دفتر میں نماز ضرور پڑھیں لیکن۔


عالمِ دین ہونے کا نہ کبھی دعویٰ کیا ہے صاحب اور نہ ہی کوئی ایسی خوش فہمی ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں مذہب کو جو مقام حاصل ہے، اس پر اپنی ٹوٹی پھوٹی رائے دے سکتے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ مشکل موضوع ہے تو احباب سے گزارش ہے کہ تحمل سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور تصویر کے دوسرے رُخ کو دیکھنے کی کوشش کریں۔

ہر مسلمان کے لئے نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اس سے تو کوئی اختلاف نہیں کر سکتا۔ ہم مسلمان اپنی اپنی حیثیت اور ایمان کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز ادا کرنے کے طریقے میں فروہی اختلاف ہو سکتا ہے، تاہم سجدہ اسی خدائے وحدہ لا شریک کو کیا جاتا ہے۔ ہم میں سے جو بھی حصولِ روزگار کے لئے گھر سے باہر نکلتا ہے اس کے لئے ظہر اور عصر کی نماز کے اوقات عموماً دفتر میں ہی وارد ہوتے ہیں، موسمِ سرما میں مغرب بھی دفتری اوقات میں ہوتی ہے۔

جو لوگ رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں، ان کے لئے عموماً عشا یا فجر میں سے کسی ایک نماز کا وقت دفتری اوقات میں ہوتا ہے۔ ہم میں سے بیشتر رزق کی تلاش کے لئے گھر سے دعا کر کے بھی نکلتے ہیں۔ نماز کا وقت ہوتے ہی مسجد کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں۔ بڑے دفاتر اور فیکٹریوں وغیرہ میں چھوٹی سی مسجد بھی تعمیر کی جاتی ہے۔ جمعہ کے روز نماز کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ دفتری اوقات جن کی ہم تنخواہ وصول کرتے ہیں، کیا اس میں نماز کا وقفہ شامل ہے؟ میں نے آج تک کسی ملازمت کے کنٹریکٹ میں نماز کے وقفے کا ذکر نہیں دیکھا۔ اوراگر نہیں تو کیا اس وقت کی تنخواہ ہمارے لئے حلال ہے؟

یہاں بات کو مزید واضح کرنے کے لئے اپنے ارد گرد سے کچھ مثالیں دیکھ لیتے ہیں۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ناچیز کام کرتا تھا۔ وہاں ایک صاحب تھے، جو روزانہ قریب گیارہ ساڑھے گیارہ بجے صبح دفتر آیا کرتے تھے کہ عموماً ایڈورٹائزنگ کمپنیوں میں اوقات کار دیر سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ جمعے کے روز وہ دفتر آنے کے کچھ ہی دیر بعد مسجد تشریف لے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جمعے کی نماز کے خصوصی اہتمام کا حکم ہے۔ وہاں سے قریب اڑھائی بجے واپسی ہوتی تھی جس کے فوری بعد لنچ کا مرحلہ درپیش ہوتا تھا۔

تو صاحب قریب تین ساڑھے تین بجے اپنی نشست پر آتے تھے اور تھوڑی دیر بعد عصر کا وقت ہو جاتا تھا۔ ایک سوال جو ہمیشہ ذہن میں آتا تھا کہ آیا اس وقتِ مذکورہ کی تنخواہ حلال ہوئی یا نہیں؟ فرض کیجئے اس شخص کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے، ایک دن کی تنخواہ قریب 3333 روپے ہوئی جسے ایک روز کے دفتری اوقات یعنی آٹھ گھنٹے پر تقسیم کریں تو ایک گھنٹے کی تنخواہ تقریباً چار سو سولہ روپے بنی۔ بلا مبالغہ اور مشاہدے کی بات ہے کہ لنچ بریک کے علاوہ ایک آدمی کم از کم ایک اور بسا اوقات تین گھنٹے تک کا وقت نماز پر صرف کرتا ہے۔

