رائزنگ انڈیا کے کھوکھلے نعرے
قوموں کی ترقی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آج کی مہذب اورترقی یافتہ قومیں بھی کبھی شدیدجنگی جنون میں مبتلا رہی ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ جنگ لڑی گئی، فرانس اور انگلستان بھی کبھی ازلی دشمن تھے، جرمنوں نے تو خیر انگریزوں کے علاوہ پوری دنیا ہی کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ آئر لینڈ انگلستان کئی دہائیاں باہم برسر پیکار رہے۔ جاپانی بھی جنگی جنون میں مبتلا رہے اور ہر دوسری قوم کے ساتھ ان کی لڑائیاں رہیں۔ لائپزگ، واٹرلو، سٹالن گراڈ، ٹرافیلگر، پرل ہاربر، ہیروشیما، ناگاساکی وغیرہ۔ انہی قوموں کی جنگی داستانیں ہیں۔
لیکن جیسے جیسے قوموں نے شعوری اور علمی ترقی کی اورخوشحالی کی شاہراہ پر قدم آگے بڑھایا وہ تنازعات اور جنگوں وجدل سے دور ہوتی گئیں۔ بدلوں کی آگ، ازلی دشمنی، تباہی و بربادی جیسے لفظ بتدریج ان کی لغت سے نکلتے گئے اور افہام و تفہیم، بات چیت، تحمل وبردباری جیسے لفظ پوری شان کے ساتھ ان کی روزمرہ زندگی میں جگمگانے لگے۔
پھر جنگی جنون میں مبتلا جرمنوں نے ڈائیلاگ سے اپنا ہی مشرقی جرمنی واپس لیا اور بھاری مالی قیمت بھی چکائی۔ یورپ لڑتے لڑتے ایک یورپین یونین میں تبدیل ہوچکا۔ کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان آج بھی ہانس نامی جزیرے کا تنازعہ چل رہاہے اور اس پر بات چیت چلتی رہتی ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا تک نے ایک ایک قدم ہی سہی امن کی طرف آگے بڑھایا ہے۔
وزیراعظم من موہن سنگھ کے دور سے انڈیا نے معاشی ترقی کی جو اڑان بھری وہ حیرت انگیز تھی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی یلغار، کھیل، فلم، ٹیکنالوجی، گاڑیاں، ارب پتی کلاس لگتا تھا ہندوستان علمی اور شعوری لحاظ سے بھی اوپر اٹھے گا۔ اس سے زیادہ اس بات کی بھی خوشی تھی کہ اس خطے کے لوگ ہمسائے کے گال لال دیکھ کر اپنے گال چانٹے مارمارکر ہی لال کرنے کی روایت رکھتے ہیں اس لئے پاکستان بھی اب ایٹم بم اور میزائل کی دوڑ سے نکل کر معاشی دوڑ میں ہمسائے کی تقلید کرے گا۔
کبھی کبھار دونوں ملکوں کی طرف سے امن کی طرف اٹھائے گئے چھوٹے چھوٹے قدم ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے رہے۔ لیکن اس خطے کی بدقسمتی کہ سمجھوتہ ایکسپریس چلی تو بارود میں نہلا دی گئی۔ واجپائی صاحب دوستی بس لے کر پہنچے تو کارگل ہوگیا۔ جنرل مشرف کے دور میں امید بندھی کہ کشمیر کا مسئلہ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر حل ہونے جا رہاہے لیکن پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔
حالیہ تنازعہ پلوامہ کے بعد ہندوستان نے جس طرح کا متکبرانہ رویہ اختیار کیا ہے اس سے دونوں جوہری قومیں ایک دفعہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ یقیناً پاکستان میں بھی ایسی نام نہاد جہادی قوتیں موجود رہی ہیں جن کے ثمرات و اثرات پاکستان خود بھی بھگت رہا ہے۔ یہ مسلح گروہ گاہے دوسرے ممالک میں ہونے والی بعض کارروائیوں کا کریڈٹ بھی لیتے رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کا ریکارڈ بھی اس حوالے سے کوئی اچھا نہیں رہا۔ افغانستان میں اڈوں سے لے کر، سمجھوتہ ایکسپریس سے ہوتی ہوئی کلبھوشن یادو اور بلوچستان تک ایک لمبی داستان کی شکل میں موجودہے جو جہاد کے نام پر نہ سہی دہشت گردی کو کسی نہ کسی شکل میں پروان چڑھاتی رہی ہیں۔
مودی کے انڈیا میں تعصب، نسل پرستی، جنگی جنون کو اور بھی فروغ ملا ہے اور رائزنگ انڈیا کہیں پیچھے دھندلاتاچلا جارہا ہے۔ پلوامہ واقعہ پر اپنے ہی ملک میں مسلمانوں خصوصاً کشمیریوں پر مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ کھلاڑی، جرنیل، قلمکار اور نیوزاینکر ایک سے بڑھ کر ایک چنگاڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے نمبر لے جانے کے چکر میں وہ باتیں بھی کی جارہی ہیں جن کا سارے فسانے میں ذکر تک نہیں۔ کشمیریوں کی املاک جلائی جارہی ہیں، طالبعلموں کو مارا جارہا ہے، بچوں پر تشدد کے واقعات ہیں۔ ثبوت اور گواہ پیش کرنے کی بجائے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی باتیں ہیں۔ ایسے میں نووجوت سنگھ سدھو جیسی کچھ آوازیں ہیں جنہیں خاموش کرایا جارہا ہے۔ یہ رائزنگ انڈیا نہیں ہاں فالنگ انڈیا کی ابتداہے۔
آیا جے فیر غوری، پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب، ڈرپوک ہندو، دہشت گرد مسلمان، پانی بند کردیں گے، ٹماٹر نہیں بیچیں گے، سبق سکھادیں گے، سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے، کھوکھلے نعرے، سستی جگتیں، ایٹمی دھمکیاں اور جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ جنگی جنون میں مبتلا ہندوستان ہو یاسو سال جنگ کے لئے تیار پاکستان بالاآخر انہیں افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بظاہر اپنا نقصان کرکے بھی اپنی ناک نیچی کرکے بھی اپنی نسلوں کے بہترمستقبل کے لئے، امن کی بات بلکہ حقیقی ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ امن کی بات کرنے والوں کو دونوں ملکوں میں ہیرو بنانا ہوگا پھر ہی رائزنگ انڈیا کا خواب پورا ہوسکے گا، پھر ہی پاکستان دنیا کی بڑی معیشت بن سکے گا۔


