشتے دار اور پڑوسی بھی اس کے ساتھ تھے۔ سب نے مل کر کھانا کھایا۔ فیض نے گھڑی میں وقت دیکھا ’چلو عقیلہ! امام صاحب نے بلایا ہے۔ ،

’نہیں۔ میں نہیں جاؤں گی اس کے پاس جس نے میری بچی کو مار دیا۔ ،

’تم کیسی باتیں کرتی ہو! امام صاحب نے تو شمع کے لئے نمازہِ جنازہ پڑھائی اور، اور قبرستان جا کر اپنے ہاتھوں سے دفنایا اور شمع کے لئے اور ہمارے لئے دعا مانگی۔ انہوں نے ہم کو اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ ہمارے بھلے کے لئے بلایا ہے۔ ‘

عقیلہ ٹوٹ چکی تھی اور اس میں انکار کرنے کی اب ہمّت ہی کہاں تھی۔ فیض عقیلہ کو لے کر مسجد چلا گیا۔ امین الدّین کو دیکھ کر فیض سے نہ رہا گیا ’یہ میری بیوی صحیح تو کہتی ہے۔ اگر یہاں کلینک بن چکا ہوتا تو شمع کا علاج ہو جاتا اور وہ ٹھیک ہو جاتی۔ ‘

امین الدّین نے کوئی جواب نہیں دیا اور اشارے سے دونوں کو ایک کونے میں بیٹھنے کے لئے کہا۔ پھر کچھ عربی میں پڑھتا رہا۔ اس کے بعد دونوں سے مخاطب ہوا۔ ’دیکھو، زندگی اور موت کا وقت مقرّر ہے اسی لئے کسی کو بھی طبعی موت کا ذمّہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شمع کا وقت آ گیا اور وہ چلی گئی۔ اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔ اس طرح کی باتیں کرنے سے ایمان کمزور ہوتا ہے۔ آپ لوگ دو نفل پڑھ کر اپنے لئے معافی مانگیں اور یہ میں آپ کو بتا دوں کہ یہ بچّی سیدھی جنّت میں جائے گی اور یومِ قیامت آپ کو بھی جنّت میں کھینچ لے گی۔ ‘

مولوی امین الدّین تقریباً آدھ گھنٹے تک دونوں کو سمجھاتا رہا۔ فیض کے چہرے پر اب بھی اضطراب تھا۔ فیض امین الدّین سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن عقیلہ کے چہرے پر اب مکمّل سکون چھا گیا تھا جیسے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو کسی دیوتا نے ایک اشارے سے خاموش کر دیا ہو۔ اس نے سوچا کہ وہ کسی اور دن امین الدّین کے پاس اکیلا آئے گا۔ فیض نے اجازت لی اور دونوں گھر واپس آگئے۔

اب عقیلہ کا معمول تھا کہ ہفتے میں وہ دو دفعہ اچّھا سا کھانا پکا کر مولوی امین الدّین کو بھیجتی اور مہینے میں ایک بار مسجد کے لئے فیض سے چوری چھپے کچھ چندہ بھی دیتی۔
فیض کبھی اس مسجد میں دوبارہ نہیں گیا۔ وہ امین الدّین کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس نے عقیلہ کو کبھی کھانا بھیجنے سے منع بھی نہیں کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •