بہترین کارکردگی پر شکریہ عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کر کے روانہ ہوگئے ہیں۔ یقینی طور پر یہ دورہ پاکستان کے لیے بہترین تھا اور مستقبل میں ضرور کامیاب ثابت ہو گا۔ سعودی شہزادے کے اس دورے نے پاک عرب تعلقات میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ قارئین کرام سعودی شہزادے کے اس دورے کے دوران میں نے عمران خان کو بالکل ویسا دیکھا جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی سپورٹر نے عمران خان کو اپنے ذہن میں مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہوگا۔

ویسے تو وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالتے ہیں ان ووٹوں کا حق ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن ایک دم بڑھتی مہنگائی، بے شمار چیلنجز، گذشتہ حکومتوں کے لئے گئے قرضوں سمیت اور کئی مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن آفرین ہے وزیراعظم پر جنہوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے تو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے سے پہلے مسائل کا اندازہ ہی نہیں تھا اب کیا ہوگا۔ مخالفین تنقید کرتے رہے ڈالر بڑھ گیا مہنگائی بڑھ گئی لیکن وزیر اعظم صاحب نے کسی بھی بات پر کان دھرے بغیر اپنے کام پر فوکس کیا جس کا پھل ہمیں اپنے ملک میں میں اربوں روپے سرمایہ کاری کی صورت میں ملے گا۔

یہ تو بات ہوگئی پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالنے کی اب اگر بات کریں عمران خان کی شخصیت کی تم میں یہاں ضرور کہوں گی کہ عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ثابت ہوں گے کہ جن کا مقام حکومت میں آنے کے بعد لوگوں کے دلوں میں گرا نہیں بلکہ بڑھا ہے۔ ویسے تو وزیراعظم عمران خان پہلے ہی مقبول تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔

ہم بھی فخر سے کسی کو بتا سکتے ہیں کہ وہ یہ عمران خان ہے اور یہ ہمارے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ وزیر اعظم اپنی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ غیر ملکی سربراہان سے ملاقات ہو سعودی عرب کی علمی سرمایہ کاری کانفرنس یا پھر دبئی کی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ ہو، وزیراعظم عمران خان نے تمام موقع پر پاکستان کا مثبت چہرہ پوری دنیا کو دکھایا۔

یہ تمام باتیں ایک طرف لیکن اس بار وزیراعظم عمران خان نے جو دو کام کیے ہیں وہ واقعی قابل تعریف ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ عمران خان میں بہت زیادہ تکبر ہے۔ عمران خان پاگل بددماغ اور انا پرست ہے۔ لیکن جب وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے سامنے کھڑے ہو کر سعودی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی بات کہی تو یقینی طور پر مجھ سمیت کئی لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں ہو گئی ہوں گی۔ یہ آنکھیں صرف عمران خان کے ان دو جملوں کی وجہ سے نم نہیں ہوئیں بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر تھی جو ہم کئی سالوں سے بہترین لیڈر شپ کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔

جس پر مہر محمد بن سلمان نے خود ہی لگا دی اور کہا کہ ہم عمران خان جیسی عظیم قیادت کے منتظر تھے۔ عمران خان نے شاہوں کی محفل میں مزدوروں کی بات کر کے مخالفین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کردیا اگر وزیراعظم عمران خان اسی طریقے سے آگے چلتے رہے تو مجھے یقین ہے ایک دن ایسا آئے گا کہ کسی بھی شخص کے لیے عمران خان سے نفرت کرنا مشکل ہوجائے گا۔ جب وزیراعظم کے مخالفین کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ عمران خان پوری دنیا میں کشکول لئے پھرتے ہیں تو وہ صرف ایک بار سوچیں کہ اگر آپ عمران خان کی جگہ ہوتے جس نے ساری زندگی عیش و آرام میں گزاری، جس کو دنیا کی کسی چیز کی بھی کمی نہیں تھی اور پھر اللہ نے اس کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے بھی نوازا تو کیا ان تمام چیزوں کے ہونے کے باوجود آپ اپنی عوام کے لئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے؟

نہیں کیونکہ یہاں پر جو بھی آیا اس کو کسی بھی چیز کی کمی نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے صرف اپنی جیبیں بھرنے کوترجیح دی۔ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ باہر جیلوں میں کتنے پاکستانی معمولی باتوں پر سزائیں بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست تو ویسے گزشتہ پرچی والے وزرائے اعظم بھی کر سکتے تھے لیکن یہ کرنے کے لئے خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بعد بات کرتے ہیں وزیراعظم کی طرف سے بھارت کو دیے گئے ”پلوامہ ڈرامہ“ پر دانشمندانہ جواب کی۔ وزیراعظم نے بھارت کو واضح جواب دیا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو مذاکرات کے لئے حاضر ہیں۔ وزیراعظم نے پلوامہ حملے میں تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔ اور سب سے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر کسی بھی قسم کی کوئی جنگی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ یقینا بھارت کو بھی اب سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستان کے وزیراعظم اب عمران خان جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف ہیں اور دونوں ایک پیج پر ہے اور اس صورت میں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔

عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ سیاست نہیں کر سکتے، وزیراعظم کتنے کامیاب ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن وزیراعظم آنے والی نسلوں کو سیاست کرنا، دنیا کا مقابلہ کرنا اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا ضرور سکھا دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی قوم کو جو خود اعتمادی دی ہے وہ تا قیامت پاکستان کی نسلوں میں موجود رہے گی۔ بشرطیکہ کے قومی عمران خان کی اہمیت کو سمجھ جائے۔ ان سب چیزوں کے لیے شکریہ عمران خان!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •