شرط – انتون چیخوف کی ایک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ گئی۔

کچھ کا خیال تھا کہ سزائے موت بھیانک سزا ہے جس کا روس جیسے تہذیب یافتہ ملک میں کوئی جواز نہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سزائے موت میں تو ملزم صرف ایک دفعہ مرتا ہے لیکن عمر قید میں ہر دن ایک بتدریج موت کا دن ہوتا ہے۔

نوجوان وکیل کی رائے تھی کہ زندگی ایک بہت قیمتی امانت ہے جس کو دوسرے انسان سے چھین لینا گناہ ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک جرم بھی ہے۔

بینکر کہ رہا تھا اگر مجھے ان دونوں میں ایک کو منتخب کرنا پڑے تو میں یقینا سزائے موت چنوں گا۔ تنہائی کی قید میں عمر گزارنے سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں۔ ساری عمر تو کیا، میں شرط لگاتا ہوں کہ اگر کوئی پانچ سال بھی قید تنہائی میں گزار لے تو میں اس کو بیس لاکھ روبل انعام دوں گا۔

آپ پانچ سال کہتے ہیں، بیس لاکھ روبل کے لئے تو میں پندرہ سال کی قید تنہائی کے لئے تیار ہوں۔

ٹھیک ہے۔ اگر تم پندرہ سال مکمل تنہائی میں گذار لو تو قید کی مدت ِختم ہوتے ہی بیس لاکھ روبل تمھارے۔

منظور، نوجوان وکیل نے کہا۔ آپ اپنے بیس لاکھ روبل داؤ پر لگائیں اور میں اپنی زندگی کے پندرہ سال داؤ پر لگاتا ہوں۔

بعد میں کھانے کی میز پر میزبان نے وکیل کو سمجھانے کی کوشش کی۔

دیکھو، تم ابھی نوجوان ہو۔ میرے لئے تو بیس لاکھ روبل ہاتھ کا میل ہیں مگر تم کیوں زندگی کے پندرہ سال گنوانے پر تلے ہوئے ہو؟

لیکن اس نوجوان وکیل کو بھی ضد چڑھ گئی تھی۔ اس نے اپنا فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا اور یوں یہ احمقانہ اور ہولناک شرط پکی ہو گئی۔

شرط کے مطابق طے پایا کہ پندرہ نومبر اٹھارہ سو ستر سے پندرہ نؤمبر اٹھارہ سو پچاسی کی رات کے بارہ بجے تک وکیل کو بینکر کے نوکروں کی ایک مقفل کوٹھری میں بند رہنا ہو گا۔ ایک چھوٹی سی کھڑکی سے اسے کھانے، کتابیں، شراب، سگرٹ اور دوسری ضروریات کی چیزیں مہیا کی جا سکیں گی۔ اسے کسی سے ملنے، بات کرنے یا اخبار پڑھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ البتہ وہ خط لکھ سکے گا۔ اور کمرے میں رکھا ایک پیانو بجا سکے گا۔

سب سے کڑی شرط یہ تھی مقررہ وقت سے ایک منٹ پہلے بھی کوٹھری سے نکلنے پر وہ بیس لاکھ روبل سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

آج اس شرط کو پندرہ سال ہو چکے تھے۔ رات کے دو بجے تھے۔ ابھی شرط کی مدت میں بائیس گھنٹے باقی تھے۔ بینکرکے ذہن میں بیتے ہوئے پندرہ سالوں کی ایک مسلسل تصویر چل رہی تھی۔

اسے یاد آ یا کہ پہلے سال کی قید کے دوران نوجوان وکیل شدید افسردہ دلی کا شکار رہا۔ کوٹھری سے اکثر پیانو پر اداس دھنوں کے بجانے کی آواز آتی۔

دوسرے سال پیانو کی آواز آنی بند ہو گئی تھی اور وہ کلاسیکل لٹریچر منگوانے لگا تھا۔ پانچویں سال پیانو پھر بجنا شروع ہو گیا تھا لیکن اب اس نے شراب نوشی شروع کر دی تھی۔ پہرہ داروں نے بینکر کو بتایا کہ اس کے کمرے سے آہیں بھرنے اور دیر دیر تک رونے کی آوازیں آتی تھیں۔ اس نے کثرت سے لکھنا بھی شروع کر دیا تھا۔ بعض مرتبہ ساری ساری رات لکھتا لیکن صبح ہوتے ہی سب لکھا ہوا پھاڑ کر پھینک دیتا۔

بینکر کو یاد آیا کہ چھٹا سال ختم ہونے کے قریب تھا کہ وکیل نے مختلف زبانیں سیکھنے کی کتابیں منگوائیں۔ طویل مدت تک وہ زبانوں کے مطالعہ میں دن رات مصروف رہا۔ اس دوران اسے اور کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔ چار سال کے عرصے میں اس نے تقریبا پانچ سو کتابیں منگوا کر پڑھیں اور سات زبانوں پر مہارت حاصل کر لی۔ ایک دن بینکر کے نوکروں نے اسے ایک خط لا کر دیا جس میں لکھا تھا۔

میرے عزیز جیلر،

میں یہ چند سطریں سات مختلف زبانوں میں لکھ رہا ہوں۔ آپ انہیں لسانیات کے ماہرین کو دکھائیں۔ اگر وہ سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ میری تحریر میں ایک بھی غلطی نہیں ہے تو آپ پستول سے میری کوٹھری کے باہر ایک فائر کر دیں۔ چونکہ مجھ سے گفتگو قید کی شرائط کے خلاف ہے، مجھے گولی چلنے کی آواز سے پتہ چل جائے گا کہ میں اپنی اس کاوش میں سرخرو ہوا ہوں۔ دنیا بھر کے دانش مند مختلف زبانیں بولتے ہیں لیکن عقل و فہم کا پیغام ہر زبان میں ایک ہی ہے۔ میں نے ہر خطے کے دانش وروں کی کتابیں پڑھیں۔ میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیاوی حرص و طمع بالکل بے معنی ہے۔ دولت اور منصب کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی ان میں انسان کی بھلائی ہے۔ کاش آپ اندازہ کر سکتے کہ زندگی کا یہ راز جان کر میرے ذہن کو کتنا اطمینان اور دل کو کتنا قرار ملا ہے۔

بینکر نے اپنے قیدی کی یہ خواہش پوری کی اور ہر زبان کے عالموں نے تصدیق کی کہ اس کی تحریر میں کوئی خامی نہیں تھی۔

کوٹھری کے باہر پستول سے گولی چلا کر قیدی پر یہ عیاں کر دیا گیا کہ اس کی محنت رایئگاں نہیں گئی۔

دسویں سال میں وکیل نے صرف مذہبی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد پھر اس کے ذوق مطالعہ نے ایک جھٹکا کھایا اور اس نے ہر قسم کی کتابیں، رسالے، اور مسودے پڑھنے میں اگلے پانچ سال لگا دیے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ علم کے ایسے سمندر میں تیر رہا ہے جہاں اس کے شعور کا جہاز ڈوب گیا ہو اور ا ب وہ ہر ایسے تنکے کا سہارا لے رہا تھا جس کے آسرے وہ تیر کر اپنی سمجھ کے ساحل تک جا سکے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •