اسد عمر: سامان سو برس کا ہے
بالآخر ہماری محبوب حکومت کے چنیدہ وزیر خزانہ کی پالیسیاں رنگ لے آئیں۔ جناب اسد عمر نے خوش خبری سنا دی ہے کہ جلد ہی پاکستان کا شمار دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں ہونے لگے گا۔ اسد عمر ایک دانشمند شخص ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی معاملے میں یکلخت تبدیلی لائی جائے تو وہ اچھا نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر شیشے کے گلاس میں پہلے کھولتا ہوا پانی ڈال جائے اور پھر اس میں یکلخت برفیلا پانی انڈیل دیا جائے تو وہ گرم سرد ہو کر چٹخ جاتا ہے۔ لیکن یہی کام سہج سہج کیا جائے تو گلاس اس تبدیلی کو برداشت کر لیتا ہے۔ معیشت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اس میں بھی سہج سہج تبدیلی لائی جائے تو پھر ہی وہ اسے برداشت کر سکتی ہے۔ اسد عمر اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے طویل مدتی پالیسی سازی کر رہے ہیں۔
آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت دنیا کی پیداوار کے حساب سے اکتالیسویں اور فی نفر پیداوار کے حساب سے 151 نمبر کی پاکستانی معیشت کیسے دنیا کی پہلی پانچ معاشی طاقتوں میں شامل ہو سکتی ہے؟ ہم بھی اس دعوے پر یقین نہ کرتے لیکن اسد عمر نے اس کی نہایت معقول وجہ بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”لیڈرکے پاس وژن ہوتا ہے، وہ آنے والے کل کے بارے میں سوچتا ہے“۔ اور عمران خان کا یہی وژن ہے جو پاکستان کو دنیا کی معاشی سپر پاور بنا دے گا۔
بدقسمتی سے پچھلے ستر برس سے وطن عزیز پر جو حکمران مسلط تھے ان میں وژن کی شدید کمی تھی۔ کوئی منصوبہ بنایا جاتا تو یہ سوچ کر بنایا جاتا کہ دو تین برس بعد ہونے والے الیکشن پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور اس سے کتنے ووٹ ملیں گے۔ کسی نے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ شکر ہے کہ اب ایک ایسی قیادت آ گئی ہے جو اگلے الیکشن پر نہیں بلکہ اگلی صدی پر فوکس کر رہی ہے۔ اسد عمر نے واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ ان کی حکومت کی بہترین پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کی کایا پلٹ جائے گی۔ اور اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے جلد ہی آئی ایم ایف کا وفد بھی پاکستان آ کر قرضہ دینے کے مذاکرات شروع کر دے گا۔
بے غرضی دیکھیے اس لیڈر شپ کی۔ اسد عمر اس وقت ستاون برس کے ہیں، عمران خان 66 برس سے زیادہ کے ہو چکے ہیں، جہانگیر ترین 65 برس سے اوپر کے ہیں، شاہ محمود قریشی 62 برس کے ہیں، چوہدری سرور بھی 66 برس کے ہیں۔ پاکستان میں مردوں کی زندگی کی اوسط طوالت محض 66 برس ہے۔ یعنی 66 برس کے بعد زندگی بونس پر بسر ہوتی ہے۔ اب گئے کہ تب گئے کا معاملہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سول حکومت کی اوسط زندگی تقریباً ڈیڑھ دو برس ہوتی ہے۔ یعنی آپ خواہ انسانی پیمانے پر دیکھیں یا حکومتی، اس لیڈر شپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس کے باوجود یہ بے غرضی سے 82 برس بعد کی پلاننگ کر رہی ہے۔ اس وقت نہ یہ حکومت ہو گی، نہ ہم ہوں گے، نہ ان حکمرانوں کی اولاد حکمران ہو گی کیونکہ یہ وراثتی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، کوئی انہیں کریڈٹ نہیں دے گا، مگر کسی نام و نمود یا صلے کی تمنا کے بغیر حکومت یہ سب کچھ نہایت بے لوثی سے کر رہی ہے۔
تقریباً بیس برس بعد ایک نئی نسل پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی ہماری یہ وژن والی لیڈر شپ آج کی نہیں بلکہ چار نسلوں بعد کی پلاننگ کرتے ہوئے ان کا مستقبل سنوار رہی ہے۔ ہماری اور ہمارے بچوں، پوتے پوتیوں، پڑپوتوں کو قربانی دینی ہو گی، مصائب اٹھانے پڑیں گے، گیس کا بل 800 کی بجائے 80 ہزار دینا پڑے گا، لیکن شکر ہے کہ ہمارے نگڑ پوتوں کے بچے ہماری ان قربانیوں اور ہماری لیڈر شپ کے وژن کے باعث ایک خوشحال زندگی گزاریں گے۔
مانا کہ مدت کچھ طویل ہے۔ لیکن ہمیں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ ستر برس کا گند محض پانچ برس میں تو صاف نہیں ہو سکتا۔ اسے صاف کرنے کے لئے کم از کم ستر برس کی مدت تو دینا انصاف ہو گا تاکہ گوشوارے کو منفی سے صفر پر لایا جا سکتے۔ سنہ 2089 میں معیشت کا یہ گوشوارہ صفر پر آ جائے گا۔ اس کے بعد محض بارہ برس کی مدت میں یعنی سنہ 2101 میں پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ قوموں کی زندگی میں ایک صدی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ آپ چاہیں اس حکومت سے سو اختلاف کریں، لیکن آپ کو اسے دور کی ویژن کا ایک بڑا سا نمبر دینا ہی پڑے گا۔
میرے پاکستانیو، گھبرانا نہیں۔ مشکل وقت ہم کاٹ چکے ہیں۔ اب سنہرا زمانہ آنے والا ہے۔ بس ایک ہی ڈر ہے۔ کہیں ہمارے جاہل عوام اگلی مرتبہ پھر مریم نواز یا بلاول کو ووٹ نہ دے دیں۔ ان دونوں میں وژن کی کمی ہے۔ وہ ایک صدی آگے کا سوچنے کی بجائے جلد بازی میں موجودہ نسل کو ہی ترقی دینے کی کوشش کر کے سارا کام بگاڑ سکتے ہیں اور یوں ترقی کا یہ نازک آبگینہ گرم سرد ہو کر تڑخ جائے گا۔
ایسا ہی کچھ ڈر حیرت الہ آبادی کو تھا جو وہ ایک لاجواب غزل کہہ گئے۔ نوٹ کریں اس غزل میں کس طرح طویل مدت کی پلاننگ، مخالفین سے نہ ڈرنے، اندھیر مچنے، وعدے کر کے حالات کے مطابق یوٹرن لینے، اور جگر کے معاملات پر ایسا حقیقت پسندانہ تبصرہ کیا گیا ہے جیسے وہ سو برس پہلے کی بات نہ کر رہے ہوں بلکہ پاکستان کی حالیہ سیاست کے شناور ہوں۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں
کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں
اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز
اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں
کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو
وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں
رکھتے قدم جو وادیٔ الفت میں بے دھڑک
حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں


