جنوبی پنجاب صوبہ اور رادھا کا نو من تیل
جنوبی پنجاب کا خطہ صدیوں سے ہر طرح کے ظلم و ستم کا شکار رہا ہے۔ پُرشکوہ ماضی کے دریچوں میں مفلسی بال کھولے بیٹھی ہے، ہیبت ناک قلعوں کی غلام گردشوں میں بھوک ننگا رقص کرتی ہے، اور نسل در نسل غلامی میں جکڑے آبنوسی رنگوں اور مٹیالے بالوں والے کسان اپنی بدقسمتی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ کبھی وسطی ایشیائی لٹیروں کا نشانہ بنتے رہے (جنہیں تاریخ کی فرمائشی کتابوں میں عظیم مسلمان بادشاہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ) ، کبھی انگریزوں اور سکھوں کے ہاتھوں یرغمال بنتے رہے تو کبھی انگریزوں سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں پانے والے وڈیروں اور سرداروں کی چاکری کرتے رہے۔
ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی خطے کی زبان، تہزیب اور لغت وہاں کی رسم و رواج، کاروبار، ثقافت وغیرہ کی عکاس ہوتی ہے۔ آپ یقین کیجئے کہ سرائیکی زبان میں آپ کو کوئی ایسا لفظ نہیں ملے گا جس کا دور کا تعلق بھی صنعت و حرفت، آلات حرب یا کسی تخریبی کارروائی سے ہو۔ یہ میٹھی زبان اور صلح جو لوگوں کا علاقہ ہے۔ گو سرائیکی زبان اس خطے کی واحد ترجمان نہیں، لیکن اس سے آپ کو اس خطے کے باسیوں کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
جنوبی پنجاب کے آبادی اور وسائل کے حوالے سے تناسب انتہائی دلچسپ ہیں۔ بہاولپور ایک خود مختار ریاست تھی، گو قدیم زمانے میں ملتان اس پورے خطے کا صدر مقام تھا۔ اور ملتان کی سرحدیں مشرق میں دہلی اور مغرب میں افغانستان تک پہنچتی تھیں، تاہم قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاولپور برصغیر کی امیر ریاستوں میں سے ایک تھی۔ 1971 میں ون یونٹ کے خاتمے اور ریاست کے پاکستان میں ادغام کے بعد بہاولپور، رحیم یار خان، صادق آباد کے علاقے پنجاب کا حصہ بن گئے۔
اس کے علاوہ ملتان، خانیوال، لودھراں، وہاڑی، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بہاولنگر وغیرہ کے اضلاع جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔ جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 107 نشتیں ہیں، گزشتہ انتخابات میں کل 107 میں سے پچاس 50 تحریک انصاف نے جیتیں۔ تحریک انصاف اس خطے کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن کر آئی۔ مسلم لیگ ن 36 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ پیپلز پارٹی اس خطے سے صرف پانچ صوبائی نشستیں جیت پائی۔
دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ انتخابات سے قبل صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے نام سے بننے والا فارورڈ گروپ تحریک انصاف کو پیارا ہو چکا ہے۔ خسرو بختیار وغیرہ وزارتیں سمیٹ چکے ہیں، اور اس گروپ کے ایک غیر معروف رکن عثمان بزدار وزیراعلیٰ بن چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتیں اپوزیشن کے دنوں میں جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگاتی رہتی ہیں، اور قوم کا درد جو ان سیاستدانوں کے لئے بظاہر پیٹ کے درد جیسا ہوتا ہے اور انہیں کسی پل چین نہیں لینے دیتا۔
پیٹ کا مذکورہ درد ایوان اقتدار میں داخل ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے، جیسے اپنے خسرو بختیار اور عثمان بزدارکو درد رفع ہو چکا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نیا صوبہ بنانے کا معاملے کھٹائی میں ہی رہے گا۔ نیا صوبہ بنانے کے لئے جس صوبے کے حصے کرنا مقصود ہے اس کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت اور قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سادہ اکثریت کی توثیق درکار ہے۔ تحریک انصاف کے پاس عددی اکثریت نہیں۔ اب بندہ حکومت بنانے کے لئے تو جھوٹ بول لیتا ہے، لالچ وغیرہ سے ارکان کو اپنے ساتھ ملا سکتا ہے، لیکن نیا صوبہ بنانے جیسے بے ثمر کام اور گناہِ بے لذت کے لئے کون اتنی حُجت کرے۔ ن لیگ نے بظاہر تو تعاون کی پیشکش کی ہے، لیکن اپنے دورِ حکومت میں اکثریت ہونے کے باوجود ستُو پی کر سوتے رہے۔ اب ایک پنجاب محاورے کے مطابق گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں۔ اور ویسے بھی اگر نیا صوبہ بننے کا کریڈٹ تحریک انصاف کو ملنا ہے تو ن لیگ کیوں ایسا کام کرے گی؟
جہاں تک اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا تعلق ہے تو وہ میسر نہیں، اور جس جماعت کو میسر ہوگی تو بھلا وہ بیوقوف ہیں کہ پورے صوبے کو چھوڑ کر آدھے کے اقتدار پر قناعت کر لیں؟ مثال کے طور پر اسمبلی کے موجودہ اعداد وشمار پر نظر ڈال لیں۔ فرض کیجئے کہ ن لیگ اور دیگر جماعتیں خلوص سے تعاون کریں اور نیا صوبہ بن جائے تو تحریک انصاف نئے صوبے میں حکومت بنائے گی اور باقی ماندہ صوبہ پنجاب جو وسطی اور بالائی حصوں پر مشتمل ہو گا میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہو گی۔ تحریک انصاف یہ کبھی بھی نہیں چاہے گی۔ تآنکہ نئے انتخابات ہوں جس کی جانب خان صاحب نے ایک بار اشارہ بھی کیا تھا۔ غرض یہ رادھا کا نو من تیل ہے جو نہ پوُرا ہو گا نہ رادھا کو ناچنے کا موقع ملے گا۔
جنوبی پنجاب کے عوام کے سیاسی شعور کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو یہ دیکھ لیجیے کہ یہاں کے عوام نے کراچی، دیہی سندھ، خیبر پختونخواہ یا بلوچستان کی طرح کسی قوم پرست جماعت پر کبھی بھروسا نہیں کیا۔ جس طرح سندھ میں جئے سندھ اور عوامی تحریک، پختونخواہ میں اے این پی اور جمیعت، اور بلوچستان میں وہاں کی روایتی قوم پرست جماعتیں مقبول رہی ہیں اور شہری سندھ میں ایم کیو ایم کا طوطی بولتا رہا ہے، اس کے برعکس جنوبی پنجاب کے عوام نے ہمیشہ چھوٹی جماعتوں سے دھوکہ کھانے کی بجائے مین سٹریم جماعتوں سے دھوکہ کھانے کو ترجیح دی ہے۔
بھٹو صاحب کو مقبولیت کی انتہا پر پہنچایا، پیپلز پارٹی یہاں انتہائی مقبول رہی ہے۔ مسلم لیگ بھی جیتتی رہی ہے اور اب تحریک انصاف۔ اس کے برعکس سرائیکی قوم پرست جماعتیں کبھی ایک کونسلر کا انتخاب بھی نہیں جیت سکیں۔ قوم پرستوں میں آخری مقبول آواز تاج محمد لنگاہ مرحوم کی تھی، جو ایک بار منتخب تو ہوئے لیکن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر، اپنی جماعت کی طرف سے لڑتے ہوئے تو ہمیشہ ضمانت ہی ضبط کروائی۔ یہ تو یہاں کے سیاسی شعور کا ذکر۔
دوسری جانب یہاں صحت و تعلیم کی سہولیات پر نظر ڈالیں یا صاف پانی کی تلاش میں نظر دوڑائیں، امن و امان کی صورتحال کو دیکھیں یا کسانوں کے استحصال کو موضوع گفتگو بنائیں، شرمندگی ہو گی اور شدید شرمندگی ہو گی۔ اور اس پہ مستزاد ہر شہری کو اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ پاکستان کی بڑی فصلیں گندم اور کپاس سب سے زیادہ یہاں پیدا ہوتی ہیں، گنا، آم، سرسوں غرض کوئی بڑی فصل ایسی نہیں جو یہاں نہیں پیدا ہوتی، لیکن کبھی کسی اجڑے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھے خستہ حال کسان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں، شرمندگی ہو گی اور شدید شرمندگی ہو گی۔ اس کی آنکھوں میں اگر کوئی تھوڑی سی چمک باقی ہو گی تو وہ رادھا کی راہ تکتی ہو گی اور نو من تیل پورا ہونے کی دعا مانگتی ہو گی۔


