عالم کِسو حکیم کا باندھا طلسم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  
  •  

طلسمِ گوہربار پڑھتے ہوئے میر کا یہ مصرع بار بار یاد آتا رہا۔ پتا نہیں یہ شعر منیر شکوہ آبادی کی نظر سے گزر ا ہوگا یا نہیں۔  ذیل میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ طلسمِ گوہر بار اس مصرع کی مجسم تصویر ہے۔  ہوتا یوں ہے کہ بعض اشعار زمانی اور زمینی حدود سے ماورا ہو کر بعض کیفیات کے بیان کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔  یہی تخصّص ہمیں یہاں بھی نظر آتا ہے۔

منیر شکوہ آبادی نے کمال کا طلسم باندھا ہے۔  منیر کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں معمہ در معمہ اور پیچ در پیچ ایسی کیفیات ملتی ہیں جن کا مختلف سطح پر تخلیقی اظہار طلسمِ گوہر بار میں ملتا ہے۔  منیر 1857 ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے ہاتھوں دھر لیے گئے۔  وجہ یہ تھی کہ منیر جس والئی ریاست کے ہاں ملازمت کرتے تھے اس پر حریت پسندوں کی امداد کا الزام تھا۔ منیر پر بھی قتل کا الزام لگایا گیا اور اسے پہلے کلکتہ اور پھر انڈیمان لے جایا گیا جہاں سے چار سال بعداس کی گلو خلاصی ہوئی۔

منیر نے شاعری کے ساتھ ساتھ داستان نویسی بھی کی۔ طلسمِ گوہر بار کی تخلیق کے علاوہ دو طلسم اور ہیں جو منیر ہی کے قلم کی دین ہیں : طلسمِ طاؤسِ اشک بار اور طلسمِ ہفتِ کوہِ سلیمانی۔ یہ دونو ں طلسم اب دستیاب نہیں۔  ممکن ہے داستانی ادب کے ہزاروں صفحات (جو زمین برد ہیں) کے ساتھ ان دو طلسموں کی بھی بازیافت ہو جائے اور انھیں بھی کوئی محمد سلیم الرحمن کے جیسا مدّون نصیب ہو جائے جس نے سو سال سے زائد عرصے کے بعد طلسمِ گوہر بار کے جادو کو محسوس کیا اور اسے تدوین کے عمل سے گزار کر ہمارے لیے محفوظ کر دیا۔ یاد رہے یہ طلسم 1878 ء میں آگرہ سے پہلی مرتبہ شائع ہوا تھا۔

طلسمِ گوہر بارکا مرکزی کردار شہزادہ نور الدہر ہے جو اسرار آشنائی کے مراحل طے کرتا جا رہا ہے۔  اکیلا ہرگز نہیں۔  ساتھ میں کچھ غیبی طاقتیں بھی ہیں جو ہر داستان میں مشترک ہوتی ہیں۔  ان کی پیش بینی شہزادے کو بڑی مشکلات سے بچاتی ہے۔  جب عنطلیا باد کے ساحر نورالدہر پر جادو کرتے ہیں تو وہ جادو اثر نہیں کرتا۔ ایک لوح ہے جو قدم قدم پر نور الدہر کو مصائب وآلام سے بچاتی ہے۔  اس کے لیے کلفتوں کے اس سفر میں باعثِ راحت ہے۔

داستان کے دیباچے میں طلسمِ گوہر بار کے مدّون اور اردو زبان و ادب کے مستند ادیب محمد سلیم الرحمن نے بڑ ی پتے کے بات کی ہے۔  ”اردو داستانوں میں جتنے بھی طلسموں کا ذکر آیا ہے وہ کسی نہ کسی سطح پر، نیم عیاں نیم نہاں انداز میں، اسرار آشنائی کے مراحل کی افسانوی اور علامتی روداد ہیں۔  جو فرد بھی دنیا میں آتا ہے اسے طرح طرح کی اسرار آشنائیوں کے ہفت خواں سے گزرنا پڑتا ہے۔  شعوری طور پر کوئی اس حقیقت کو سمجھے یا نہ سمجھے زندگی کرنا در حقیقت دنیا اور معاشرے کے اور خود اپنی ذات کے اسرار سے آشنائی حاصل کرنے کا عمل ہے۔ “

