ایمان علی کی خوشی سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل
یہ قصہ آج کا نہیں ہم بچپن سے ہی خاصے حسن پرست واقع ہوئے ہیں۔ امی بتاتی ہیں کہ شروع سے ہی ان خالاؤں اور پھپھیوں کے پاس زیادہ خوش رہتے جو ذرا طرحدار ہوتیں۔ ناز و ادا سے اپنی گھنی سنہری زلفیں جھٹکتیں، ابرو ہمیشہ ایک تنی ہوئی کمان کی طرح رکھتیں، ہونٹوں کو لال لپ اسٹک سے سجائے رکھتیں۔ یہی نہیں ہمیں ان سب رشتے داروں سے بھی بہت محبت تھی جو ہر وقت خود کو خوشبو میں بسائے رکھتے۔ اپنی ہی ماں جب ساڑھی پہنتیں تو انہیں بار بار مسکرا کر دیکھتے۔ یہی محبت ہمیں خوشنما گھروں سے بھی تھی۔ جہاں ہر وقت ہلکی روشنی میں گلدان تروتازہ نظر آتے۔ دھیمے سروں میں موسیقی بجتی رہتی۔
امی کو یہ سب بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہم اس بلند سطح سے اتر کر دنیا کو دیکھیں۔ ہر کسی کو پیاری سی بلی بن کر دکھائیں۔ بلا تفریق رنگ نسل حسن۔ ہم سے نہ ہو پایا۔ ہاں میں ہاں ملانے والے دن کی پیدائش نہیں تھی غالبا۔ مینوفیکچرنگ فالٹ!
شاید یہی وجہ تھی کہ اوائل عمری سے ہی ایمان علی کے بھرپور مداح تھے۔ یا یوں کہیے عقیدت مند تھے۔ آج بھی ابرار الحق کا وہ گانا یاد ہے جس میں وہ اپنی غلافی آنکھوں کو ایک ادا سے جھپکتی تھیں۔ جہاں تک ہمارا حافظہ کام کرتا ہے وہ اس میں ایک کالی قمیض میں ملبوس تھیں۔ یوں تو ہم یو ٹیوب کی مدد سے وہی ویڈیو دوبارہ بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن یہ چیٹنگ ہو گی جو عقیدت میں شرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ سپریم عشق کے نام سے ریلیز ہونے والی ویڈیو تو ہمارے بہت سے ہم عمروں اور ہم سے کچھ بڑوں کو یاد ہو گی۔ انار کلی کا کردار نبھانے والی ایمان علی جب اپنے لال مہندی سے رنگے ہاتھوں اور کاجل سے لدی آنکھوں کے ساتھ اسکرین پر آتی تھیں تو کچھ اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ جو بھی اوڑھتیں فیشن کا اہم جزو بن جاتا تھا۔

ایمان علی کی ذات میں ایک عجیب سوگواریت تھی۔ شاید یہی حزن انہیں باقی ماڈلز اور اداکاراوں سے ممتاز کرتا تھا۔ ایک تو ہنستی کم تھیں اور جب ہنستی بھی تھیں تو حزن نہیں جاتا تھا۔ شاید حسن ہوتا ہی اداس ہے۔
کہتے ہیں کہ حسین لوگوں کی قسمت میں خوشی نہیں ہوتی۔ باوجود اس کے کہ انہوں نے اداکاری میں بھی اپنا لوہا منوایا لیکن تقدیر سے بہت کچھ نہ منوا پائیں۔ حساس طبیعت کی مالک یہ نرم و نازک ایمان علی بیمار پڑ گئیں۔ اور کچھ عرصے کے لئے اسکرین سے اوجھل ہو گئیں۔ اپنے کام کے علاوہ زیادہ لوگوں کی نظروں میں آنا انہیں پسند نہ تھا لہذا بے سروپا شوز اور انٹرویوز میں بھی نہ دکھائی دیتیں۔ ہم بھی بڑے ہو گئے۔ عقیدت کی شکل بدل گئی اور وقت کے تقاضے بھی۔

ہم نے پہلی بار ان آنکھوں کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ ہمیشہ ایک خاص انداز میں اداس دکھنے والی یہ آنکھیں کھلکھلا رہی تھیں۔ ایمان علی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ نکاح پر بھی ان کے قہقہے نہ تھم پائے۔ مہندی پر دلہن سب سے زیادہ رقصاں تھی۔
بس عشق محبت اپنا پن۔
اتنے عرصے بعد ایمان علی کو دیکھا اور اس روپ میں دیکھا۔ ان سے زیادہ خوش تو شاید ان کے پرانے فینز تھے۔ خدا بھلا کرے سوشل میڈیا کا یہی تصویریں اور ویڈیوز بار بار دیکھیں۔
لیکن پکچر ابھی باقی ہے دوست۔

یہ وہی کرم فرما ہیں جو غیر ملکی خواتین کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے کہ آپ ہمارے ملک آئیں اور ہمارے مثبت امیج کی سفیر بنیں۔ لیکن اپنے ہی ملک میں اگر کوئی مشہور اسٹار تک اپنی شادی پر خوش بھی ہو جائے تو اس کی بینڈ بجا دیتے ہیں۔ راہ چلتی عورتوں کا سڑک پر اکیلے پیدل چلنا محال کر دیتے ہیں یہ مثبت امیج کے ٹھیکیدار! آپ کے کمنٹس کس امیج کے عکاس ہیں اس وقت؟
دیکھئے ایمان علی، ہم جانتے ہیں کہ آپ کو اس ہرزہ سرائی سے اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا ہمیں پڑ رہا ہے۔ لیکن خوشی کے اس موقع پر جب نیک تمناؤں کی ضرورت ہوتی ہے آپ کا سوشل میڈیا آپ کی ہی مسرت سے نالاں ہیں۔ آپ کی اداس آنکھیں خوشی میں اور خوبصورت لگتی ہیں۔ خدا ان کو پھر کبھی سوگوار نہ کرے۔ آپ ساری عمر اتنی ہی خوش رہیں جتنی اپنے نکاح پر ہیں۔ یوں ہی کھلکھلائیں اور کاجل لگاتی رہیں۔ ان کے سینوں پر یوں ہی مانگ دلتی رہیں۔
ہاں بھئی، گھور کیوں رہے ہیں؟ کسی کی خوشی میں خوش رہنا ہماری روایات کے منافی ہے؟ ایسا ہے تو ان روایات کو دھوپ لگوائیے۔ تازہ ہوا سب کے لئے ضروری ہے ورنہ عجیب سڑاند آنے لگتی ہے۔ بھلے وہ سوچ ہو یا ریشمی پھولدار غلاف والی رضائی۔
ہو گیا کالم ختم۔



