پلوامہ حملہ اور پاکستان پہ الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ایک حملے میں پچاس سے زائد فوجی ہلاکتوں کے بعد بھارت اور پاکستان ایک مرتبہ پھر عسکری محاذآرائی کے راستے پر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین آزادی کی جانب سے یہ پہلا حملہ نہیں تھا،

تاہم جمعرات 14 فروری کے روز ہونے والا یہ حملہ ہلاکتوں کے اعتبار سے متنازعہ خطے میں ماضی میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں زیادہ خون ریز تھا۔

اس حملے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس کے ذمے دار عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔

نریندر مودی سمیت متعدد بھارتی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ’ناقابل تردید‘ ثبوت موجود ہیں اور حملے پر بھارت ممکنہ طور پر پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کے مراکز پر حملے کر سکتا ہے۔

بھارتی ہائی کمشنرکو اسلام آباد سے واپس بلا کر مزید دھمکی دی کہ پاکستان کو سفارتی طور پرعالمی سطح پہ تنہا کیا جائے گا۔

پاکستانی نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بھارتی تسلط اور جبر استبداد کے خلاف خالصتاً کشمیری نوجوانوں کی کارروائی قرار دیا ہے کیونکہ کشمیری ستر سال سے اپنی آزادی کی جدوجہد اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اور ایسے حملے بھارتی ریاستی جبر کا ردِ عمل ہیں۔

بھارت ہمیشہ سے کوشش کرتا رہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو پاکستان کی طرف منسوب کرکے دنیا کی نظروں میں دھول جھونکتے ہوئے اس کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالا جاسکے۔ کشمیری حریت پسندوں کے خلاف عوام میں غلط ‏فہمیاں پیدا کرے۔ اور اپنا ظلم و ستم چھپاتے ہوئے مختلف بہانوں کے ذریعے کشمیری عوام پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔

تاہم کشمیری عوام ‏آزادی کے ان متوالوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ کیوں کہ عوام نے ان جانبازوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے۔ وہ کوئی کرائے کے قاتل نہیں بلکہ مادر وطن کی آزادی پہ اپنی جانوں کو قربان کرنے والے انھی کے بھائی بیٹے اور انھی میں سے ہیں جنھوں نے بھارت کے تسلط اور غلامی کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔

کشمیری عوام ان سرفروشوں کے بے داغ کردار کو اچھی ‏طرح جانتے ہیں۔

جبکہ کشمیری حریت پسند جانبازوں کے خلاف بھارت کا یہ پروپیگنڈہ ناکام جنگ کی آخری ناکام کوشش اور ناکام حربہ ثابت ہوا ہے۔ ‏

بھارت ہمیشہ یہ ڈھنڈورہ پیٹتا رہا ہے کہ پاکستان کشمیری حریت پسندوں کی عسکری اور مالی معاونت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت بے بنیاد اور من ‏گھڑت الزامات کے ذریعے اپنی فوجی اور سیاسی ناکامی، کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ تاکہ وہ عوام اور دنیا کی ‏توجہ کسی اور جانب مبذول کراسکے۔ ‏لیکن اس کو ہمیشہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ستربرسوں کے دوران کشمیری قوم اور نوجوان نسل نے بھارتی تسلط اور غیر قانونی قبضے کے خلاف ہر دور میں اپنی جدو جہد جاری رکھی لیکن عالمی طاقتوں کی بے حسی اقوام متحدہ کی لاپروائی اور پھر بھارتی جبر سے تنگ آکر کشمیری نوجوانوں نے مادر وطن کی آزادی کے لیے ہتھیا ر اٹھا لیے آزادی کی اس جنگ میں بھارت اسی ہزار سے زائد نہتے کشمیریوں کو قتل کر چکا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت کو بھی ہر دوسرے روز اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھانا پڑی ہیں۔

1990 کے بعد نوجوان حریت پسندوں نے بھی قابض فوج پہ تابڑ توڑ حملے کیے ہیں اور حالیہ حملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ بھارت ان پے درپے حملوں اور کشمیری عوام کے حصول آزادی کے مصمم ارادے کے سامنے اب بے بس نظر آتا ہے۔ اسی لیے بوکھلاہٹ میں اپنی خفت مٹانے اور ناکامی چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے آزادی کی اس جنگ کو دہشت گردی اورپاکستان کی طرف منسوب کر رہا ہے۔

بھارت عالمی سطح پہ ہمیشہ جھوٹا پروپیگنڈہ اور واویلا کرتا رہا ہے کہ کشمیری تحریک آزادی کے پیچھے پاکستان ہے اور یہی کشمیری نوجوانوں کوعسکری اور مالی تعاون مہیا کرتا ہے جبکہ یہ تاثر سراسر بے بنیاد ہے اور کشمیر میں ظلم و جبر سے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ سامنے آ چکا ہے۔

‏الحمد للہ بے باک کشمیری حریت قیادت عوام کی مزاحمت اور جانبازوں کی قربانیوں سے آزادی کی کوشش کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی کسی ملک، ادارے یا گروپ کے ‏احسان کی محتاج نہیں ہے۔ کشمیری عوام اور حریت پسند جانبازوں کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد شامل ہے۔ ہم اللہ کی مدد پر یقین رکھتے ہیں۔ ‏

پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس مسئلے کو اٹھانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تحریک آزادی کے پیچھے پاکستان اپنے مقاصد کے لیے کار فرما ہے۔ کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ مذہبی معاشرتی اور جغرافیائی تعلقات تھے ہیں اور رہیں گے۔ تاہم ان تعلقات ‏کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ کشمیری حریت پسند کسی بھی ملک، ادارے یا گروپ کے ماتحت اور مرہون منت ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ مسئلہ کشمیر اب دنیا کے سامنے عیاں ہے، اور بھارتی ناجائز قبضے ظلم وجبر کو دیکھتے ہوئے مہذب دنیا اب کشمیریوں کے جائز حق کی حمایت کرتی ہے۔ دنیا کے دیگر ملکوں میں آباد کشمیریوں نے بھی اپنا موقف کامیابی سے واضح طور پہ ‏دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بھارتی جبری تسلط کے خلاف آزادی کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔

دنیا کو واضح رہنا چاہیے کہ کشمیری اپنے بل بوتے پہ آزادی کی یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ‏کشمیری قوم بھارتی تسلط و جارحیت کے خاتمے اور آزادی کے لیے ہر ممکن طریقے سے جدوجہد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

لیکن بھارت اسی طرح ظلم جاری رکھے گا تو بہت سارے کشمیری نوجوان پھر اسی طرح ذلت اور غلامی کی زندگی پہ عزت کی موت کو ترجیح دیں گے جس طرح پلوامہ میں عادل ڈار نے کیا

۔ کشمیری ہر سطح اور ہر محاذ پہ مادر وطن کی آزادی کی جنگ جاری رکھیں گے۔ بھارت جتنا بھی پروپیگنڈہ کر لے، اس کو دہشت گردی کانام دے یا پاکستان کی حمایت کا الزام لگائے بھارت کی اصلیت اور مسئلہ کشمیر کی حقیقت اب دینا کے سامنے عیاں ہے دنیا جان چکی ہے کہ یہ ایک پروپیگنڈہ ہے بھارت کشمیر پہ نا جائز قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور جتنی بھی کوشش کر لے، آخر کار اس کو کشمیر سے ایک دن ضرور جانا ہو گا۔

اس ناکامی پر بھارت ہمیشہ شرمندہ ہوتا رہا ہے اور مزید ہوگا۔ ان شاء اللہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •