بچوں سے پہلے والدین کی تربیت ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جو بچوں کے لیے قطعی محفوظ نہیں ہے۔ ہم اجنبی ماحول سے تو بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر ان قابل اعتبار لوگوں سے بے فکر ہو جاتے ہیں جو اکثر اوقات خطرے کا اصل موجب ہوتے ہیں۔ آج کل کے دور میں بچوں کو جنسی تربیت دینا از حد ضروری ہے مگر اس سے بھی ضروری امر والدین کی اس حوالے سے تربیت ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو سمجھا دیتے ہیں کہ اجنبی لوگوں سے محتاط رہنا ہے مگر اس بات کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد بچے کو قریبی رشتے دار کی گود میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے۔

بچے کو بار بار یاد دہانی کراتے ہیں کہ باہر کسی سے چاکلیٹ لے کر نہیں کھانی مگر ہم یہ کیوں بتانا بھول جاتے ہیں کہ انکل سے بھی اکیلے میں ٹافیاں نہیں لینی۔ اگر آپ کا بچہ کسی رشتے دار سے جھجکتا یا خوفزدہ ہے تو اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ کسی کی شکایت کرتا ہے تو بھرپور توجہ سے اس کی بات سنیں، بلاوجہ جذباتی ہو کر اسے ڈانٹے مت۔ ان سب باتوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر رشتہ ناقابلِ اعتبار ہے مگر آنکھیں کھلی رکھنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے۔ ایک چھوٹی سے احتیاط ایک بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔

بچہ آپ کا ہے تو وہ معاشی، معاشرتی، ذہنی اور نفسیاتی حوالوں سے آپ کی مکمل ذمہ داری ہے۔ ہر روز ٹی وی، سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کے انبار ہوتے ہیں جس میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرم ان کے قرابت دار ہی نکلتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اس حقیقت پر یہ کہ کر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ ہمارے اردگرد قابلِ بھروسا لوگ ہیں، صرف ان کے اردگرد درندے تھے جو اس ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو ”گڈ ٹچ“ اور ”بیڈ ٹچ“ کے متعلق سمجھا کر فرض پورا ہو گیا اور بچوں کے لیے یہی مکمل جنسی آگاہی کی تعلیم ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان میں ہر روز نو بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار جہاں ایک طرف یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم مستقبل ایک خطرے کی زر میں ہیں وہاں دوسری طرف یہی اعداد و شمار ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔

گھر کا ماحول اوائل عمر سے ہی بچوں کے لاشعور میں سرائیت کر جاتا ہے اور اسی طرز پر بچے کی نفسیات بنتی اور بگڑتی ہے۔ نفسیات کی بات ہو اور سگمنڈ فرائڈ کی بات ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ آپ فرائڈ کے نظریات سے ہزار اختلاف کر سکتے ہیں مگر یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ بچپن کے تجربات ہی کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔

گھر کا ماحول پرسکون اور خوشگوار ہے تو آپ معاشرے کو ایک کارآمد فرد مہیا کرتے ہیں۔ والدین کے لڑائی جھگڑے میں پروان چڑھنے والے بچے اسی نفسیات کے زیر اثر معاشرے کے بگاڑ میں صورت پیدا کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کرنے والے اکثر اپنے بچپن میں ایسے حادثات سے دوچار ہو چکے ہوتے ہیں۔ کسی بھی نفسیات دان کو اٹھا کر پڑھ لیجیے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ والدین کی ایک ذرا سی احتیاط معاشرے میں ایک مثبت فرد کا اضافہ کرتی ہے اور ایک چھوٹی سی لاپرواہی معاشرے میں ایک مجرم کا اضافہ کرتی ہے۔

آج کل پڑھائی کے معاملے میں بچوں سے زیادہ والدین کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے اور ہم نے یہ مقابلہ بہرحال جیتنا ہے۔ جتنی پڑھائی ضروری ہے اتنی ہی ورزش کی افادیت ہے اور یہ ذہنی نشونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔

بچے کو بات کرنے کا اعتماد دیں اور اس کی بات کو اہمیت دیں۔ غلط حرکت کو تشدد کے ذریعے مت روکیں، اسے اس کے نقصانات بتائیں۔ اچھے کاموں کی تعریف کریں اور اسے مزید کی ترغیب دیں۔ بچے کو اس کی عمر کے حساب سے غیر نصابی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ بچوں کو وقت دیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں خصوصاً انٹرنیٹ کی۔ یہ صرف ایک بچے کی تربیت نہیں بلکہ معاشرے کا ایک اہم حصہ آپ کے ہاتھوں پروان چڑھ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •