خدا بے نیاز کیسے ہے، ایک خیال


فروری دو ہزار دس کی بات ہے۔ انگلستان سے چھٹیاں گزارنے پاکستان پہنچا تو دوستوں اور اساتذہ سے ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک صبح پروفیسر صاحب سے ملنے ان کے دفتر پہنچا۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا کے بڑی محبت سے ملے، وہ انہی دنوں آکسفورڈ سے اپنا پوسٹ ڈاکریٹ مکمل کر کے وطن واپس پہنچے تھے۔ گفتگو کے دوران پوچھنے لگے، تُم کیا سمجھتے ہو یہاں کرپشن کیوں بہت زیادہ ہے اور وہاں یورپ میں کیوں نہیں ہے؟

پھر خود ہی گویا ہوئے، بظاہر یہ سب رشتوں کی بدولت ہے۔ جس پر جتنے زیادہ رشتوں کی ذمہ داریاں ہیں، وہ اتنا ہی زیادہ بدعنوان ہے۔ میں نے پوچھا کہ میں کُچھ سمجھا نہیں۔ بولے وہاں مغرب میں کسی نے اپنی ماں کو عمرہ نہیں کروانا ہوتا، باپ کو حج پر نہیں بھیجنا ہوتا، بھائی کو کاروبار نہیں بنا کے دینا ہوتا، بہن کو جہیز کے ساتھ رخصت نہیں کرنا ہوتا، بیٹے کے لئے مکان نہیں بنانا ہوتا اور نہ ہی بھتیجوں کو باہر کے لئے تعلیم کے ویزے دلوانے ہوتے ہیں۔ وہاں یہ سب کام ریاست کرتی ہے اور یہاں یہ فرد کی اپنی ذمہ داری ہے۔

وہاں ہر فرد، ماں، باپ، بیٹے، بہن، بھتیجے کو چھت مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، بے روزگاری الاؤنس ریاست دیتی ہے، صحت کی سہولیات سب کےلیئے یکساں ہیں اور ذمہ دار ریاست ہے۔ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدائش سے اس کی وفات تک وہ ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ یہاں آپ پیدا ہوتے ہیں تو آپ والدین کی ذمہ داری، پھر تعلیم، صحت، کاروبار اور شادی بھی والدین کی ذمہ داری، پھر شادی کے بعد بچے پیدا ہو گئے تو آپ کی ذمہ داری شروع ہو گئی۔ والدین بوڑھے ہوتے گئے تو بچے جوان دونوں طرف آپ کی ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور وسائل محدود ہوتے گئے ایسے حالات میں آپ کو مرچوں میں اینٹ کا برادہ ملانا پڑا، دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرنا پڑی تو گوشت میں پانی انجیکٹ کرنا پڑا، بھئی مسائل بڑھے ہیں تو آمدن بھی تو بڑھانی ہے کہ نہیں؟ اور پھر اس چکر میں بدعنوانی کا ایک ایسا چکر شروع ہوتا ہے جو آپ کو چکرا کے رکھ دیتا ہے مگر جان نہیں چھوڑتا آخری سانس تک۔ رشتے انسان کو کمزور کرتے ہیں اور کمزور انسان حالات اور وقت کے دھارے کے ساتھ فورا بہہ جاتا ہے۔

اُس دن مجھے سورة اخلاص کی تعبیر سمجھ آئی، کہ خدا اتنا طاقتور کیوں ہے، وہ اس قدر بے نیاز کیسے ہے اور وہ مجبور کیوں نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی ماں نہیں ہے جس کو اس نے حج کروانا ہے، اس کا باپ نہیں ہے جس کی اس نے اطاعت کرنی ہے اور اسے عمرے پہ بھیجنا ہے، اس کا بیٹا نہیں جس کے لئے اسے نوکری درکار ہو، اس کی بیٹی نہیں جس کےلئے اس نے پلاٹ خریدنے ہوں، اس کی بہن نہیں جس کے اسے جہیز اکٹھا کرنے کی فکر ہو، اس کا بھائی نہیں جس کے لئے اس نے کاروبار بنانا ہو، اس کا کوئی نہیں اس لئے اس کو کسی کی پرواہ نہیں۔ جس کا کوئی ہوتا ہے اس کو سب کی فکر کرنا پڑتی ہے۔

Facebook Comments HS