گلگت بلتستان میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوری اسمبلی سے زیادہ طاقتور ہے


گلگت بلتستان اسمبلی کے سب سے متحرک رکن اور صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت اور ہوم سیکریٹری کے رویہ پر احتجاجاً استعفیٰ جمع کرادیاجو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت کے تبادلے کے بعد واپس لیا گیا۔ گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے خصوصی افراداپنے مطالبات کے حصول کے لئے اسمبلی کے باہر علامتی دھرنا دیے ہوئے تھے۔ اسمبلی میں اپوزیشن رکن نواز خان ناجی کی جانب سے سوال اٹھانے پر صوبائی وزیر قانون نے ان مطالبات کی سرکاری سطح پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

جس پر سپیکر جی بی اسمبلی فدامحمدناشاد نے مذکورہ دونوں ممبران کو حکم دیا کہ وہ یہی وضاحت خصوصی افراد کے دھرنے میں جاکر کریں تاکہ مطمئن ہوسکیں اور سردی میں مزید دھرنا دے کر بیٹھنے کی ضرور پیش نہ ہو۔ خصوصی افراد جن میں اکثر نابینا اور وہیل چیئرپر چلنے والے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ خصوصی برتاؤ بھی لازمی تھا۔ دونوں ممبران دھرنے میں پہنچ گئے جو اسمبلی کے گیٹ کے باہر تھا اور اپنی وضاحت کرکے انہیں منتشر کررہے تھے کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ وارد ہوئے اور اورنگزیب ایڈوکیٹ کی گفتگو کے دوران مداخلت کرتے ہوئے انہیں کہا کہ اس روڈ کو واگزار کرانا انتظامیہ کا کام ہے اور ہم اس کو واگزار کرائیں گے اسی توتومیں میں کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے سکواڈ سے ایک سپاہی نے وزیر قانون کے گریبان کو بھی پکڑا۔

چونکہ خصوصی افراد کے ساتھ مذاکرات اسمبلی کارروائی کا حصہ تھی اس لئے تمام ممبران اسمبلی نے متفقہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی معطلی کا مطالبہ کردیا۔ شام کے وقت سپیکر کے چیمبر میں وزیر قانون اور ہوم سیکریٹری کے مابین مسئلے پر گفت و شنید ہوئی جس میں ہوم سیکریٹری جی بی نے صوبائی وزیر قانون جس کے پاس ہوم منسٹر کے ذمہ داریاں بھی ہیں، کو کہا کہ ’نظام چلانے والے ہم ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ آپ جب جس کو چاہیں معطل کرنے کا مطالبہ کردیں اس طریقے سے نظام نہیں چل سکتا ہے‘ ۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے اسمبلی اجلاس کی کارروائی میں مداخلت اور ہوم سیکریٹری کے اس دھمکی آمیز رویہ کے خلاف وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے احتجاجاً اسمبلی رکنیت سے اپنا استعفیٰ سپیکرکے پاس جمع کرادیا۔ اگلے سیشن میں اسمبلی سے مختصر خطاب کرنے کے بعد وزیر قانون نے اپنے استعفیٰ کی تصدیق اور اس کی منظوری کی درخواست کرتے ہوئے واک آؤٹ کرلیا جس میں اپوزیشن کے اراکین اور بعض حکومتی وزراءنے بھی اس کا ساتھ دیا جس کے بعد اسمبلی کا کورم پورا نہیں ہوسکا اور کارروائی اگلے دن کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ اسمبلی اجلاس کے بعد ڈپٹی سپیکر کے چیمبر میں طویل مذاکرات کے بعد اسمبلی اجلاس میں موجود ممبران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اگر اے ڈی سی معطل نہیں کیا گیا تو ہم بھی اپنا استعفیٰ جمع کرائیں گے۔

یہ واقعہ گوکہ انتہائی چھوٹا بلکہ معمول کا واقعہ ہے لیکن اراکین اسمبلی کو عوام کی جانب سے اس وقت ہمدردی کی ضرورت تھی۔ گلگت بلتستان اسمبلی 15 لاکھ عوام کی نمائندہ اسمبلی ہے۔ ذہنوں میں احساس محرومی لئے بنیادی سہولیات سے محروم عوام کسی معمولی بات پر بھی اپنے مسائل کے لئے ممبران اسمبلی کے پاس جاتے ہیں۔ بے شک شکلیں کل تبدیل ہوجائیں گی لیکن ادارہ یہی ہے جس میں عوام کے مسائل کی بات ہوگی۔ مجھے ان سیاسی رہنماؤں پر بڑی حیرت ہوئی اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سیاسی چپقلش میں وہ اراکین اسمبلی کے مقابلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔ اسمبلی ممبران کی جتنی توقیر ہوگی اتنی ہی عوام کی بھی عزت ہوگی۔ یہ اور بات ہے کہ اسمبلی ممبران کی توقیر کم کیسے ہوئی ہے۔ کچھ واقعات صرف یاددہانی کے لئے ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ نوکر شاہی اور عوامی نمائندوں کے مابین سفارت کاری کے آداب واضح ہوسکے۔