اس میں تنقید نماز پر ہر گز نہیں۔ اس رویے پر ہے جو ہم نماز کے سلسلے میں روا رکھتے ہیں۔ آپ دفتر میں کام کر رہے ہیں۔ نماز کا وقت ہوا، وضو کے وقت کو ملا کر بھی دس منٹ میں فرض اور موکدہ نماز ادا کی جا سکتی ہے، زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ۔ لیکن یار لوگ اذان کی آواز سنتے ہی اور اکثر اوقات اذان سے بھی پہلے مسجد کی طرف جاتے ہیں۔ سب سے پہلے فون وغیرہ سنے جاتے ہیں، اس دوران سگریٹ نوشی معمول کی بات ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے، نماز کے بعد قریبی کھوکھے پر کھڑے ہو کر گپ شپ کی جائے گی، کوئی بوتل شوتل پی جائے گی۔

پھر دفتر کی راہ لی جائے گی۔ یقین کیجئے ایک نماز کا عمل تقریباً ایک گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ اب اس ایک گھنٹے کی آپ نے تنخواہ لی ہے یا لیں گے۔ اس دوران اگر آجر آپ کے مذہبی فریضے کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس آزادی اور سہولت کا اس بری طرح سے استحصال کیا جائے؟ یقین کیجئے گا۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ کئی دفعہ ایسا بھی دیکھا کہ یار لوگ نماز کے لئے دفتر سے نکلے اور مسجد نہیں گئے بلکہ قریبی کھوکھے پر سگریٹ نوشی اور گپ شپ میں ایک گھنٹہ گزار کر واپس آ گئے۔

اسی طرح کئی دفعہ دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں چونکہ روزہ لگ رہا ہوتا ہے، تو یار لوگ ظہر کی نماز کے بعد مسجد میں قیلولہ کرنے کو لیٹ گئے۔ اب اس نماز اور روزے کی حقیقت تو کوئی عالمِ دین ہی بتا سکتے ہیں۔ ناچیز کی رائے میں وصول کی گئی اور قابلِ وصول ایک ایک پائی کو حلال کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز روزہ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ایک آجر جو آپ کو ایک مقرر تنخواہ ادا کرتا ہے اس کا حق یعنی حقوق العباد ضروری ہے کہ نہیں۔

خدا کرے کسی دشمن کو بھی رمضان کے مہینے میں کسی سرکاری دفتر میں کام نہ پڑے۔ دفتری اوقات ویسے ہی مختصر ہو جاتے ہیں۔ اس دوران جس بابو یا کلرک سے آپ کو کام ہے وہ یا تو روزہ رکھ کر نڈھال پڑے اینڈھتے ہوں گے یا نماز پڑھنے گئے ہوں گے۔ اسی طرح موسمِ سرما میں دوپہر ایک بجے سے پانچ بجے تک کسی سرکاری نجی دفتر میں جا کر دیکھ لیجیے کہ آپ کو کتنے لوگ اپنی نشستوں پر ملتے ہیں۔ اور جو نہیں موجود کبھی چیک کر لیجیے کہ ان میں سے کتنے واقعتاً نماز ادا کرتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

حضرت رابعہ بصری ؒ اپنے وقت کی معروف ولیہ تھیں۔ رات کے وقت گھر کے قریب راستے سے قافلے گزرتے تھے تو اردگرد روشنی ہو جاتی تھی۔ سیدہ اس وقت چرخہ لے کر راستے پر بیٹھ جاتی تھیں اور سوت کاتتی تھیں۔ حضرت بایزید بسطامیؒ سے جب پوچھا تو حضرت نے فرمایا کہ رابعہ اس سوت کی آمدنی تم پر حلال نہیں۔ بہرحال وہ ان اولیا کا مقام تھا۔ ہم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنا جو وقت ہم کسی ادارے یا آجر کو فروخت کر چکے ہیں، اور ان اوقات میں دفتر میں کام کرنے کا وعدہ یا ایگریمنٹ کر چکے ہیں، ان اوقات کو پوری ایمانداری سے اپنے کام پر صرف کریں۔

چلیں یار لوگوں نے جو فون پر پیکج ایکٹیویٹ کیا ہے اس کو بھی کام میں لانا ہے، گھریلو امور بھی نمٹانے ہیں، موٹر سائیکل یا گاڑی بھی ٹھیک کروانی ہے، اور جانے کیا کچھ۔ لیکن یہ سب کچھ نماز کے نام پر تو نہ کریں۔ نماز پڑھے سے کوئی نہیں منع کرتا۔ لیکن اس آزادی کا ایسا بہیمانہ استعمال؟ اب کسی نے منع کر کے اپنے اوپر فتویٰ تو نہیں لگوانا، لیکن اپنی روزی حلال تو کرنی ہے یا نہیں؟

Facebook Comments HS