لڑائی مہنگی ہے


جنگ کا سودا مہنگا ہے اور ہم سدا کے غریب۔ آج کل تو ویسے ہی بے روزگاری کا موسم ہے۔ امریکی افغانستان سے اپنا پاندان اٹھا رہے ہیں اور ہمارے پاس اب بیچنے کو بھی کچھ نہیں بچا۔ ہم نے بھارتیوں سے نہیں لڑنا یہ ایٹمی میزائلوں کی باتیں تو صرف لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہے حقیقت میں جنگ بہت مہنگی ہے۔ ہم صرف چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اگر اگلا بندہ سیریس ہو جائے تو ہم کمانڈو ہونے کے باوجود سارک کانفرنس میں واجپائی سے سلام کرنے پہنچ جاتے ہیں بھلے ہماری بے پناہ گرم جوشی کے جواب میں وہ صرف دو انگلیاں مصافحہ کے لئے بڑھائے کس کے منہ میں اتنے دانت ہیں وہ ہمیں واجپائی کا یار کہے۔

ہماری زنبیل میں ایٹم بم بھی ہیں لیزر گائیڈڈ میزائل بھی بے شمار ٹینک بھی دور مار توپیں بھی سارے جدید ہتھیار ہم رکھتے ہیں بس جنگ اچھی چیز نہیں۔ ہم ملک کو جنگ سے بچانے میں بہت سنجیدہ ہوتے ہیں اگلا جنگ پر تل جائے تو ہم کرکٹ ڈپلومیسی میں بھی ماہر ہیں چاہے راجیو گاندھی ہو ہم جنگ روکنے کے لئے کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے پہنچ جاتے ہیں۔

جنگ اچھی چیز نہیں بھارتی خواہ مخواہ سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے بھارتی فوج کے کشمیر میں کارپوریٹ مفادات پیدا ہو چکے ہیں اور انہوں نے ان مفادات کے تحفظ کے لئے ایک انتہا پسند جماعت کو بھی حلیف بنا لیا ہے۔ ہمیں یہ بھی لگتا ہے بھارتی فوج نے میڈیا قابو کر لیا ہے سارا بھارتی میڈیا ایک ہی زبان بول رہا ہے سارے نامور اینکرز پالتو بنا لئے گئے ہیں یہ جانے بغیر جنگیں تباہی لاتی ہیں جنگی جنون پیدا ہی کیے جا رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی خوف نہیں رہا ہم ایٹمی طاقت ہیں۔

جب بھی کوئی ہماری چھیڑ چھاڑ سے سنجیدہ ہونے لگے ہم بتا دیتے ہیں یہ تو مذاق تھا۔ ہم بہت مزاحیہ ہیں بتانے کے لئے ہم نے افغان سفیر کو امریکیوں کے حوالہ کر دیا تھا کہیں جنگ نہ ہو جائے۔

جنگ سے تباہی پھیلتی ہے۔ جنگ سے بچے یتیم اور عورتیں بیوا ہو جاتی ہیں۔ جنگوں سے قومیں اور نسلیں برباد ہو جاتی ہیں اس لئے ہمیں جنگ پسند نہیں۔ ہم جنگ نہ کرنے میں اتنے سنجیدہ ہیں لائین آف کنٹرول پر باڑ لگانے کی اجازت دے دی تاکہ دنیا ہمارے اخلاص سے واقف ہو جائے۔ اپنے ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے ہم نے پانچ پانچ ہزار ڈالر کے عوض دہشت گرد فروخت کر دیے تھے آم کے آم گھٹلیوں کے دام ہم سے بہتر کاروبار کون کر سکتا ہے۔

کارگل کا معاملہ سنجیدہ ہونے لگا ہم نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا۔ بھارتیوں کا ردعمل ضرورت سے زیادہ تھا اس لئے ہم نے دور مار توپیں استمال کیں نہ فضائیہ بھارتی دونوں چیزیں استمال کر رہے تھے لیکن ہم مکمل اور بڑی جنگ نہیں چاہتے تھے اس لئے بے انتہا بے ایمانی سے الزام نواز شریف پر لگا دیا تھا اس میں ہم مہا ماہر ہیں ویسے بھی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا صرف دماغ ہوتا ہے اور ہمارا دماغ خوب چلتا ہے۔ ہم نے جنگ سے بچنے کے لئے اپنے ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر کو تماشا بنا دیا تھا بھارتی تو احمق ہیں انہوں نے ڈاکٹر کلام کو صدر بنا دیا۔

بھارتی کچھ زیادہ نہ مانگ لیں چھوٹے موٹے معاملہ سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو ہم غور کریں گے پہلے بھی تو ہم غور کرتے آئے ہیں۔ چینیوں نے 1962 میں پیغام دیا کشمیر لے لو ہم نے نہیں لیا۔ ہم نے تین دریا بھارت کو دے دیے اب وہ اس کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے خیر یہ الگ معاملہ ہے سندھ طاس معاہدہ کی عالمی ضمانت موجود ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔

بات اگر کلبھوشن یادیو پر آتی ہے تو ہم نے اس کا اچار ڈالنا ہے ہم  مشورہ دیں گے یہ مسئلہ ہے جان چھڑائیں جان ہے تو جہان ہے۔ ابھی ہم نے بھارتیوں کو مطلوب مولوی کی دو تنظیموں پر پابندی لگا کر ہمیشہ کی طرح اپنا خلوص ظاہر کر دیا ناں۔ محدود جنگ تو کسی طور پر بھی وارے میں نہیں اور بڑی جنگ ایٹمی جنگ بن سکتی ہے اس لئے ہمیں جنگ نہیں لڑنی بات چیت سے تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں ہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے مسئلہ کشمیر بھی۔

Facebook Comments HS