ذات کے اسرار سے آشنائی کا عمل کتنا پیچ در پیچ عمل ہے اس کا اندازہ ہر انسان کر سکتا ہے۔  قدم قدم پر حیرتیں، پل پل جینا، پل پل مرنا۔ نورالدہر بھی اسی دبدھا میں سے گزر کر زندگی کر رہا ہے۔  ایک افتاد سے جان چھڑاتا ہے تو اسے کوئی دوسری مصیبت گھیر لیتی ہے۔  وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتا اور استقامت کی مثال بنتا نظر آتا ہے۔  داستانوں کو مجہول معاشرت کی عکاس قرار دینے والے ثقہ نقادوں کو طلسمِ گوہر بار میں نورالدہر اور آرائشِ محفل میں حاتم طائی کے کرداروں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

طلسمِ گوہر بار منزل کی تلاش کا سفر ہے۔  ہر ذی روح کسی نہ کسی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔  صرف راستوں میں اختلاف ہے اور راستوں کا یہی اختلاف زندگی میں دلچسپی اور رنگا رنگی پیدا کرتا ہے۔  زندگی تھکا دینے والی جامد ڈائن بن جاتی ہے جو ہمارے بدون کو نگل جاتی اور ہماری روحیں آسودگی کی تلاش میں کلبلاتی رہتیں۔

طلسمِ گوہر بار میں طلسمانہ (Fantasy) کے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔  کہیں شہزادہ مانندِ درخت ایستادہ ہے تو کہیں آسمان سے ایک چمک دار تخت زمین پر اتر رہا ہے۔  کہیں بدن تیرو ں سے چھلنی ہے مگر ان میں سے لہو کا ایک قطرہ بھی نہیں نکل رہا۔ سینگ سے ننھی کمان نکل رہی ہے۔  ایک منظر میں طوطی شہزادے کے ہاتھ میں آ کر پتہ بن جاتا ہے۔  یہ اور اس طرح کے کئی اور مناظر سے طلسمِ گوہر بار کا ورق ورق تخیل کی طاقت کی گواہی دیتا نظر آتا ہے۔

منیر شکوہ آبادی کی نثر طلسمِ گوہر بار کی طرح اسمِ با مسمیٰ ہے، بے جوڑ، بے ٹانکا۔ منیر زبان کا شناور ہے۔  جزیات میں ایسا تنوع ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے آنکھیں کھول کر زندگی بسر کی ہے۔  مظاہر کے بیان میں مظہر کو نام دیتے ہوئے منیر کا قلم عاجز نہیں آتا بلکہ قاری کو نہال کرتا نظر آتا ہے۔  اس داستان میں سیرابی کے عناصرفراواں ہیں۔  اردو دنیا طلسمِ گوہر بار کی تدوین پر اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔

اس طلسم کو مجلس ترقیِ ادب، لاہور نے چھاپا ہے۔  اس سے پہلے ایک اشاعت 1996 ء میں بک مارک، لاہور نے کی تھی۔ مجلس کی طرف سے حالیہ اشاعت( 2015 ء) میں محمد سلیم الرحمن نے فرہنگ کا اضافہ بھی کیا ہے۔  محمد سلیم الرحمن کی تدوین کے حوالے سے اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ گنگ مکانوں اور بند دروازوں کی زبان جانتے ہیں۔  طلسمِ گوہر بار کی نثر کو انھوں نے اپنے باطن میں محسوس کیا ہے اور باطن کو سچ کی دعا ہوتی ہے۔  مجلس ترقیِ ادب کے مدارالمہام تحسین فراقی ہمارے شکریے کے مستحق ہیں جن کی مساعی سے اس قبیل کی کتابیں قارئین کو پڑھنے کو ملتی ہیں۔  اس مسند پر ان کا انتخاب راست انتخاب ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  
  •