اغیار میری زبان کو ایک دوزخی زبان سمجھتے ہیں
ہر انسان کی فطری زبان ان کی اپنی مادری زبان ہوتی ہے۔ مادری زبان کو بھلا کر بعض لوگ حقیقت میں اپنی ماں اور فطرت کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مادری زبان ہی میں انسان اپنا اظہارمافی ضمیر کسی بھی دوسری زبان کے مقابلے میں بہترکرسکتاہے۔
ماں کی زبان حقیقت میں خواب وخیال کی زبان ہوتی ہے اسی لئے علم نفسیات اور لسانیات کے ماہرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ بچوں کو ایسی زبان میں تعلیم دینی چاہیے جس میں وہ خواب دیکھتے ہوں۔ ان ماہرین کا یہ دعویٰ بھی طویل تجربات کے بعد سچ ثابت ہوا ہے کہ جس بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، نتیجے کے طورپر وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں جنہیں یہ مواقع میسر نہ ہوں۔
اس ملک میں بہت سے دیگر بنیادی مسائل کی طرح زبان اور لسانی شناخت کا مسئلہ بھی پہلے ہی دن سے لاینحل رہاہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری خارجہ پالیسی کی طرح ہماری لینگوئج پالیسی بھی ہروقت قابل رحم رہی ہے کیونکہ ریاست آج تک یہاں پر بولی جانے والی زبانوں کی حیثیت کے تعین کے بارے میں تذبذب کا شکار نظرآتی ہے۔ اپنی مادری زبان میں یہاں توبچوں کو تعلیم کا حق دینا تو درکنار، ایک وقت ایسابھی آیاتھا کہ ملک میں چھپن فیصد آبادی رکھنے والی بنگالی قوم کے اُن نہتے طالب علموں پر گولیاں چلائی گئیں جو اردو کے ساتھ بنگلہ زبان کو بھی قومی زبان کے طور پر مانگ رہے تھے۔
شاید انہی بنگالیوں کی قابل رحم حالت کو دیکھ کربعد میں اقوام متحدہ نے 1999 کواکیس فروری کے دن کوعالمی سطح پر مادری زبانوں کا دن قرار دے دیا۔ اکیس فروری کوہمارے ہاں تواس دن کی مناسبت سے دھواں دار تقاریراور مقالے ہمیں سننے کوبہت ملتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے حاکم طبقات کومادری زبانوں پرکبھی بھی رحم نہیں آیاہے۔ قیام پاکستان کے بعد مادری زبانوں کو وسیلہ تعلیم بنانے کے مطالبات توکیے گئے لیکن بدقسمتی سے ان مطالبات کو حکام وقت سے منوانا کل کی طرح آج بھی ِ محال دکھائی دیتاہے۔
پوری ملکی تاریخ میں شاید ایک ہی مرتبہ مرحوم ایوب خان کے دور حکومت میں قومی تعلیمی کمیشن کی ایک رپورٹ میں مادری زبانوں کو اپنے علاقوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کی سفارش کی گئی تھی جس پر بھی بدقسمتی سے عملدرآمدنہ ہوسکا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک طرف ہم نے اردو زبان کوضرورت سے زائد رعایت دے کراس سے ہردورمیں اپنی مادری زبانوں (پشتو، سندھی، پنجابی، بلوچی، سرائیکی وغیرہ ) کا استحصال کیا ہوا ہے تو دوسری طرف یہی قومی زبان بھی ہمیں سوٹ نہیں کرتی ہے اور اس کے اوپر انگریزی کو غالب کردیاہے۔
ہماری ذہنی پستی کی انتہا کا تویہ عالم ہے کہ معاشرے میں پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر کی وہ اہمیت نہیں جتنا کہ ایک انگریزی لینگوئج سینٹر میں پڑھانے والے ایک ادنیٰ استاد کو حاصل ہے۔ خصوصاً ملک کامقدمہ لڑنے والے ہمارے حکمرانوں کوجب بھی عالمی فورم پر تقریر کرنے کا موقع ملتاہے تووہ انگریزی زبان کا سہارالیتے ہیں۔ بجا کہاگیاہے کہ قومیں جب ترقی کی منازل طے کرتی ہیں تو اس میں بنیادی دخل ان کی زبان کا رہاہے۔
