فخرِ فقر، حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر وسیع اجتماعی انقلاب میں جو معاشرے کی ناگفتہ بہ کیفیت کے خلاف آیا ہو کچھ سبقت کرنے والے ہوتے ہیں۔ انقلاب کی اُٹھان انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ در حقیقت انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار وہی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا رہبر جب ہر لحاظ سے تنہا ہوتا ہے وہ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اگرچہ وہ مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور طرح طرح کے خطروں سے دوچار ہوتے ہیں، نصرت اور وفاداری سے دست بردار نہیں ہوتے۔

ان اخلاقی اور تحریکی صفات سے مزین، پاکیزہ اور سلیم قلوب کے حامل، جو علم میں بہت زیادہ درک اور گہرائی کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ طرزِ زندگی اپنانے والے ہوتے ہیں۔ تاریخِ عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے انقلابی، تحریکی، وفادار، اخلاقی اور سادگی پسند کارکنان صرف تحریک اسلام کے پلیٹ فارم پر محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہبری میں جدوجہد کرتے دکھائی دیں گے، جنہیں اصحابِ محمد کہا جاتا ہے۔

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سابقین و باوفا میں ایک نام ابوذر رضی اللہ عنہ کا بھی آتا ہے۔ ان کا اصل نام جندب ابن جنادہ تھا اور قبیلہ غفّار سے تعلق تھا۔ نجیح ابو معشر سے مروی ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ قبل از اسلام بھی عبادت گزار تھے ”لا الہ الا اللہ“ کہتے تھے اور بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے نبی کریمؐ کو پہلا اسلامی سلام کیا۔ (طبقات ابن سعد) ۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ کے ہمراہ نبی کریمؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپؐ کا کلام سننے کے بعد اسی وقت اسلام لے آئے، اولین اسلام لانے والوں میں حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ چوتھے تھے۔ (اُسد الغابہ) ۔ پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے بعد کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت ابوذر رضی اللہ وعنہ سے کہا: ”اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے اُمراء ہوں گے جو مالِ غنیمت کو خود لیں گے۔

ابوذر نے عرض کی: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا، اس وقت میں اپنی تلوار سے اتنا ماروں گا کہ آپؐ سے مِل جاؤں گا۔ اس پر پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: میں تمہیں وہ طریقہ نہ بتاؤں جو اس سے بہتر ہے، (وہ یہ کہ) صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے مِل جانا۔ (طبقات ابن سعد) ۔ مخبرِ اعظمؐ کا فرمان حق ثابت ہوا، اُمراء نے مالِ غنیمت کو اپنے اختیار میں لینا شروع کردیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتے اور فرماتے کہ میرے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برابر ہے، یہاں تک کہ حق (پر قائم رہنے ) نے میرے لئے کوئی دوست نہ چھوڑا۔ طبقات ابن سعد) ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے کچھ عرصے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام کا رُخ کر لیا، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ شام کے قیام کے وقت اس طرح وعظ و نصیحت کرتے تھے کہ ”اے دولتمند لوگو! تم غریبوں کے ساتھ ہمدردی کرو، وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں جہنم کی آگ کے ٹھکانہ کی خوشخبری سُنا دو جہاں ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پُشت پر داغ لگا دیا جائے گا۔

آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس قسم کی تقریریں کرتے رہے یہاں تک کہ عوام کے غریب طبقہ پر ان باتوں کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے دولتمندوں کو بھی ان باتوں پر مجبور کیا، چنانچہ دولتمند اور لوگوں کا استحصال کرنے والا طبقہ عوام کے اس سلوک کی شکایت کرنے لگا۔ (تاریخ طبری) ۔ جب عوام کے اس رویہ کی خبرشام کے گورنر معاویہؓ ابن سفیان تک پنہچی تو گورنر نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ابوذرنے شام کے لوگوں کو بگاڑ دیا ہے، یعنی ابوذر کو واپس مدینہ بلوا لیا جائے۔

