سوشل میڈیا: پاک و ہند کا کشمیر محاذ


وادیَ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں پیش آنے والے واقعے کو آج پانچواں روز ہے۔ واقعے کے فورا بعد آنے والے بھارتی موَقف میں حسبِ روایت ہم ہی مورد الزام ٹہرائے گئے۔ دونوں ممالک میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے انسانی جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا۔ تاہم اس حملے کے فوراً بعد بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کا اظہار تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیا۔

ایک طرف انتقامی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی اور معاشی سطح پر نقصان پہنچانے کے لئے پاکستان کو موسٹ فیورٹ نیشن کی لسٹ سے خارج کردیا گیا جس کے بعد پاکستانی مصنوعات برآمد کرنے پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کی جاچکی ہے۔ پاکستان مخلاف مہم نے فنکاروں اور ادبی، ثقافتی حلقوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔ بھارتی فنکار جاوید اختر اور شبانہ اعظمی نے بھی اپنا دورہَ پاکستان منسوخ کردیا۔ سرحد کے اِس پار دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے منعقد کیے جانے والی تقریب ”شانِ پاکستان“ کے منتظمیں نے اس سال بھارتی فنکاروں کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

حکومتی اور سفارتی سطح پر تو حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوئے ہی لیکن اُس کے بعد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر پاکستانی اور بھارتی عوام کے درمیان لفظی جنگ کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ کہیں جنگ کی صدائیں گونجیں تو دوسری جانب سے بھی ترکی بہ ترکی جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا۔ کہیں بدلے کی مانگ ہوئی تو جواباً ہم نے بھی انہیں اپنی دفاعی اور ایٹمی صلاحیتوں سے بہرہ مند فرمایا۔ کہیں کسی کھلاڑی، تو کہیں اداکار کے روپ میں ہر ہینڈل پر عاشقانِ جنگ و جدل قابض نظر آئے۔

دونوں جانب سے دفاعی و خارجہ امور کی ماہرین، تاریخ دان اور ڈرائنگ روم تجزیہ نگار سوشل میڈیا کے محاذ پر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ اور نتیجہ شاید پھر وہی نکلے جو ان دونوں ملکوں کی جنگوں کا نکلا۔ سیس فائر، حکومتوں کی تبدیلی، امن کی پکار، دوستی کی امید، پراکسی کا وار، ایک اور نیا سانحہ، آبی جارحیت کے تھرتھراتے دعوے اور پھر وہی منہ کے ہوائی فائر۔

اس موقعے پر دلوں کو جوڑنے کی تلقین کرنا شاید مناسب نہ لگے مگر جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا ہر عاقل و بالغ کی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ مسئلہَ کشمیر میں امن اور پاک و ہند کی اصل مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔ عوام اب مزید دونوں مماللک کے لیڈران کے دلفریب نعروں اور دلکش و پرزور سیاسی دعووں کی زد میں نہ آئیں سوشل میڈیا اور اپنے ریاستی بیانیے پر مبنی نصاب اور حقائق کے درمیان فاصلے کو اپنے تئیں کم کرنے کی کوشش کریں اور اپنی حکومتوں سے چند فیصلہ کن سوالات پوچھیں۔

کشمیر ایک کی شہ رگ تو دوسرے کا اٹوٹ انگ ہے مگر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی تاریخ مایوس کن ہے۔ پالیسی کے نام پر الزام در الزام کی سیاست ہے۔ ایک جانب قانون کے نفاذ کے نام پر انسانیت کی توہین ہے تو پاکستانی کی ڈپلومیسی مذمتی بیانات اور تعزیتی پیغامات تک محدود ہے۔ نتیجہ صفر۔ امن کی خواہش کے باوجود کشمیری خالی ہاتھ لئے کسی زمینی تبدیلی کے آج بھی منتظر ہیں۔

تنقید کیجئے مگر اس ظاہری انتشار کے بھی کچھ قواعد ہیں ان کی نفی مت کیجئے۔ جنگ مسئلے کا حل نہیں بذات خود ایک مسئلہ ہے۔ اپنے اصل مسائل کے خلاف عوامی نفرت کا رخ موڑنے کے لئے دونوں ملکوں میں قومی شاونزم جیسی وارداتوں کا شمار سیاسی حلقوں کے آزمودہ ٹوٹکوں میں ہوتا ہے۔ لہٰذا بات کریں مگر غیر مہزب فقرے بازی، نامناسب کمنٹس، اور جذباتی اسٹیٹس کسی فتح کی نوید نہیں سنارہے بلکہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کی سخصیت میں موجود جذباتیت اور متشدد کی عناصر کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ آنکھیں کھلی رکھیں، دیکھیں، پرکھیں اور طے کریں کہ موجودہ حالات میں بہتری میں کردار ادا کرنے کے لئے آپ کہاں کھڑے ہوسکتے ہیں۔

Facebook Comments HS