یورپ اور ایشیاء کے سنگم پرواقع ملک ترکی کو لیجیے جن کے حکمرانوں اور عوام دونوں کا معاملہ ہم سے یکسر مختلف رہا ہے۔ مغرب سے اتنی قرب کے باوجود ترک حکمرانوں نے ہمیشہ عالمی فورم پر اپنی زبان میں کو اظہار کا ذریعہ بنایاہواہے۔ صدر طیب ایردوان تین مرتبہ پاکستان کے مشترکہ ایوان سے خطاب فرماچکے ہیں اور ہر مرتبہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنی بات کی ہے۔
چوہدری محمد رفیق نے اپنی کتاب ”پنجاب میں اردو کا نفاذ“ میں برصغیرکے انگریز نوکر شاہی کے درمیان خط وکتابت کا ذکر کیاہے جس میں انہوں نے زبان کے بارے میں شاہ پور کے ایک انگریز ڈپٹی کمشنرمیجر ولسن کے ایک خط کا حوالہ بھی دیاہے، میجر ولسن لکھتے ہیں کہ ”اگر زبان کا ہدف خواندگی کو بڑھانا ہے تو یہ مقصد صرف اور صرف مادری زبان کے نفاذ ہی سے حاصل کیا جاسکتاہے۔ اس سلسلے میں مسٹر ولسن نے پرانے برطانیہ ( جہاں ایک وقت میں لاطینی اور پھر فرانسیسی زبانیں نافذتھی ) کا حوالہ بھی دیاہے کہ“ اسی زمانے میں برطانیہ میں لاطینی اور نہ ہی فرانسیسی زبان کے نفاذ سے شرح خواندگی میں اضافہ ہوا بلکہ ناخواندگی کا مسئلہ صرف اس وقت حل ہوا جب انگریزی زبان کو اپنایا گیا ”۔
ہاں توبات کرنے کا مدعا یہ ہے کہ قوم کے وسیع تر تعلیمی، ثقافتی اور معاشی مفاد میں ہمارے ارباب حل وعقد کو یہ اس ملک میں پسنے والی تمام اقوام کی مادری زبانوں کی حیثیت کا تعین کرنا چاہیے۔
جس طرح صوبہ سندھ میں سندھی زبان تعلیم کی زبان ہے اسی طرح خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بسنے والے کروڑوں پشتونوں کو بھی اپنے علاقوں میں اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق دینا چاہیے۔ صوبہ پنجاب میں آباد پنجابی اورسرائیکی اقوام اور بلوچستان کے غیور بلوچوں کوبھی بہرصورت یہ حق ملنا چاہیے۔
افسوس کامقام دیکھ لیجیے کہ گلگت بلتستان کے شمالی علاقہ جات میں بے شمار زبانیں آج ریاستی غفلت اور عدم توجہی کے باعث اپنی بقا کے خطرات سے دوچار ہیں۔ لسانیات پر تحقیق کرنے والوں نے اس ملک میں بولی جانے والی چھہتر کے لگ بھگ زبانوں میں سے اٹھائیس ایسی زبانوں کی نشاندہی کی ہے جن کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان زبانوں میں سات زبانیں غیرمحفوظ ہیں، پندرہ زبانوں کویقینی خطرات لاحق ہیں اور چھ زبانیں شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
بھلا ہوپھربھی یو ایس ایڈجیسی فلاحی تنظیم کا جس کے تعاون سے چلنے والے ”ایف ایف آرآئی اورایف ایل آئی جیسے نجی ادروں کا، جو ہمارے شمالی علاقہ جات میں ان میٹھی میٹھی قریب المرگ زبانوں کوپھر سے زندہ کررہے ہیں۔
آخر میں بابائے غزل مرحوم امیر حمزہ شینواری کی شہرہ آفاق غزل کا ایک شعر،
وائی اغیار چی د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پشتو سرہ زم
”اغیار میری زبان کو ایک دوزخی زبان سمجھتے ہیں لیکن میں پشتوزبان ہی کے ساتھ جنت میں داخل ہوکر رہوں گا۔


