بچپن۔ چند یادیں
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
انسانی زندگی تین ادوار پر مشتمل ہے بچپن ؛ جوانی اور بڑھاپا لیکن ان سب سے جو یاد رکھنے والا دور ہے وہ بچپن ہے اور ہر انسان اسے اپنی زندگی کا خوبصورت دور سمجھتا ہے اور بچپن کے کھیل ہمیشہ انسان کو من و عن یاد رہتے ہیں اگر وہ کھیل انسان کے سامنے آجائیں تو انسان ماضی میں کھو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس دور میں محسوس کرتا ہے اسی طرح کے کھیلوں اور سرگرمیوں کی چند تصویری جھلکیاں اور ان کے نام اور کھیل کا طریقہ کار آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔
اس کھیل کا نام ہے پٹھو گرم۔
دونوں طرف برابر کھلاڑی ہوتے ہیں اور ایک ٹیم پٹھو کو نشانہ لگاتی ہے اور دوسری ٹیم اسے کیچ پکڑنے کے لیے مخالف سمت کھڑی ہوتی ہے پٹھو کو نشانہ لگنے کی صورت میں باری لینے والی ٹیم دوڑ لگاتی ہے اور دوسری ٹیم انہیں شکار کرنے کے لیے پیچھے بال لے کر بھاگتی ہے اور باری لینے والی ٹیم اگر پٹھو کو دوبارہ اکٹھا کردے تو وہ ایک گول تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر کسی کھلاڑی کو گیند لگ جائے تو وہ باری ختم ہوجاتی اور اگلے کھلاڑی کی باری آجاتی ہے۔ گاؤں میں اور شہروں میں مقبول کھیل تھا لیکن اب یہ کھیل ناپید ہوتا جارہا ہے سکولوں میں اس کھیل کو بہت شوق سے کھیلا جاتا تھا اور انعام رکھ کے بھی اس کھیل کو کھیلا جاتا رہا ہے۔
اس کھیل کا نام لٹو گھمانا۔
لٹو بطور خاص دھرکھان یا مستری سے بنوایا جاتا اور ایک خاص رسی بنائی جاتی رسی کے ساتھ لٹو کو باندھ کر زور سے زمین گھما کر مارا جاتا اور لٹو گھومنے لگتا جس سے سب لوگ محظوظ ہوتے اور لٹو گھمانے کے باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے اور جیت کی خوشی کے ساتھ لٹو کی اہمیت اور بڑھ جاتی اور وہ بہت اہمیت اختیار کر جاتا پھر اس کا خیال رکھا جاتا اور سارا دن بچے انجوائے کرتے۔
پھائی لگانا۔
یہ کھیل اور شکار بھی کہا جاسکتا ہے گرمی کی دوپہر میں جب سورج پورے جوبن میں ہوتا ہے تو اس کھیل کو منچلے کھیلتے تھے ایک تانبا (ایک قسم کا ٹب) جس کو ایک لکڑی کی ٹیک لگا کر رکھا جاتا اور اس لکڑی کو ایک لمبی رسی کے ساتھ باندھا جاتا تھا تانبے کے نیچے دانے اور پانی رکھا جاتا پیاسے پنچھی جب پانی پینے یا بھوک مٹانے اس کے نیچے بیٹھتے تو دور چھپے ہوئے شکاری رسی کو کھینچ لیتے اور پرندے کو قید کرلیتے تھے۔
اس کھیل کا نام ہے کروڑا چھپاکی۔
اس کھیل میں چھ سے سات کھلاڑی حصہ لیتے ہیں اور ایک کھلاڑی کروڑا گھماتے ہوئے ان کے گرد چکر لگاتا ہے اور ساتھ یہ پڑھتا ہے ”کروڑاچھپاکی جمعرات آئی اے جنہیں پچھے دیکھیا اوندی شامت آئی جے“
کھلاڑی نیچے منہ کرکے بیٹھے ہوتے ہیں اور ایک یہ پڑھتا ہوا ایک بندے کے پیچھے رکھ دیتا ہے اور وہ اٹھا کے دوسرے کے پیچھے بھاگتا ہے اس وقت تک جب تک پہلے والا کھلاڑی بیٹھ نہ جائے اور یہ کھیل اس طرح جاری رہتا ہے اور انجوائے کرتے تھے۔
یہ سگنل سرگرمی ہے۔
دس پندرہ سال پہلے گھروں میں اور خصوصاً دیہاتوں میں صرف سرکاری ٹی وی دیکھا جاتا تھا اور وہ بھی ایک چینل اور سات بج کر پینتالیس منٹ والا ڈراما جو کہ ایک گھنٹہ دورانیے پر مشتمل ہوتا تھا اور اس ڈرامے کی ٹیلی کاسٹ سے قبل ٹی وی کی ٹیوننگ اور اس کے سگنل ٹھیک کرلیے جاتے تھے تاکہ ایک گھنٹہ سکون سے ڈراما دیکھا جاسکے اس سرگرمی کے لیے ایک بندہ انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے چھت پر جاتا اور دوسرا بندہ بتاتا کہ فلاں جگہ پر ٹی وی پر تصویر بالکل واضح ہے اور آواز بھی مناسب سنائی دے رہی ہے اس عمل کو گھنٹہ بھی لگ جاتا اور دو منٹ میں بھی یہ کام ہوسکتا تھا اور ڈھیٹ ٹی وی ٹوٹ بھی سکتاتھا۔







