چونی چھاپ مشاعرے کی روداد
وہاں کی عوام کے بھی مسائل اتنے ہی زمینی اور سامنے کے ہیں، جتنے کہ آپ کے ہیں۔ پھر ہم تیسری دنیا کے رہنے والوں کو تو پھر بھی یہ الزام کسی اور پر نہیں رکھنا چاہیے۔ کیا ہم ہندوستانی، اپنی حکومت سے کسی صحیح یا جائز بات منوانے میں اتنے ہی کامیاب ہیں؟ پاکستان کے بھی وہ لوگ جو امن چاہتے ہیں وہ بھی ہماری طرح مجبور ہیں۔ ان کی بھی کوئی نہیں سنتا۔ اور ایسی تعداد کم نہیں ہے، مگر مسئلہ ہے چیزوں کو رنگوں میں دیکھنے کا۔ مکانوں کو تقسیم کرنے کا۔ کسی ملک کو برباد اور نیست و نابود کردینے کی سوچ پیدا ہونے کا۔
میں نے اس بات پر اعتراض کیا اور ہمیشہ کیا ہے کہ مشاعرے میں اللہ رسول کی باتیں نہیں ہونی چاہیے، اسی طرح جس طرح وہاں وشنو اور برہما کی باتیں نہیں ہوتیں، میں اسی نہج پر یہ بھی کہوں گا کہ ویر رس کویتا کے نام پر ’پاکستان‘ کو برباد کردینے والی دھمکیوں جیسی زبان کا استعمال بھی بند ہونا چاہیے، یہ ہماری اگلی نسلوں کو ورغلانے والی سوچ ہے۔ انہیں بھی ہماری طرح وحشی اور پاگل بنانے والا عمل ہے۔ مشاعرے کے کسی ایسے ہی سستے شاعر کو فیس بک پر میں نے ایک دفعہ دیکھا، جب لاہور میں کوئی خود کش دھماکہ ہوا تھا، موصوف نے کوئی شعر لکھا، جس میں کہا کہ لاہور میں دھماکہ ہوا تو دہلی میں ضرور جشن ہو رہا ہو گا۔
’اس پر میں نے اور ابھیشیک شکلا، دونوں نے اعتراض کیا تھا۔ انہیں ان فرینڈ بھی کر دیا۔ مگر سوچ کا کیا کریں اور یہ سوچ شاعری جیسی غیر جانبدار، سیکولر صنف تک کیسے پہنچتی ہے۔ ہم آج بھی اگر زبانوں اور مذہبوں کے معاملے میں سخت گیر سوچ کو بڑھاوا دیتے رہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس صنف کو کارآمد بھی کہیں۔
اب تو وہ لوگ بھی جو اردو کے بڑے خدمتگار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دیوناگری میں اچھے شاعروں کی کتابیں شائع کرکے سینہ پھلاتے ہیں۔ اپنے مشاعروں اور جلسوں میں ایک قسم کے ’سلیبریٹی کلچر‘ کے حامی نظر آتے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ سماج لکھنے والوں سے نہیں، پڑھنے والوں سے بنتا ہے۔ لکھ تو وہ لوگ بھی لیتے ہوں گے، جن کو گھر میں سب سے چھوٹا ہونے پر حصے میں ماں آجانے کا سخت افسوس ہو، مگر پڑھتے سب لوگ نہیں ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ شاعری کے معاملے میں وہ لوگ بھی ایک سطحی سوچ سے آگے نہیں بڑھ پاتے، جنہیں آپ سماج میں اہم، پڑھا لکھا اور معقول انسان سمجھتے ہیں۔ کئی ایسے صحافی ہیں، جن کو میں پسند کرتا ہوں، وہ لکھتے بھی اچھا ہیں، سوچتے بھی کمال کا ہیں، مگر شاعری کا نام آتے ہی ایسے ایسے فرسودہ مشہور لوگوں کے نام لیتے ہیں کہ ان سے مصافحہ کرتے ہی بنتی ہے۔
میں نے مشاعروں کے معاملے میں ایک آدمی کو بہت حد تک سنجیدہ پایا ہے اور وہ طارق فیضی ہیں۔ طارق کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے رفتہ رفتہ اس معاملے میں اپنی تربیت کی ہے۔ انہوں نے خراب شاعروں سے کنارہ کیا۔ وہ دبئی میں ہر سال مشاعرہ کراتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اور سنجیدہ شاعروں کو بلایا جائے۔ اچھے شاعر کا جب میں ذکر کرتا ہوں تو میری مراد پاکستان سے ذوالفقار عاد ل اور ہندوستان سے شارق کیفی جیسے شاعروں کی ہوتی ہے۔
اس وقت مشاعرے میں پڑھنے والا وہی آدمی معتبر ہے، جو طارق فیضی کے یہاں مشاعرہ پڑھ چکا ہو، کیونکہ انہی میں اتنی ہمت میں نے دیکھی ہے کہ وہ کسی تک بند کو، چاہے وہ شہرت کے ساتویں آسمان پر کیوں نہ ہو، دفع کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ میرا ذاتی طور پر ماننا ہے کہ اچھے شاعروں کو، ایسے ڈھنگ کے مشاعرے منعقد کرانے چاہیے، جہاں صرف بہتر کلام سنا یا پڑھا جاسکے۔ تفریح کی ہی چیز سہی، دل بہلاوے کی ہی چیز سہی، مگر یہ علم و فن کا ایک شعبہ ہے، اسے اس طرح برباد ہوتے دیکھنا کبھی کبھی برا بھی معلوم ہوتا ہے۔
پتہ نہیں کسے یاد ہے، مگر میں نے دنیا زاد میں کبھی ہندوستان کی نئی نسل کے تعلق سے ایک مضمون لکھا تھا، اس میں سات آٹھ شاعروں کا منتخب کلام بھی پیش کیا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان شاعروں میں سے بیشتر اب انہی مشاعروں کے دام میں آکر، سطحی اور بری شاعری کرنے لگے ہیں۔ ان میں سے کچھ ابھی بھی میرے بہت گہرے دوست ہیں، مگر جو حقیقت ہے سو ہے۔
آخر میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، مجھے اس پر یقین تو نہیں مگر سنتے ہیں کہ ایک دفعہ جگر مرادآبادی اپنی غزل پڑھ رہے تھے، نشے کی جھونک میں ان کے پیر سے جوتا نکلا اور کسی وزیر کے سر پر جاگرا، وزیر صاحب اس جوتے کو دونوں ہاتھوں میں رکھ کر جگر کے پاس لائے اور انہیں وہ جوتا پہنایا۔ اگر ایسا کوئی مثالی واقعہ ہے بھی تو اس میں غلطی وزیر صاحب کی زیادہ ہے۔ مشاعرے میں پڑھنے والا شاعر اگر کوئی جہالت کی حرکت کرے تو اسے ٹوکنا چاہیے، چپ چاپ اس کی غلطیوں کو بڑھاوا یا ’عزت‘ دینا، مشاعرے کی خرابی و بربادی کی ایک بڑی وجہ ہے، اور شاید اس کی شروعات جگر جیسے شاعروں سے ہی ہوئی تھی۔