صوبائی وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے اسمبلی اجلاس سے صرف اس وجہ سے بائیکاٹ کیا تھا کہ اس کے حلقے اور سب ڈویژن میں اسسٹنٹ کمشنر کوئی بھی بات نہیں سنتا ہے جس کی وجہ سے عوامی وفود ان کے پاس آتے ہیں۔

قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) محمد شفیع خان پر اڑھائی سال قبل اس وقت انسداد دہشتگردی کا دفعہ لگاکر پرچہ کاٹا گیا جب متاثرین کے لئے سامان لانے والی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جس میں قائد حزب اختلاف کا ایک تحصیلدار سے ان بن ہوگئی تھی۔ اسمبلی نے کمیٹی بناکر تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور پٹواری کے تبادلے کی سفارش کردی جبکہ وزیراعلیٰ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے قائد حزب اختلاف سے انسداد دہشتگردی کے دفعات ہٹانے کی سفارش کردی۔ دو سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے ہوم سیکریٹری کو متعدد مرتبہ یاد دہانی کرانے کے باوجودآج تک انسداد دہشتگردی کا ختم نہیں کیا جاسکا اور اپوزیشن لیڈر ہتھکڑیوں میں کئی بار عدالت میں پیش ہوچکے ہیں۔

ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے گریڈ 5 سے نیچے کے ملازمین کے تقرریوں میں من مانی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایک افسر کے خلاف صوبائی وزیر صحت کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ہوا تھا۔

صوبائی وزیر جنگلات محمد عمران وکیل کئی مرتبہ اخبارات میں بیان جاری کرچکے ہیں کہ گرین پاکستان شجرکاری منصوبے میں گھپلے ہوئے ہیں اور انکوائری کے لئے وزیراعلیٰ کو لکھا ہے۔ لیکن کیا مجال ہے کہ اس کے دفتر سے ایک سوکھا درخت بھی اکھاڑاگیا ہو۔ متعدد دیگر وزراءاور ممبران بھی ملازمین کے حوالے سے اپنی شکایات اسمبلی میں کرچکے ہیں اور یہ بھی قرار دیا ہے کہ ہمیں عوام ڈمی اسمبلی کے نام سے جانتے ہیں، جب اسمبلی ڈمی ہوگئی تو راج کس کا؟

ممبران اسمبلی کا اپنے استحقاق کے لئے یکجاں اور یک زباں ہونا خوش گوار حیرت ضرور ہے لیکن اس بے توقیری میں عوامی حلقے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنی عزت خود کراتے ہیں تو عزت ہوگی ورنہ افسر ان کو سر پر کسی اور نے نہیں چڑھایا ہے۔ اگرچہ ممبران اسمبلی کے ’کارکردگی‘ کی بھی داستانیں ہیں لیکن بیوروکریسی کی بھی اپنی تاریخ ہے۔ آئین میں دیے گئے اختیارات سے تجاوز کریں گے تو یقینا متاثر عوام نے ہونا ہے دونوں کی تنخواہیں اور مراعات تو چلتی ہی رہیں گی۔ ممبران اسمبلی کو یہاں صرف مظلومیت کا فائدہ دیا جارہا ہے کیونکہ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے۔ وعدے وعید کرکے اسمبلی پہنچنے والوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔

یہاں پر اس بات کا ذکر بھی انتہائی لازمی ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گزشتہ ساڑھے تین سال سے زائد کا عرصہ بڑے خوش اسلوبی سے نبھایا ہے وہیں پر بیوروکریسی کے لئے وزیراعلیٰ کی خاص ہمدردی رہی ہے۔ جس عوامی جلسے میں جاتے ہیں، جس اجلاس کی صدارت کرتے ہیں یا تقریر کرتے ہیں تو کسی بھی افسر کی تعریفوں کے پل باندھے بغیر مقطع تک نہیں پہنچتے ہیں۔ وزیرقانون کے ساتھ یہ رویہ بلاواسطہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ہی ہے۔ کیونکہ صوبائی وزیر قانون کی پھرتی اور کارکردگی کے اس کے مخالفین بھی معترف ہیں۔

Facebook Comments HS