فواد چوہدری کی جگہ علی محمد خان کو وزیر اطلاعات بنانے کی اطلاعات


وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق اور وزیر اطلاعات فواد چودھری کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے پی ٹی وی ایم ڈی کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر وزارت سے مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے گزشتہ روز ایم ڈی پی ٹی وی ارشد حسین کے خلاف کارروائی کے لئے آئی جی اسلام آباد کو خط لکھا کہ سرکاری ٹی وی اکاؤنٹ سے 48 لاکھ روپے کی مبینہ منتقلی ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اطلاعات فواد چودھری کی وزارت سے برطرفی کی خبریں گردش میں ہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ اگر سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی کو تبدیل نہیں کیا گیا تو وہ سنجیدگی سے استعفیٰ دینے پر غور کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے فواد چودھری کو وزارت اطلاعات ونشریات سے عہدے سے ہٹا کر علی محمد خان کو عہدہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فواد چوہدری اور نعیم الحق میں ٹویٹر پر ہونے والی بیان بازی نے بھی ان خبروں کو تقویت دی ہے۔ جس میں نعیم الحق نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو پی ٹی وی کی انتظامیہ اور بورڈ پر مکمل اعتماد ہے اور وزیر اعظم عمران خان پی ٹی وی کو بی بی سی کی طرز پر آزاد اور خود مختار بنانا چاہتے ہیں اور حکومت اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ نعیم الحق نے کہا کہ پارٹی کے آئین کو سب کو فالو کرنا پڑے گا۔ جو بھی خلاف ورزی کرے گا، اس کا پارٹی میں کوئی مستقبل نہیں۔

Facebook Comments HS