بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب
شامی صاحب دیوداس کی طرح گلاس تھامے آبِ سادہ کو یوں گھونٹ گھونٹ پی رہے تھے جیسے غم غلط کر رہے ہوں۔ ”حضرت کیا ہوا؟ آپ کے بکھرے بال اور مضطرب انداز بے سبب نہیں ہو سکتا۔ “ میں نے پر خیال لہجے میں پوچھا۔
آج مہدی حسن بہت یاد آ رہے ہیں، کیا خوبصورت نغمہ گایا تھا انہوں نے ’ہمارے دل سے مت کیھلو، کھلونا ٹوٹ جائے گا‘ ہم نے کیا کیا خواب دیکھے تھے اور کیا کیا سوچا تھا۔ آنکھوں نے کتنے سپنے سجائے تھے اور دل نے کتنے ارماں جگائے تھے۔ مگر سب کچھ ختم ہو گیا۔ اب تو خاک پر ہمارے خوابوں کی کرچیاں پڑی ہیں اور ہم پلکوں سے ریزہ ریزہ چنتے ہیں۔
” اوہ! عشق میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ لگتا ہے آپ بھی کہیں دل لگا بیٹھے اور آپ کی محبوبہ نے اردو شاعری کے روایتی محبوب کی طرح سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کے جذبات کواپنے قدموں تلے روند ڈالا ہے؟ “ میں نے فوراً نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا۔
”اجی کمال کرتے ہیں آپ بھی، میرے غم و غصے کا سبب کوئی محبوبہ نہیں بلکہ ہمارے محبوب چیف صاحب ہیں۔ جب سے میں نے سابق چیف جسٹس کا فرمان سنا ہے خون کھول رہا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ڈیم فنڈ کسی ڈیم کی تعمیر کے لئے تھا ہی نہیں وہ تو محض آگاہی کے لئے تھا۔ میں نے اپنی دو دن کی تنخواہ بھی ڈیم فنڈ میں جمع کرائی تھی، کئی دوستوں کو قائل کیا تھا کہ وہ ڈیم فنڈ میں زیادہ سے زیادہ رقم جمع کروائیں اور اب میں اپنے دوستوں کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ “
دیکھیں جی یہ آپ کا مسئلہ ہے، چیف صاحب نے آپ کی ڈیوٹی تو نہیں لگائی تھی کہ ڈیم فنڈ کے لئے دوستوں کو قائل کریں اور جہاں تک ڈیم کی تعمیر کا سوال ہے تو چیف صاحب اصل میں ہم لوگوں کا آئی کیو لیول چیک کرنا چاہتے تھے۔ کبھی چندوں سے بھی ڈیم بنے ہیں؟ اب انہیں یقین آ گیا ہو گا کہ پاکستانی قوم کا آئی کیو لیول بہت ہائی ہے۔ اتنی دوڑ دھوپ کرنے اور جبری رقوم وصول کرنے کے باوجود محض آٹھ دس ارب روپے اکٹھے ہو سکے جب کہ ڈیم کے لئے دو ہزار ارب کم از کم درکار ہیں۔
آپ یہ بھی تو سوچئیے کہ ڈیم بنانے سے آخر کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ کچھ پانی سٹور ہوتا۔ بنجر زمینوں کو پانی ملتا تو قوم کے نازک جوانوں کو بھری جوانی میں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا۔ بجلی کی پیداوار بڑھ جاتی تو بہت سے ایسے علاقوں کو بھی بجلی فراہم کردی جاتی جہاں ابھی تک لوگ لوڈ شیڈنگ کے نام تک سے واقف نہیں۔ ہماری مینجمنٹ کا جو حال ہے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم نے لونگ ٹرم پلاننگ تو کبھی کی نہیں اور کرنی بھی نہیں چاہیے جب زندگی چار دن کی ہے تو سو سال کی پلاننگ کیوں کریں، یہ تو نری بے وقوفی ہوگی۔ ہاں تو اگر ڈیم بن بھی جاتا اور بجلی کی پیداوار بھی بڑھ جاتی تو بھی چند سال بعد حالات پھر ایسے ہی ہو جاتے، جب ہم نے ایسے ہی حال میں رہنا ہے تو اتنے تردد کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے دھیمے لہجے میں کہا۔
” مجھے آپ سے شدید اختلاف ہے، مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اگر ڈیم بنانا نہیں تھا تو ہمیں یہ خواب کیوں دکھایا گیا۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چیف جسٹس صاحب اپنی چارپائی ڈیم کی سائٹ پر بچھا کر تعمیر کے کام کی نگرانی کریں گے۔ بلکہ اس کے بعد ڈیمز کا جال بچھا دیں گے۔ “ شامی صاحب نے تیز لہجے میں کہا۔
” یہی تو مسئلہ ہے جو آپ سمجھنے سے قاصر ہیں جب کہ چیف صاحب دور کی سوچتے ہیں۔ اگر یہ ڈیم بن جاتا ہے تو آپ جیسے ڈیمز کے حامی لوگ اور ڈیم بھی بنانے کا مطالبہ کریں گے۔ ایسے تو کالا باغ ڈیم کی باری بھی آ جائے گی اور کالا باغ ڈیم پر قوم متفق نہیں ہے اس طرح قوم میں نا اتفاقی پیدا ہوگی اورچیف صاحب نے اپنے بچپن ہی میں نا اتفاقی کا انجام والی کہانی پڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ قوم نا اتفاقی کا شکار ہو اسی لئے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے نہ بھاشا ڈیم بنے گا نہ کالاباغ کا نمبر آئے گا اور قوم متحد رہے گی۔ “
شامی صاحب کے چہرے کا رنگ متغیر ہو رہا تھا۔ غصے سے بولے ”میں نے جو نغمہ چیف صاحب کے لئے سوچا تھا اب آپ کے نام کرتا ہوں۔ “
’بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب، آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاحب‘
اب میرے پاس اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ کان لپیٹ کر ان سے کنارہ کر لوں۔


