خلیفہ طائع باللہ اور عضدالدولہ کا ممکنہ جنم

4 اگست 974 ء ( 363 ہ) کو ایک ایسا خلیفہ تختِ خلافت پر بیٹھا کہ جس کے دور میں خلیفہ (سر براہ) کے مقابلہ میں وزیراعظم کے عہدہ کو خلیفہ سے زیادہ عزت و مقام دینے کی بنیاد پڑی۔ ابوالفضل عبدالکریم طائع باللہ بن الفضل مطیع باللہ 932 ء ( 317 ہ) کو پیدا ہوا۔ یہ سلطنتِ عباسیہ کا چوبیسواں خلیفہ تھا۔ 367 ہ میں شہر بغداد میں حملہ آور عضدالدولہ کی فتح و نصرت کا ڈنکا بجا، جس کے بعد خلیفہ طائع باللہ نے عضدالدولہ کو نائبِ سلطنت یعنی وزیرِاعظم مقرر کر دیا۔

Read more

مقامی زبان کیوں تعلیم کے لئے ضروری ہے؟

ہر قوم کی زبان اس کی تاریخ، روایات اور تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے، اور جب مقامی یا مادری زبان کسی سماج میں دم توڑنے لگتی ہے تو سماجی اور معاشرتی اُمور افرا تفری کا شکار ہو کر انسانی اقدار کو تنزلی کی جانب لے جاتے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے گزشتہ دنوں پنجاب…

Read more

فخرِ فقر، حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ

ہر وسیع اجتماعی انقلاب میں جو معاشرے کی ناگفتہ بہ کیفیت کے خلاف آیا ہو کچھ سبقت کرنے والے ہوتے ہیں۔ انقلاب کی اُٹھان انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ در حقیقت انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار وہی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا رہبر جب ہر لحاظ سے تنہا ہوتا ہے وہ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اگرچہ وہ مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور طرح طرح کے خطروں سے دوچار ہوتے ہیں، نصرت اور وفاداری سے دست بردار نہیں ہوتے۔

ان اخلاقی اور تحریکی صفات سے مزین، پاکیزہ اور سلیم قلوب کے حامل، جو علم میں بہت زیادہ درک اور گہرائی کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ طرزِ زندگی اپنانے والے ہوتے ہیں۔ تاریخِ عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے انقلابی، تحریکی، وفادار، اخلاقی اور سادگی پسند کارکنان صرف تحریک اسلام کے پلیٹ فارم پر محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہبری میں جدوجہد کرتے دکھائی دیں گے، جنہیں اصحابِ محمد کہا جاتا ہے۔

Read more

تاریخِ اسلام کی مسجد اول کے بانی

حضرت عمّار بن یاسر کی کنیت ابو الیقضان ہے۔ آپ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ حضرتِ سمیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ عمّار کے والدین کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ آپ دونوں اسلام میں پہل کرنے والے تھے۔ حضرت عمّار رضی اللہ عنہ کے والدین کا شمار اللہ کے دین کی خاطر مصائب، تکالیف اور سزا پانے والوں میں ہوتا ہے۔ علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ جب نبیؐ کا گزرعمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب سے ہوتا تو آپؐ عمّار کے والد کا نام لے کر فرماتے : ”یاسر کے گھرانے والو! صبر سے کام لو، تمہارا بدلہ جنت ہے۔ “ (الاصابۃ)

حضرتِ عمّار رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرتِ سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی سب سے پہلی خاتون شہیدہ ہیں اور یہ وہ اعزاز ہے کہ جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہو سکا اور نہ قیامت تک ہو سکے گا۔ ایسے عظیم والدین کی اولاد حضرت عمّار رضی اللہ عنہ جیسی ہی ہو سکتی ہے۔

Read more

روم کے عام شہری اور پاکستان کے عوام

سلطنتِ روم کی شہری جمہوریت میں پیٹریشینز نامی طبقہ حکمرانوں کا تھا اور پلیبینز جن کی تعداد کثیر تھی لیکن نمائندگی بہت کم تھی۔ پلیبینز کو سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق حاصل نہ تھے۔ پیٹریشینز کا طبقہ زمیندار تھا اور پلیبینز کاشتکار اور مزدور تھے۔ پلیبینز نے اپنے حقوق کے لئے بہت طویل عرصہ جدوجہد کی جو کہ قریب دو صدیوں پرمشتمل تھا، یہاں تک کہ انہوں نے روم سے علیحدگی تک اختیار کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیٹریشینز کے لئے معاشرتی اور سماجی اُمور چلانا ناممکن ہو گیا تو انہوں نے مجبوراً پلیبینز کو پہلے کچھ مراعات دیں، اس کے بعد ریاست کی زمین کا حصہ ان میں تقسیم کیا، ان کی انجمن کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا، پلیبینزکے حقوق کے تحفظ کے لئے ٹریبیونز مقرر کیے۔

Read more