ماں پنجابی بول کر شرمندہ کیوں کرواتی ہے


آج مادری زبان کے عالمی دن پر ایک واقعہ یاد آگیا جو کچھ یوں ہے کہ چند مہینے پہلے کی بات ہے جب مجھے اپنی بہن کو ڈائیو ٹرمینل پر چھوڑنا تھا بس نکلنے میں ابھی وقت تھا تو اس کو کمپنی دینے کے لئے اس کے ساتھ ویٹنگ ایریا میں انتظار کرنا پڑا۔ جہاں کافی مسافر انتظار گاہ میں موجود تھے وہیں ایک صاحب اپنی والدہ کے ساتھ براجمان تھے۔ وہ خاتون بیٹے کے ساتھ کوئی قصہ چھیڑ کر بیٹھی تھیں او ر وہ پنجابی زبان میں بات کر رہی تھیں۔

ان صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گزر رہی تھی وہ شاید احساس کمتری کا شکار ہو رہے تھے کہ اتنے مسافر بیٹھے ہیں جو پڑھے لکھے لوگ ہوں گے اور پنجابی بولنے سے ان کی یا ان کے والدہ کے لئے ایسا تاثر جائے گا کہ وہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں بس اسی احساس میں مبتلا صاحب بار بار ماں جی کی بات ٹوک رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ وہ خاموش ہو جائیں اور پاس بیٹھے لوگ ان کی بات چیت نا سنیں، میری بہن اور مجھے بھی بہت عجیب لگا کہ آخر یہ صاحب اپنی ماں جی سے چپ ہونے کا کیوں کہہ رہے ہیں اول تو ایسی بات نہیں ہے کہ جو لوگ پنجابی بولتے ہیں وہ پڑھے لکھے نہیں ہو سکتے اور اگر ایسا ہو بھی تو یہ سب مسافر جو پتا نہیں کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کو جانتے نہیں ہیں، کبھی آپ دوبارہ ان سے ملیں گے نہیں ان کے سامنے احساس ندامت کا شکار ہو کر ماں کو بات کرنے سے روکنا کہاں کی سمجھداری ہے؟

اس سارے قصے کو سنانے کا مقصد اپنے معاشرے کے اس المیے کو بیان کرنا ہے جہاں حلیے کو کردار اور زبان کو قابلیت کی سند سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہذب اور شائشستہ زبان میں بات چیت شخصیت میں مزید نکھار پیدا کرتی ہے مگر کسی بھی زبان کو خوساختہ طور پر غیر مہذب یا نا مناسب قرار دینا انصاف نہیں۔ ہماری قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے مگر دوسروں کے سامنے اسے بولنے سے اس لئے گریز کیا جاتا کہ پنجابی بولنے والے کو کم تعلیم یافتہ یا پینڈو سمجھا جاتا ہے اسی تاثر کے پیش نظر ہم کسی کے سامنے اپنے بڑے بز رگوں سے بھی ان کی زبان میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں اور انہیں یا تو خاموش کروا دیتے ہیں یا اردو بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اہمیت تو خیر اب اردو کی بھی نہیں رہی۔ انگریزی ہمارے سر پر یوں سوار ہو چکی ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے کچھ بھی بولیں، فر فر انگلش بولیں۔ یہاں آکر تربیت اور تعلیم کا فرق بھی ختم ہو جاتا ہے ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بچہ انگریزی بول رہا ہے تو وہ جو بولے گا درست بولے گامگر المیہ تو یہ ہے انگریزی میں بد تمیزی کرنے والے انسان کو بھی قابل اورذہین سمجھا جاتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ انگریزی بین الاقوامی سطح پر بولی جا نے والی زبان ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے لیکن ہمیں انگریزی نا آنے پر شرمندگی کے احساس کو ختم کرناہو گا۔

ہمارے ہاں اگر اردو یا پنجابی کے کسی لفظ کے بارے پتا نا ہو تو بیس لوگوں میں سر اٹھا کر ہم کسی سے پوچھتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ بد قسمتی سے انگریزی کے کسی لفظ کا مطلب نا آتا ہو تو ہم یا تو۔ ۔ ”یا گوگل تیرا ہی آسرا۔ “ کی مثال سچ ثابت کرتے ہیں یا پتلی گلی سے نکلنے والی ترغیب کا استعمال۔ جو زبان ہماری ہے نہیں، ہمارے گھروں میں بولی نہیں جاتی اس سے لا علمی پر ہمیں احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

ماں بولی کے ساتھ ہماری قدیمی ثقافت جڑی ہے اس زبان کا خاتمہ یا اس سے دوری ثقافت اور اس کے رسم و رواج کا خاتمہ ہے جو کہ کسی بھی قوم کے لئے سود مند نہیں۔ پنجابی صوفیا اکرام کی زبان ہے بڑے بڑے شاعروں نے مذہب کی تبلیغ کے لئے بھی پنجابی میں کلام لکھے۔ عقیدت و مٹھاس سے بھرپور پنجابی شاعر ادب میں بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ پنجاب کے علاوہ پاکستان کے باقی صوبوں میں صوبائی زبان کو سلیبس کا حصہ بنایا گیا ہے جو کہ ان صوبوں کی اپنی زبان پر فخر کی مثال ہے لیکن پنجاب میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں کی زبان حکومتی سطح پر اہمیت حاصل نا ہونے کے باعث پینڈو اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان کا لقب حاصل کر کے دیہاتوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے اور تو اور دیہات والے بھی شہروں میں آ کر کتنے ایسے کام خود سر انجام نہیں دے پاتے کہ ان کی زبان ان کے کام میں تاخیر یا رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے اور اسی لئے یا تو وہ کسی کا سہارا لیتے ہیں تا ٹوٹی پھوٹی اردو میں اپنی بات سمجھانے کی کوشش میں َطنز و مذاح کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

انسان اپنے اصل سے دور ہو کر الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے آپ جو ہیں آپ کو وہی رہنا چاہیے خود کو مشکل میں ڈال کر دوسروں کو قابلیت کا کوئی جعلی تاثر دینے سے بہتر ہے کہ آپ وہی زبان، وہی لباس، وہی طرز زندگی اپنائیں جو آپ کو پسند ہو اور آپ کو اسے اپنانے میں کسی دشواری کا سامنا نا ہو۔ اپنی زبان، ثقافت اور طرز زندگی پر فخر کر یں اور اپنی ماؤں کو ان کی اور اپنی ماں بولی بولنے دیں۔

Facebook Comments HS