اسد عمر: ہمارا نابغۂ روزگار اقتصادی جادوگر
مرزا غالب نے کہا تھا کہا
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
غالب کا یہ شہرہء آفاق اور سدا بہار شعر ہمیں دور حاضر کے معاشی بقراط اور اقتصادی بزرجمہر جناب اسد عمر کا یہ بیان پڑھ کر یادآیا جس میں انہوں نے یہ جاں فزا خوش خبر ی سنائی ہے کہ پاکستان رواں صدی کے اختتام پر دنیا کی پانچ عظیم معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس پر تو ہمیں وہ بدنام زمانہ کہاوت بھی شرمندہ بلکہ شرمندہء تعبیر اور کھسیانی لگی جس میں رادھا کے ناچنے کو نو من تیل کی فراہمی سے مشروط کیا گیا ہے۔
جناب اسد عمر کے اس لطیفے پر ہمیں 2008 تا 2013 پر محیط پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایسی ہی بوکھلاہٹیں اور بدحواسیاں یاد آ کر رہ جاتی ہیں جب اس کے وزیر برقیات جن کا نام ہی لوگوں نے وزیر لوڈ شیڈنگ رکھ دیا تھا، نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی تھوک کے حساب سے ڈیڈ لائنیں دی تھیں مگر ان اعلانات کے پیچھے نہ کوئی مربوط منصوبہ بندی ہوتی تھی نہ اہلیت اور نہ ہی مطلوبہ مہارت ہوتی تھی اس لیے ہر بار پی پی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
راقم نے اس وقت بھی پی پی حکومت کو بار بار کی شرمندگی سے بچنے کے لیے یہ صائب مشورہ دیا تھا کہ بے شک لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے سال اور مہینے کا اعلان کر دیا کریں مگر صدی کے ذکر کو اخفائے راز میں رکھا کریں۔ پی پی والوں نے تو اس مشورے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا مگر لگتا ہے موجودہ وزیر خزانہ نے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے حفظ ما تقدم کے طور پر ملک کی لڑ کھڑاتی ہوئی معیشت کی بحالی کی وہ تاریخ دے ڈالی ہے جسے آج کے زندہ انسانوں میں سے شاید ہی کوئی اس وقت دیکھنے کے قابل ہو۔ اسد عمر صاحب یا ان کی حکومتی ٹیم کو عمر نوح کی امید ہے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ممکن ہے وہ ہندوؤں کے مذہبی عقیدے تناسخ کے قائل ہو گئے ہوں جس کے مطابق انسان دنیا میں مختلف شکلیں بدل کر سات جنم لیتا ہے۔ ان کے اس بیان پر شاعرانہ تبصرہ نما شکوہ بھی کچھ اس انداز میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمارے اقتصادی جادوگر کو کہیں حضرت خضر کی راہنمائی میسر آ گئی ہو جنہوں نے کمال مہربانی سے انہیں چشمہء آب بقا کی کچھ دھاریں عنایت فرما دیں ہوں جس کے نتیجے میں انہیں حیات جاودانی مل گئی ہو جو اب وہ ایسے دعوے کر رہے اور کالا باغ ڈیم کے بعد اب سبز باغ دکھا رہے ہوں۔
اسد عمر صاحب جیسے معاشی چمپئین بھلے ایک صدی بعد ہی پاکستان کے معاشی پاور بننے کی نوید ضرور سنائیں لیکن قوم کو کم از کم یہ تو بتائیں کہ دی اکانو مسٹ، گلوبل اکنامکس کنڈیشن سروے، ایسو سی ایشن آف چارٹرڈ سر ٹیفائیڈ اکاؤنٹس، انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ جیسے بڑے ادارے جب 2017 میں پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے گن گا رہے تھے اور مستقبل قریب میں اس کے دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی نوید سنا رہے تھے تو ان کے جاتے ہی ہماری معیشت فوراً آئی سی یو میں کیوں چلی گئی؟
ترقی کی جو شرح جولائی 2017 میں 5.06 پہ تھی آج صادق و امین حکومت کے آنے کے بعد 3.06 تک کیسے آگئی؟ سٹاک ایکسجینج جو 54000 پوائنٹ تک پہنچ چکی تھی آج روبہ زوال کیوں ہے؟ فوڈ اینڈ مشروبات کی انڈیسٹری 9.65، فارماسیوٹیکل 8.74، سیمنٹ انڈسٹری 7.19، آٹو موبائلز 11.31 سٹیل 16.56 فرٹیلائزر 1.32، الیکٹرونکس کی صنعتیں 15.24 کی شرح سے ترقی کر رہی تھیں تو کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی کہ نئی حکومت کے آتے ہی تمام چیزوں کو ریورس گئیر لگ گیا؟
ایک وقت تھا جب مسئلہء کشمیر کا حل قریب قریب ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ دکانداروں نے ادھار دینے سے بچنے کا یہ طریقہ تلاش کیا تھا کہ انہوں نے دکانوں کے باہر ایک بورڈ آویزاں کیا ہوتا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا ”کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے“۔ یہاں ہمیں وہ واقعہ بھی یاد آرہا ہے کہ غربت کے مارے ایک شخص نے جب اپنا ہاتھ دکھا کر نجو می سے پوچھا کہ میرے حالات کب بہتر ہوں گے؟ نجومی نے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ چالیس سال کی عمر تک تمہارے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ اس شخص نے تجسس سے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہو گا تو جواب ملا کہ اس کے بعد تم افلاس کی چکی میں پسنے کے عادی ہو جاؤ گے۔ مرزا غالب نے اپنی اسی معرکتہ الآ را غزل کے ایک شعرمیں، جس کا مطلع آغاز میں دیا گیا ہے ; کچھ اس طرح سے روایتی محبوب کی بے نیازی سے شکوہ کیا تھا
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
شاعری کا ذکر چلا ہے تو آخر میں ہم ترقی پسند انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے ایک شعر کا حوالہ دیں گے جس میں انہوں آنے والی نسلوں کو خو ش خبری سناتے ہوئے کہا تھا کہ
بلا سے ہم نے دیکھا تو اور دیکھیں گے
فرغ گلشن و صوت ہزار کا موسم
دور اندیشی اور اتنی دور اندیشی، منصوبہ بندی اور اتنی لمبی منصوبہ بندی، بصیرت افروزی اور اس قدر دل افروز بصیرت افروزی، خوش گمانی اور اتنی فریب کار خوش گمانی، خواب فروشی اور اتنی خواب ناک خواب فروشی! ہم اپنے نادر و نابغہء روزگار معاشی مسیحا کو اس طویل المدت منصوبہ بندی پر دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ایسی چنگاری بھی یارب! اپنی خاکستر میں تھی!


