ثابت نہیں کر سکتے تو گرفتار کرتے کیوں ہوں


پاکستانی سیاستدانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سیاستدان اپنی گفتگو سے ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنانے کا ہنر جا تے ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے سے یہ سیاستدان احتساب کو انتقام میں اور انتقام کو احتساب میں بدلنے کے ماہر بن چکے ہیں، ویسے تو کپتان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا مرکز ہی بلا امتیاز احتساب اور کرپشن کا خاتمہ رہا۔ مگر پاناما اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان نے شریف خاندان کے خلاف ایسی جنگ لڑی کہ عدالتی محاذ کے ساتھ ساتھ 2018 کے انتخابی میدان میں بھی شریف خاندان کوشکست کا سامنا کرنا پڑھا۔

پہلے دن سے لے کر آج تک کپتان ہر فورم پر ایک ہی جملہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔ سب کا احتساب ہوگا اور بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی۔ کپتان کے اسی عزم کو دیکھتے ہوئے سیکڑوں پی ٹی آئی ووٹرز کو یہ حوصلہ تھا کہ اب اس ملک میں کچھ ہو نہ ہوں۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں احتساب ضرور ہوگا۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر دور میں احتساب کو انتقام اور پولیٹیکل انجئیرنگ کے لئے استعمال کیا گیا۔ سیف الرحمان کا نیب پیپلزپارٹی کے خلاف استعمال ہوا، پرویز مشرف کے دور میں ہم خیال گروپ، ق لیگ اور پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بھی نیب کی مرہون منت بنی۔ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے، پرویز مشرف کے دور میں ہی شریف خاندان کو جدہ جانے کا این آر او ملا، اور بے نظر کو وطن واپسی کا این آر او ملا۔ یعنی ہر دور میں احتساب کا نعرہ لگا کر قوم سے مذاق کیا گیا۔

مگر کپتان نے حلف اٹھاتے ہی قوم اسمبلی میں کہا کہ کہ کسی چور ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔ عمومی طور پر سیاستدان جو نعرے الیکشن میں لگاتے ہیں، وہ منتخب ہو کر ان نعروں پرعمل نہیں کرتے مگر عمران خان اپنے موقف پر قائم نظر آئے۔ نیب نے جب شہباز شریف کو گرفتار کیا، تو اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اپوزیشن کے رہنمائی روزانہ ٹی وی چینلزپر بیٹھ کر اس گرفتاری کو سلیکٹو احتساب قرار دیتے رہئے۔

مسلم لیگ ن کی قیادت نیب تحقیقات کا سامنا کرنے والے علیم خان، پرویز خٹک، اور عمران خان کی گرفتاری کا مطالبہ کر تی رہی۔ پروڈیکشن آڈر کے مزے لوٹنے والے شہباز شریف خود قومی اسمبلی میں اپنی گرفتاری کو نیب نیازی گٹھ جوڑ قرار دیتے رہئے۔ شہباز شریف کا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بننا اورنواز شریف کا علاج کے نام پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل ہونا۔ ایک مرتبہ پھر تجزیہ کاروں کو این آر او کی نوید سنا رہا تھا، نیب کی کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کا میاب ہوئے۔

محسوس یہی ہو رہا تھا کہ کپتان کا احتساب کا نعرہ بھی کھوکھلا نکلا۔ این آر او کی فضائی میں پنجاب کے سنیئرصوبائی وزیر علیم خان کی گرفتاری گیم چینجر ثابت ہوئی۔ وہ اپوزیشن جو علیم خان کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشین قرار دیتی تھی۔ وہ اپوزیشن جو علیم خان کو لیڈ مافیا کہا کر تی تھی۔ آج وہ علیم خان کی گرفتاری کی مذمت کر رہی تھی۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے کسی قسم کا کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔

خبریں تو یہ تھیں کہ علاج کے نام میاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ مگر وزیر اعظم نے جلسہ عام سے خطاب کے دوران این آر او کو قوم سے غداری قرار دے کر اپوزیشن کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ جس کا عملی ثبوت یہ تھا کہ نواز شریف نے علاج کی بجائے جیل جانے کا فیصلہ کیا۔ مریم نواز نے یہاں تک کہاں کہ ہیمیں رحم کی بھیک قبول نہیں ہے۔ مگر میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر جیل سے جناح ہسپتال منتقل ہو چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی کے لئے ضمانت ملنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

سیاسی پنڈت تو آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کا انتظار کر رہئے تھے۔ مگر نیب نے سندھ اسمبلی کے اسپیکرآغا سراج درانی کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ ماضی کی طرح اس گرفتاری کو بھی اپوزیشن نے جمہوریت پر حملہ قرار دینے کے علاوہ سیاسی انتقام قرار دے دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں اسپیکر اور وزرائی کا گرفتار ہونا احتساب کے عمل کے لئے بہت اہم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسی گرفتاری کا کیا فائدہ اگر شہباز شریف کو کئی دن تک جسمانی ریمانڈ پر رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کرنا پڑھے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی گرفتاری کا کیا فائدہ اگرنیب کی کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے ایک ملزم حولات سے مظلوم بن کر نکلے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے جسمانی ریمانڈ کا کیا فائدہ کہ پروڈیکشن آڈرز کو ایک ملزم ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔ ایسے احتساب کا کیا فائدہ جہاں مجرم بیماری کو جواز بنا کرہسپتال اور پھر بیرون ملک منتقل ہونے کی اسکیمیں پیش کرے۔ ایسے احتساب کا کیا فائدہ کہ ایک ملزم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہو جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ وی وی آئی پی احتساب کے عمل کو پورا کرنے کے لئے وی آئی ہسپتال بنائے تاکہ ملزموں اور مجرموں کا بیرون ملک جانے کا راستہ اور جواز ختم ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ منتخب نمائندوں کے پروڈیکشن آڈرزکاقانون تبدیل کرے تاکہ نیب بھرپور طریقے سے تحقیقات کر سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تبدیل کرے تاکہ شہباز شریف جیسے ملزموں کو نیلسن منڈیلا بننے کا موقع نہ ملے۔ اگر نیب ایک ملزم یا مجرم کومنطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتی تو پھر گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کرپٹ سیاستدان ماضی کی طرح احتساب کو انتقام میں بدلنے کی کامیاب کوشش کرتے رہئے گے۔ اس لئے احتساب کو انجام تک پہچائے۔ انجام تک

Facebook Comments HS