مگر میں نا امید نہیں ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے تقریبا ایک سال اپنے کالم ”نظریاتی ہٹ دھرمی“ میں کہا تھاکہ ”ہم سیاسی اور مذہبی آئیڈیل ازم اور بت پرستی میں اس درجہ متعصب اور متشدد ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے سیاسی و مذہبی پیشوا کی ہر غلط اور فیک نظریے کو بھی ڈیفینڈ کرنے لگتے ہیں اور اس کے بعد کوئی ہزار سمجھا ئے ’ہم اپنی بات پر قائم رہتے ہیں کیونکہ ہم بت پرست قوم ہیں“ بت پرستی کا لفظ آئیڈیل ازم کے لیے استعمال کر رہا ہوں اگرچہ یہ کوئی مناسب لفظ نہیں۔ مگر ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہم اندھے مقلد ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں تحریک انصاف کاسپورٹرہا ہوں مگر میں نے کبھی اندھی تقلید نہیں کی۔ میں بھی ان لکھنے والوں کی فہرست میں تھا جن کا کہنا تھا کہ تبدیلی آنی چاہیے ’جو صحافی یہ کہتے تھے کہ ملک کے ساتھ جن لوگوں نے پچھلے ستر سالوں میں ظلم کیا انہیں اس کیے کی سزا بھی ملنی چاہیے اور سیاسی طور پر کوئی نیا چہرہ سامنے آنا چاہیے۔ اسی خواب کی تکمیل کے لیے میرے سمیت پاکستان کے تقریبا ساٹھ فیصد عوام نے عمران خان پر بھروسا کیا‘ اس کے دعووں اور کنٹینرز پر کھڑے ہوئے کر ڈی چوک میں کیے وعدوں پر اعتماد کیا۔

اس  قوم نے عمران خان کو ووٹ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی کابینہ میں ساری وہی ٹیم ہو گی جو مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں کے ساتھ رہی ’اگر یہ ٹیم کچھ نیا کام کر سکتی ہوتی تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ مگر مجھ سمیت اس قوم نے نے یہ سوچ کر خان کو ووٹ دیا کہ لیڈر اچھا ہو تو ٹیم کتنی ہی کرپٹ کیوں نہ ہو‘ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ آج اس حکومت کو تقریبا پانچ ماہ گزر گئے مگر حالات اتنی تیزی سے ٹھیک نہیں ہوئے جتنے دعوے کیے گئے تھے۔

سو دن کا ایجنڈا بھی بری طرح فلا پ ہو گیا ’کفایت شعاری کی مثالیں قائم کرتے کرتے شاہی مہمان کی خوشی میں سب پر پانی پھر گیا۔ وہ قوم جس نے عمران خان پر بھروسا کیا تھا‘ اپوزیشن کی تقاریر سن سن کر وہ بھی عمران خان کو برا بھلا کہنے لگی۔ کبھی کبھی تو میں خود بھی فیڈ اپ ہوا کہ عمران خان کو یہ غلطیاں نہیں کرنی چاہیے ’اسے اب سمجھ جانا چاہیے کہ دھرنوں کی سیاست اور عملی سیاست میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مگر دوستو اس ساری صورتحال کے باوجود میں نا امید نہیں‘ میں جانتا ہوں کہ عمران خان سے یہ سسٹم سنبھالنا مشکل ہو رہی ہے اور اس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں نے اس سسٹم کو اس درجہ مفلوج کر دیا تھا کہ ہر ڈیپارٹمنٹ اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا ’کرپشن اور چوری نے اس سسٹم کو اتنا تباہ و برباد کر دیا ہوا تھا کہ اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ عمران خان ٹھیک نہیں کرنا چاہتا ’مسئلہ تو یہ ہے کہ وہ کس کس طرف دیکھے‘ یہ سسٹم تو اس کی توقع سے بڑھ کر اجڑ چکا ہے۔ مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ میرے نو ن لیگی دوست بجائے اس کے کہ وہ سسٹم کی تباہی پر بین کریں ’اداروں کی کھوکھلی دکانوں پر نوحہ لکھیں‘ ان سیاسی چمگادڑوں پر ماتم کریں جنہوں نے اس ملک کے ساتھ پچھلے ستر سالوں میں دشمنوں والا سلوک کیا ’یہ لوگ اب بھی عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ عمران خان کو یہ سسٹم سمجھنے میں وقت لگ رہا ہے ’اس سے بہت سارے فیصلے غلط بھی ہو رہے ہوں گے مگر کیا اسے ہم صرف پانچ سال بھی نہیں دے سکتے؟ ہم نے تین تین بار بھٹو ذرادری خاندان کو آزمایا‘ آلِ شریف کو آزمایا اور یہ انہیں کو بویا ہوا آج عمران خان کاٹ رہا ہے۔ عمران خان کو غلط وقت پہ حکومت ملی ’ایک ایسے وقت میں جب نہ خزانے میں کچھ پڑا ہے اور نہ ہی اداروں میں جان باقی ہے۔ ایسے میں عمران خان کو نہ صرف مردہ اداروں میں جان ڈالنی ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی بھرنا ہے۔

سرمایہ کاری پر بھی توجہ دینی ہے اور تعلیم و صحت جیسے اداروں کو بھی مستحکم کرنا ہے۔ ایسے میں پانچ تو کیا دس سال بھی کم ہیں۔ یقین کریں ہچھلے پچھتر سالوں میں اس ملک کے قومی اداروں کے ساتھ جو ہم نے کیا ’ایماندار اور مخلص لیڈروں کے ساتھ جو ہم نے کیا‘ کیا ہمیں لگتا ہے کہ عمران خان پانچ ماہ میں یہ سب ٹھیک کر سکتا تھا؟ بالکل نہیں مگر بات وہی ہے کہ ہمیں آج بھی بزدار کی بجائے شہباز شریف وزیر اعلیٰ چاہیے کیونکہ ”وہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے“۔

ہمیں آج بھی زرداری چاہیے کیونکہ وہ اتنا پکا آدمی ہے کہ عوام مرے یا جیے ’اس نے بھٹو کو نہیں مرنے دیا۔ ہمیں آج بھی بھٹو زندہ چاہیے‘ ہمیں آج بھی آلِ شریف چاہیے کیونکہ وہ عوام کی آنکھوں میں مٹی جھونکنے میں ماہر تھے۔ عمران خان کا تو یہ قصور یے کہ وہ پل پل عوام کو سچ سے آگاہ کر رہا ہے اور یہ عوام جو پچھلے ستر سال سے جھوٹے دعووں کی عادی تھی ’اسے سچ ہضم ہی نہیں ہورہا۔

میں اب بھی ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ عمران خان یقینا بہت سی غلطیاں کر رہا ہے اور کربھی سکتا ہے مگر خدا کے لیے اسے کام کرنے دیں ’اسے صرف یہ پانچ سال دے دیں۔ آپ نے اتنا عرصہ زرداریوں اور شریفوں پر یقین کیا‘ بس ایک دفعہ پانچ سال کے لیے اس پر یقین کریں۔ اگر عمران خان بھی کچھ ڈلیور نہ کر سکا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ عمران خان کو جھوٹا کہوں گا ’میں بھی آپ کی طرح برا بھلا کہوں گا مگر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اسے پانچ سال حکومت کرنے دی جائے۔

ستر ’پچھتر سالو ں کا گند اتنی جلدی صاف نہیں ہوگا اور نہ ہی ہمیں اس کی توقع رکھنی چاہیے۔ ہم کیوں رات کو بیج بر کر صبح اٹھتے ہی فصل اگنے کا خوا ب دیکھ رہے ہیں۔ کیا شریفوں اور ذرداریوں سے کبھی ہم نے پوچھا کہ آپ نے ہمارے ساتھ کیوں ظلم کیا‘ ہم نے اس ملک کی جڑوں کو کیوں کھوکھلا کیا ’کیوں؟ کیوں؟ بس ہم سب اسے طرف بھاگ نکلتے ہیں جدھر سب جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنا راستہ خود متعین کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنا کتھارسس کرنا چاہیے کہ ہم نے اتنے سالوں میں کبھی کسی حکومت سے پانچ ماہ بعد ہی نہیں پوچھا کہ تم نے کیا کیا؟ مگر عمران خان سے ہمیں ستر سالوں کی صفائی پانچ ماہ میں چاہیے۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہمیں ٹھنڈا کر کے کھانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •