ہنگامہ ہے کیوں برپا؟


ملکوں کے درمیان تعلقات افراد یا لیلی مجنوں والے نہیں ہوا کرتے۔ بہت بار پہلے بھی عرض کر چکا ہوں، نہیں یقین تو بین الاقوامی تعلقات کے کسی ادنی طالب علم سے پوچھ دیکھیں۔ ملکوں کے آپسی تعلقات باہمی اعتماد، مفاد اور سلامتی کے لحاظ سے دوسری ریاست کے کردار کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کوئی نئی کہانی یا آج کی بات نہیں یہ پون صدی کا قصہ ہے۔ نہ ہی کچھ نیا ہوا ہے جس پر ہنگامہ برپا ہے، معاشی اور اسٹریٹجک دونوں جہتوں میں باہمی تعاون ہمیشہ سے موجود ہے۔

بلکہ میری نظر میں معاشیات اور اسٹریٹجک معاملات کو الگ کر کے سوچنا نری حماقت ہے۔ نیوکلیئر پروگرام کے لیے پاکستان کی مالی معاونت، ایٹمی دھماکوں کے بعد ادھار تیل کی فراہمی، پچھلی حکومت کو تین ارب ڈالر کی ادائیگی کیوں یاد نہیں۔ یہ نہیں کہ بدلے میں سعودیہ کو ہم سے کچھ نہیں ملا اس کی فوجی تربیت تقریبا پاک افواج نے کی۔ متعدد مواقع پر سعودیہ کی مدد کے لیے فوجی دستے بھی یہاں سے گئے۔ ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ چکے اور وقتا فوقتا یقین دہانی کراتے رہتے ہیں، حرمین شریفین کے تحفظ یا مقدس مقامات کی حرمت پر آنچ آئی تو پاکستان کسی بھی انتہائی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔

جو بن پڑا ہم کریں گے اور سعودیہ کو بھی یقین ہے، یہ بہت کچھ ہمارے لیے کرتے بھی آئے ہیں، اور انہیں خبر ہے ہماری بادشاہت کو خطرہ ہوا تو پاکستان کے علاوہ کوئی اس کے ساتھ نہیں ہو گا۔ ہر ملک کی مگر کچھ اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور اخلاص کے باوجود کچھ ریڈ لائینز ہوتی ہیں جسے کسی دوست کی خاطر کراس کرنا خود اپنی سلامتی داؤ پر لگانے کے مترادف ہوتا ہے۔ سچ ہے کچھ عرصہ سے پاک سعودی تعلق جمود کا شکار تھا، ہر با خبر شخص کو اس کی وجوہات کا بھی علم ہو گا، لیکن اچانک تعلقات میں پھر سے در آنے والی گرمجوشی کا سبب جہاں بیک ڈور پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب کی ڈپلومیسی ہے، وہیں سعودی صحافی جمال خشقجی کا ترکی میں قتل اور اس کا الزام براہ راست سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر آنا، اور انہیں دنوں کے آس پاس امریکی صدر ٹرمپ کا بیان کہ امریکی حمایت کے بغیر سعودی بادشاہت دو ہفتے نہیں برقرار رہ سکتی بھی ہے۔

کہنے کا مقصد واضح کرنا ہے کہ تعلقات کی درستی صرف ہماری ضرورت نہیں بلکہ مملکت سعودیہ کا بھی مفاد اس میں پنہاں ہے۔ یاد نہیں دو ہزار چودہ میں متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ نے یمن جنگ کے معاملے پر پاکستانی پوزیشن پر غصہ دکھا کر سفارتی اور اخلاقی تقاضوں کی دھجیاں بکھیرتا کیسا بیان دیا تھا۔ شاہانہ مزاج رکھنے والے ولی عہد اگر اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ شراکت چاہتے ہیں، اور یہ معاہدے کوئی خیرات نہیں بلکہ باہمی تعاون اور ضروریات پوری کرنے کی کوشش ہے، تو اس کا مطلب اس کے سوا آخر کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی بہرحال ایک مسلمہ اہمیت ہے اور عرب ممالک کے لیے اسے نظر انداز کرنا کسی طور ممکن نہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ ہم خود اپنی قدر و قیمت کو نہ تو پہچانتے ہیں بلکہ اپنی محدود سوچ، اندرونی اختلافات اور کوتاہ ظرفی کی بدولت اپنا قد دنیا کے سامنے چھوٹا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

