وکٹر بازینوف کی ووڈکا اور ڈاکٹر زینب کا جذبہ


مانسہرہ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے پاس ہی شہر کے بیچوں بیچ ہم لوگوں کو ایک مکان کرائے پر مل گیا تھا۔ عام حالات میں تو شاید اس مکان کا کرایہ دو تین ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوتا مگر زلزلے کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئیں تھیں، بہت سارے مکانات بھی این جی اوز اور مختلف ایجنسیز نے کرائے پر لے لیے تھے، اس لیے دو ہزار کی جگہ دس ہزار میں بھی نہیں مل رہی تھی۔ ہم لوگوں کو شروع میں ہی آجانے کی وجہ سے یہ جگہ ذرا سستے میں مل گئی تھی۔

میں جب پہنچا تو زینب سو رہی تھی۔ اسے انجکشن دے کر سلا دیا گیا تھا۔ نرس نے مجھے بتایا کہ وہ بہت زیادہ پریشان سی تھی، بات بات پر غصہ کر رہی تھی اور پھر چیخنے لگتی تھی کہ چلو بالا کوٹ چلو، چلو یہاں کیا کر رہے ہو۔ ڈاکٹر، بڑی مشکل سے انہیں ہم نے انجکشن لگا کر سلایا ہے۔ دوسرے دن صبح اس سے میری ملاقات ہوئی، اس کا چہرہ سُتا ہوا تھا وہ مجھے دیکھ کر رونے لگی، پھر بے تحاشہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔

ہوا یہ تھا کہ آنے کے فوراً بعد سے زینب کام پر لگ گئی، دن کب شروع ہوا اور کب ختم اس کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں تھا۔ کام بہت تھا، ہر گاؤں دیہات میں چھوٹے بڑے شہروں میں انسانوں پر آفت آگئی تھی۔ ہم لوگوں نے کبھی بھی آفتوں کا مقابلہ نہیں کیا تھا نہ ہی آفتیں دیکھی تھیں اور نہ ہی یہ پتا تھا کہ آفتوں کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ اپنا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

زینب بالا کوٹ پہنچ کر پریشان سی ہوگئی تھی اور پہلے دن سے ہی جیسے ایک جنون کی سی کیفیت میں اس نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

دون دن پہلے وہ لوگ الائی کے علاقے کے چھوٹے سے گاؤں میں گئے تھے، یہ پورا گاؤں تباہ ہو گیا تھا۔ اوپر سے ایک بڑا سا پہاڑی پتھر گاؤں کے چھوٹے چھوٹے گھروندوں پر آن گرا تھا۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ پتھروں کے نیچے آکر ختم ہو گئے تھے۔ جو بچ گئے تھے وہ گاؤں کے ساتھ ہی کھلی جگہ پر آنے والی مزید آفتوں کا انتظار کررہے تھے۔ اسی گاؤں میں زینب اپنی چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ پہنچی تھی۔ اس وقت تک وہاں کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ لاشیں ابھی نہیں نکلی تھیں، مگر ملبے اورمٹی کے اندر لاشوں سے اُٹھنے والا تعفن ہوا میں موجود تھا۔ لوگ سانس لے رہے تھے اس احساس کے ساتھ کہ اس سانس میں ان کے پیاروں کے خستہ حال ٹوٹے پھوٹے جسموں سے اُٹھنے والا تعفن بھی شامل ہے۔ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے، صرف سوچ سکتے ہیں ان کے بارے میں، جو دیواروں اور چھتوں کے نیچے دفن ہیں، جن کی نہ قبریں ہیں اور نہ گھر اور مکان۔

اس دن وہ لوگ سارا دن کام کرتے رہے تھے، زخمیوں کی امداد، بوڑھوں کی داد رسی، عورتوں کو گلے لگا لگا کر رونا۔ مجھے ڈرائیور نے بتایا کہ ایسا لگتا تھا جیسے زینب یہاں کی ہی باسی ہے، اس کا بھی سب کچھ لُٹ گیا ہے۔ اس رات وہ لوگ وہیں رہ گئے، ایمبولینس واپس مانسہرہ جا کر ایدھی کے مزید دو ٹرکوں میں سامان بھر کر لائی تھی۔ خیمے، لحاف، کمبل، غلّہ، پانی، دودھ، بچوں اور بڑوں کے گرم کپڑے، دوسرے دن ایک چھوٹی سی خیمہ بستی بن گئی تھی۔

اس وقت تک زینب نڈھال سی ہوگئی تھی مگر پھر بھی گاؤں والوں کے ساتھ ہر کام میں پیش پیش تھی۔ اس دن صبح صبح گاؤں والوں نے خود ہی ایک گھر کے ملبے کو ہٹایا تھا جہاں سے نکلتی ہوئی ایک ماں اور بچے کی لاش کو دیکھ کر زینب بے ہوش ہوگئی تھی اور جب ہوش آیا تو اس نے بے تکان بولنا، ہنسنا، رونا شروع کر دیا تھا۔

مجھے بھی جانا ہے ان پتھروں کے نیچے۔ کوئی ماں ہو گی مری ہوئی، اپنے چھاتی سے زندہ بچے کو لگائے ہوئے۔ اسے نکالو، اسے نکالو، ارے وہ مرجائے گا۔ اس نے مجھے دیکھ کر ہنسنا بند کردیا مگر نئی تکرار شروع کردی تھی۔

امجد، انہیں بچاؤ ڈاکٹر امجد، ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں وہ اس تودے کے نیچے ہیں، مٹی کے غار میں۔ وہ بچے مر رہے ہیں، جلدی کریں ڈاکٹر۔ جلدی کریں۔ اس نے بے تکان بولنا شروع کردیا تھا۔ میں غور سے اور بڑی توجہ سے اس کی باتیں سنتا رہا تھا۔ یہ ضروری تھا کہ اسے احساس ہو کہ میں اس کی بات سمجھ رہا ہوں۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس کی پریشانیوں کا، میں سنتا رہا۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ لوگوں کے صدمات کو، ٹراما کو نہیں سہار سکی ہے۔ اسے اِس طرح سے بے تکان کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔

وہ کہتی رہی، چیختی رہی، پھر یکایک خاموش ہوکر بیٹھ گئی تھی۔ وحشت زدہ چہرہ اور ویران آنکھیں۔

میں نے اسے نیند کا انجکشن لگایا اور فوراً ہی کراچی بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ زینب کو آرام کی ضرورت تھی وہ مکمل طور پر ایگزاسٹ ہوگئی تھی۔

پہلی دفعہ مجھے سمجھ میں آیا تھا کہ روسی کیمپ ہسپتال میں ڈاکٹروں کے لیے بنے ہوئے خیموں میں اچھا انتظام کیوں تھا۔ رشین گوشت کا برگر، ترکی کے چھوٹے چھوٹے بھنے ہوئے پارچے، ڈبے میں پیک کی ہوئی مختلف قسم کی مچھلیاں، مریضوں کے لیے دواؤں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کے لیے آرام دہ بستر اور اعلیٰ قسم کے کھانے اور وائن۔ وکٹر نے صحیح کہا تھا اگر ڈاکٹر، نرس، پیرا میڈیکل خود بیمار پڑجائیں تو ان مریضوں کو کون دیکھے گا۔

وکٹر بازینوف کا دیا ہوا ووڈکا سے بھرا ہوا گلاس مجھے شدت سے یاد آیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3