خط ملنے کے بعد حاکم وقت نے حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ کو واپس مدینہ بلا لیا اور کہا کہ اے ابوذر! تم میرے پاس رہو، صبح و شام تمہارے پاس دودھ والی اونٹنیاں آئیں گی (یعنی تمہیں کوئی مالی مشکل درپیش نہیں ہوگی) ، اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے حاکم وقت کو جواب دیا کہ مجھے تم لوگوں کی دنیا کی کوئی حاجت نہیں۔ مجھے رسول اکرمؐ نے حکم دیا تھا کہ جب مدینہ کی عمارتیں خفیہ اڈے بن جائیں تو میں (ابوذر) وہاں سے نکل جاؤں۔ (طبقات ابن سعد، اُسد الغابہ) ۔ اس کے بعد حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مقام ربذہ جو ایک صحرا تھا کی جانب چلے گئے۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی، صداقت، زہد و تقوٰی کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ”ابوذر سے زیادہ سچ بولنے والے (انسان) پر نہ آسمان نے سایہ کیا اور نہ زمین نے (وزن) اُٹھایا، جسے حضرت عیسٰی علیہ سلام کا زُہد دیکھنا پسند ہو وہ ابوذر کی طرف دیکھے۔ “ (طبقات ابن سعد) ۔ مال و دولت، حرص و لالچ کی آگ سے دور رہنے والے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آکر ہدیہ پیش کرنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو لینے سے انکار کیا اور کہا کہ ہمارے پاس سواری کے لئے گدھے ہیں، دودھ کے لئے بھیڑیں ہیں، خدمت کے لئے لونڈی ہے اور ہمارے پہننے سے زیادہ عباء ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ زیادہ کا مجھ سے حساب لیا جائے گا۔ (طبقات ابن سعد) ۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے فقر و زُہد کو تارک الدنیا ہو کر یا رُہبانیت کا راستہ اختیار کر کے قائم نہیں رکھا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے دور کے طبقۂ اُمراء اور غریب و مفلس عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں سے پکار پکار کر کہتے کہ ”اگر تم یہ محل اپنے پیسے سے بنا رہے ہو تو یہ اسراف ہے اور اگر عوام کے پیسوں سے بنوا رہے ہو تو خیانت ہے۔ “

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی حیاتِ پاک کے آخری ایّام صحرائے ربذہ میں ہی گزارے اس حالت میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات میں آپ کے پاس آپ کی بیوی اور چند راہ گیر اصحاب جو کہ آپ رضی اللہ عنہ کی حالت دیکھ کر ٹھہر گئے تھے کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ اس حالتِ نزاع میں بھی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی اور راہگیروں کو یہ وصیت کی کہ ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کوئی شخص جو حاکم ہو، نائب ہویا قاصد ہو مجھے ہرگز کفن نہ دے۔

” ان تمام راہگیروں میں سے ایک انصار کا نوجوان تھا جو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی وصیت پر پورا اُترا، اسی نوجوان نے اپنی چادر کو بطور کفن حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو پہنایا۔ یہ 32 ہجری کا سال تھا کہ انسانیت کا مسیحا، دولتمند اور امراء طبقہ کو ہمت و بہادری کے ساتھ نصیحت، تلقین اور للکارتے ہوئے اس دنیا سے کوچ کرگیا۔ (طبقات ابن سعد) ۔

مسلم معاشرہ میں یہ بھی ایک المیہ رہا ہے کہ جتنی شدت و جذبہ کے ساتھ حکمران، طبقۂ امراء اور تارک الدنیا صوفیاء کے حالات و واقعات کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اس قدر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ جیسے اسلام کے متحرک اور انقلابی کارکن کی قربانیوں کو سامنے نہیں لایا جاتا، اگر سیرتِ ابوذر کو اسلامی معاشرہ میں عام کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی اور آپ کے اسلامی طرزِ حیات کو اقوام عالم کے سامنے بطورِ نمونہ پیش کیا جاتا تو کمیونیزم یا اشتراکیت کے کھوکھلے نعرے عوام الناس کی توجہ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

عصرِ حاضر میں عوام الناس کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، کہ تقریباٗ دو درجن افراد دنیا کی آدھی دولت پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، ایسے حالات میں ہمیں حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ جیسا غیر لچکدار طرز عمل و فکر اختیار کرنا ہوگا، سماج میں مساوات کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری خزانہ (بیت المال) طبقۂ امراء کی شان و شوکت اور لہو لعب کے لئے نہیں بلکہ غریب و مفلس عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال ہو، ان اموال سے قیصر و کسریٰ کے محلّات تعمیر کرکے ان کے افسانوں کو زندہ نہ کیا جائے بلکہ اندازِ بوذری کو اختیار کر کے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جائے کہ جس میں دورِ پیغمبرؐ کے نظامِ مدینہ کی جھلک نظر آئے۔ اِس وقت ہمیں محمود و ایاز جیسی مساوات کی ضرورت نہیں جس کا دَم مسجد کی دہلیز پر ہی نکل جاتا ہو، بلکہ انداز، فکر، ولولہ اور فقر بوذری کی ضرورت ہے جو ظلم و ستم کی آندھیوں میں اپنے انقلابی چراغ کو بجھنے نہیں دیتا۔ جیسے کہ شاعر نے کہا ہے :

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •