ہمیں پریشان ہی رہنے دیجیے حیران نہ کیجیے!


غیرت مند بریگیڈ کی چاندی ہے۔ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ امن کی آشا والوں کی تمام تر کاوشوں پر پانی پھر گیا ہے۔ ان کو ایک مرتبہ پھر منہ کی کھانا پڑی ہے۔ جنگی جنونیوں کی حویلیوں میں گھی کے چراغ روشن ہیں۔ دونوں طرف جنو نی، جنگجو، جنگ باز اور جنگ کی بھاشا بولنے والے چھا گئے ہیں۔ توپوں کے ساتھ زبانیں بھی شعلے اگلنی لگی ہیں۔ آنکھوں سے نفرت اور دشمنی کی چنگاریاں برس رہی ہیں۔ مسجدوں، امام باگاہوں اور دوسرے معبدوں میں لاؤڈ سپیکروں پر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کی رقت آمیز دعاؤں اور مناجاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہر طرف حقارت اور عداوت کی آندھی چل رہی ہے۔ ہمارے محافظان کے ترجمانِ شیریں بیان کا یہ قول ِ زریں فضاؤں میں گونج رہا ہے کہ اس مرتبہ ہم پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیں گے۔ نئے پاکستان والوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مبارزت طلب کی ہے۔ ان کے اس بے باکانہ انداز پر ہر طرف سے تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس جنگ میں صرف نئے پاکستان کے محب وطن اور وفادار ہی داد شجاعت دیں گے یا پرانے پاکستان کے غداروں کو بھی اپنے پاپ دھونے کا موقع دیا جائے گا؟

ہندوستان پر سترہ کے بجائے اٹھارہ حملوں کا نقارہ بج رہا ہے۔ محمد بن قاسم ثانی سراپا غیض و غضب ہے۔ اس کا ہراول دستہ براستہ پلوامہ دلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے پڑاؤ ڈالا ہی چاہتا ہے۔ غزوہء ہند کا غلغلہ مچا ہے۔ ہمارے مجاہدین اسلاف کی یاد تازہ کرتے ہوئے بحر ظلمات کے بجائے بحر ہند میں گھوڑے دوڑا نے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ گھوڑوں سے یاد آیا کہ دونوں طرف کے سائیس اپنے گھوڑوں کو کمک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

شنید ہے کہ جلد ہی ہم ہندوستان فتح کر لیں گے اور اگلا پی ایس ایل ہندوستان کے مفتوحہ شہروں میں کروانے کا پروگرام پکا ہے۔ ممکنہ فاتح کی سپہ کا ہر چھوٹا بڑا سپاہی اور پیادہ ا اپنی بساط کے مطابق مال غنیمت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کوئی پری پیکر شاہ رخ خان و سلمان خان اور کوئی یوسف زماں قطرینہ کیف اور پریانکا پر قابض و متصرف ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہم اپنی جنگ جیت بھی چکے ہیں۔ ہدایت کار بھی دونوں طرف یہ سنجیدگی اور جاہ جلال دیکھ کر سہم سہم جاتا ہے۔

اس نے تو یہ ڈراما حسب سابق تین چار مقاصد کے حصول کے لیے سٹیج کیا تھا مگر ادھر تو ہم جنگ کی خون ریزیوں کو بھی کھیل سمجھ کر سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ ہدایت کار پوچھ رہا ہے کہ واہگہ کے اس پار چائے فروش کو الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اور اس پار صادق و امین کے چناؤ کے عمل اٹھنے والے سلگتے سوالات ہوئے پر مٹی ڈالنے کے لیے اتنا کچھ کافی نہیں؟ یہی نہیں بلکہ دونوں طرف کے اصل انسانی مسائل بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں اور ہمارے بہادران صف شکن اور دلاوران تیغ زن کی ساکھ بھی تو عوام میں بحال ہو گئی ہے کیونکہ بھارت سے نفرت کا سیدھا سیدھا مطلب ہی محافظان وطن سے غیر مشروط محبت ہے۔ پھر بھی اگر کوئی ہمیں مزید حیران کرنا چاہتا ہے تو دست بستہ عرض ہے کہ حضور! ہمیں پریشان ہی رہنے دیں ہم ابھی اڑتالیس سال پہلے طاری ہونے والے سکتے کی کیفیت سے ہی نہیں نکلے۔

Facebook Comments HS