خود فراموش فرد ہو یا قوم، جتنے بھی گن ہوں اس کا مقام صفر ہی رہتا ہے۔ اس کے باوجود کہ ہم معاشی طور پر بحران کا شکار ہیں، کینہ پرور ہمارا ہمسایہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنا بلکہ کونے سے لگا کر کنگال کرنا چاہتا ہے۔ ذہن میں رکھنا چاہیے علامہ اقبال سے ہمیں کیا درس ملا تھا، ”خودی نا بیچ غریبی میں نام پیدا کر“۔ کیا نہیں ہے ہمارے پاس؟ کن وسائل کی کمی ہے؟ کون سی آفت یا قدرتی سانحہ ٹوٹ پڑا؟ خدا نخواستہ قوم ذہنی طور پر تہی دامن یا لولی لنگڑی ہے؟

خدا کے فضل سے سب کچھ موجود ہے۔ وسائل کی فراوانی، زرخیز زمین، معتدل موسم، بائیس کروڑ کی آبادی، ایٹمی صلاحیت سے مالا مال ریاست، منظم، نڈر اور پیشہ ور سپاہ، ہنر مند افراد کی فوج ظفر موج۔ کمی ہے تو ایمانداری اور اخلاص کی۔ آج نیت ٹھیک کر لیں، لینے والا ہمارا ہاتھ دو سال میں دینے والے میں تبدیل نہ ہو تو کہنا۔ جب سے دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوئی یہ عام پریکٹس ہو چکی ہے ایک دوسرے کے ممالک میں حالات سہولیات دستیاب خام مال مواقع اور افرادی قوت دیکھ کر سرمایہ کاری ہوتی رہتی ہے۔

دنیا اس کا نوٹس بھی نہیں لیتی ہم ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے کوئی بھونچال آ گیا۔ کسی منصوبے کا ابھی اعلان ہو، ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر اس کا یہ حشر کرتے ہیں، ہیجڑوں کے گھر بچہ ہوا چوم چوم کر مار دیا۔ شرم محسوس ہوتی ہے دنیا کیا سوچتی ہو گی کہ دو ٹکے دیکھ کر کس طرح پوری قوم حواس کھو بیٹھتی ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں سی پیک کا اعلان ہوا، اتنی بڑھکیں لگی ایسی ڈھنڈور مچی کہ خدا کی پناہ۔ گیم چینجر ثابت ہوگا یہ منصوبہ، اس کی تکمیل کے ساتھ گویا ہم سپر طاقت بن جائیں گے۔ حالانکہ چین اس کے علاوہ بھی چھ دیگر اسی طرح کے روٹس پر کام کر رہا ہے۔ ان ممالک سے کبھی آواز سنائی نہیں دی، کہ فلاں ہم سے جل گیا۔ فلاں روڑے اٹکائے گا، فلاں منڈیوں میں تھرتھلی مچ گئی کہ آج کے بعد ہماری وقعت گئی تیل لینے۔

مزید افسوسناک پہلو یہ کہ کسی کو یہاں ادراک نہیں کہ ممالک ایک دوسرے سے معاملہ کرتے وقت کسی انفرادی شخصیت یا خاص سیاسی جماعت کو نہیں دیکھتے بلکہ ان کے پیش نظر ریاست سے ریاست کے تعلقات ہوتے ہیں۔ سعودی عرب سے پوری قوم کا ایک جذباتی لگاؤ ہے، وہاں سے آئے مہمان کو شایان شان پروٹوکول دینا اور مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑنا ضروری تھا۔ ہمارے قائد انقلاب صاحب نے پروٹوکول کے تقاضے بالائے طاق رکھ کر خود مہمان کی گاڑی ڈرائیو کی چلیں اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

شاہ محمود قریشی کے علاوہ مگر انقلابی لشکر میں کسی کو یہ احساس نہیں ہوا مذکورہ مہمان عمران خان یا تحریک انصاف کے ذاتی مہمان نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے متفقہ مہمان ہیں۔ تحریک انصاف کو ملے مینڈیٹ کو تسلیم کریں تو پھر بھی اتنے ہی ووٹ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ملے ہیں۔ لہذا اپوزیشن رہنماؤں کی بھی اگر معزز مہمان کے عشائیے میں شرکت یقینی ہو جاتی تو کون سا پہاڑ گر جانا تھا۔ جہاں ایک طرف یہ مہمان کی مزید عزت افزائی کا باعث ہوتا کہ سعودیہ سے مذہبی حوالوں سے عقیدت رکھتے ہوئے پوری قوم ان کی راہ میں دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھی ہے، وہیں چہار اطراف سے کشیدگی میں گھری ہماری مملکت کا یہ پیغام بیرونی دنیا کو ملتا کہ خارجی معاملات پر پوری قوم یکسو اور سیسہ پلائی دیوار ہے۔

Facebook Comments HS