وزیراعلی بلوچستان کا ضلع سیلاب کی زد میں


سیلاب ہو یا زلزلہ کبھی بتا کر نہیں آتا جبکہ کوئی بھی آفت بتا کر نہیں آتی۔ اور اس سے نمٹنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن کسی بھی سانحے یا حادثے سے پہلے حفاظتی انتظامات کرنا نقصان سے تو بچا نہیں سکتا مگر نقصان کی نوعیت کو کم ضرور کرتا ہے۔ اور باقاعدہ اس انتظام کے لئے ہر ریاست کی عین ذمے داری ہوتی ہے جس میں وہ متاثرین کو مکمل ریلیف دینے اور آفت آنے سے پہلے اور کے بعد ایمرجنسی کے طور پر سہولیات مہیا کرنا شامل ہیں۔

حالیہ سیلاب سے صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں جو تباہی مچائی ہے تاریخ میں کبھی بھی ایسی تباہی دیکھنے کو نہیں ملی۔ افسوس کن بات ہے ضلع لسبیلہ کی جن جن تحصیلوں میں نقصان ہوا ہے وہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش وہ تمام ذرائع جو اس وقت سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔ جن میں مال مویشی، زمین کا ٹکڑا اور فصلیں و مکانات جن کو پال کر اگا کر بھیج کر وہاں کے لوگ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں وہ اب کہاں جائیں گے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ہزاروں ایکڑ زمینیں، ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی، اور موجودہ سیزن میں اکثریت میں اربوں کی مالیت لگا کر بوئی گئیں ٹماٹر، گندم، سبزی کی فصلیں سیلاب لے گیا جبکہ 800 سے زائد مکانات سیلاب کی نذر ہوگئے، سینکڑوں حفاظتی بندیں، کئی سرکاری اسکولز کی بلڈنگز، بی ایچ یوز، سینکڑوں لنک روڈز سیلاب کی زد میں آگئے۔  اب تک 9 افراد لوگوں کی اموات واقع ہوچکی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں سیلاب میں لاپتہ ہوگئے جن کا تاحال کوئی پتا نہیں، 10 سے زائد کمیونٹیز ابھی تک پانی میں پھنسی ہوئیں ہیں جو بھوک و افلاس میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

جب زندگی گزارنے کے ذرائع ہی ختم ہوجائیں تو زندگی کسی کام کی نہیں ہوتی مگر اللہ پاک بہتر صبر دینے والی ذات ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہہ جب متعلقہ حفاظتی انتظامات کرنے والوں کو پتا تھا چند دن پہلے ہی وہ اگر انتظامات نہ ہونے کے باوجود لوگوں کو مطلع کرتے تو فصلیں زمینیں یا گھروں کو چھوڑ کر مال مویشی اور انسانی جان کا نقصان ہونے سے بچایا جاسکتا تھا مگر اتنی فرصت کس کو اور فکر کس کو کیونکہ ان ذمہ دار اداروں کے پاس ارلی ریڈی سروس کا کنسیپٹ ہی نہیں۔ اور اس حوالے سے سالانہ جو فنڈ مختص ہوتا ہے اُس کا صحیح استعمال یا پلان موجود نہیں۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے پہلے سے انتظامات کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ذمہداران کو عام آدمی سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ سماج میں خاص لوگوں کی تعداد عام لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتیں ہیں۔ جبکہ ڈزارٹس منیجمنٹ ادارے کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے اگر اس حوالے سے کمیٹی بھی بنائی جائے تو اس میں ایڈمنسٹریشن کے لوگ ہوتے جن کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا۔

سیلاب کے بعد ابھی تک ریسکیو کا عمل تو کسی حد تک جاری ہے مگر ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشوں کی پیشن گوئیاں اور مزید سیلابوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اب اس کی پیش نظر انتظامات تاحال نہ ہونے کے برابر ہے۔

ضلع لسبیلہ سے ایک وزیراعلی، ایک ایم این اے، ایک وزیر بلدیات، ایک سینٹر، جبکہ ایک خصوصی مشیر کابینہ میں شامل ہیں۔ مگر ان کے سامنے ہونے والے سیلاب سے لوگوں کا نقصان اور اُنکا ازالہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جبکہ ابھی تک اظہار افسوس کا عمل جاری ہے جبکہ اگلے دن ایمرجنسی طور پر ریلیف کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلی بلوچستان کا سیلاب سے پہلے ایک اسپورٹ ایونٹ میں شرکت کا پلان تھا جو سیلاب آنے کے بعد منسوخ کیا گیا۔

اتنی بڑی تباہی کے بعد ایک تو برساتی مینڈک مزے کرتے ہیں دوسرا وہ لوگ جن کو بے حسی کی منظر کشی کے پیسے ملتے ہیں۔ تیسرا یہ کہہ کئی ادارے نئے پروجیکٹس کا انتظار کرتے ہیں۔ ابھی تک موصول ہونے سیلاب سے منسلک تصاویروں میں زیادہ تر گروپ فوٹو موصول ہوئے ہیں بلکہ سیلفیاں بھی نظر آئیں ہیں۔ البتہ بلوچستان اس معاملے میں بہت مشہور ہے اور قابل استعمال صوبہ ہے جہاں پر قدرتی آفات کے بعد مختلف پروجیکٹس آتے ہیں جن سے کچھ اداروں سے منسلک برساتی مینڈکس مزے کرتے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ بھی ہے کہہ ماضی میں بلوچستان کے ضلع آوران میں زلزلہ آیا تھا جس کے بعد ایک ادارے کے عام نمائندے نے زلزلہ کے فورا بعد ایک کار خریدی جس پر واضح لفظوں میں لکھا تھا ”شکریہ زلزلہ“

اب جو گزر گیا اس کا رونا کیا! مگر جو رہ گیا ہے اُسکو محفوظ کرنے کے لئے حفاظتی انتظامات کئیے جائیں تو اتنا بھی کافی ہے۔ بشرطیکہ حکومت یا دیگر سماجی اداروں سے موصول ہونے والے کسی بھی مد میں ریلیف حقیقی متاثرین تک پہنچ سکے۔ باقی جہاں تک سوال متاثرین اُن کے تمام تر نقصانات کے ازالے کا ہے وہ تو ہمارے ہاں شہید ہونے والوں کے لئے حکومتی اعلانات، آگ لگنے کے بعد متاثرین کے لئے رقم کے اعلانات وغیرہ تو اعلانات کی حد تک معمول کی بات ہے۔

Facebook Comments HS