حصولِ علم کے لیے قسمت، محنت اور دولت کا کردار


انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض سمجھ بُوجھ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جو وہ کوشس کرتا ہے اسے تعلیم کہتے ہیں۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور اس طرح ہم اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ مذہبِ اسلام کی ابتدا بھی لفظ اِقراء (پڑھ) سے ہے۔ علم کا لفظی مطلب ہے جاننا، آگاہی، پہچان وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الذہر آیت نمبر 9 میں فرماتا ہے،

اے نبی کہہ دیجیے کیا علم والے (عالم) اور بے علم (جاہل) برابر ہو سکتے ہیں۔

مفہومِ حدیث کے مطابق علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ لحد سے مہد تک علم حاصل کرنے والے دین نے جو علم کی اہمیت کا ادراک کرایا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علم کا حصول ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ علم ہی وہ معتبر چیز ہے جس نے فرشتوں کو آدم کے سامنے جھکایا۔ انسان اور دوسری جاندار مخلوقات میں فرق ہی صرف علم و عمل کا ہی ہے۔ قراہِ ارض پر شاید انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جو اپنے اردگرد کے مشاہدات اور تجربات سے علم حاصل کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

دورِحاضر کی تمام صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی حضرتِ انسان کے علم اور عمل ہی کی مرہونِ منت ہے۔ تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا۔ اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کے لئے ترقی کی ضامن ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔

آج ترقی کی اس دوڑ میں صرف وہی اقوام آگے ہیں اور طاقتور ہیں جو ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں۔ ٹیکنالوجی آج کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور کسی بھی قوم و ملک کی طاقت ہے۔ علم کا حصول ہمیشہ سے ہی ایک مشکل کام رہا ہے۔ یہ جان و مال کی قربانی مانگتا ہے۔ زمانہ قدیم میں بھی لوگ علم حاصل کرنے کے لیے کئی ممالک کے سفر کرتے رہے ہیں اور ترقی یافتہ اور علم والی اقوام سے علم حاصل کرتے رہے ہیں۔ علمی میدان میں کبھی مسلمان سب سے آگے تھے تو کبھی اہلِ یونان، لاطینی اور پھر یورپ کے لوگ اس پر چھائے رہے اور اس وقت بھی وہ سب سے آگے ہیں۔

آگاہی کی پہلی شرط ہی کوشش اور لگن ہے۔ علم کوشش کرنے والے کو ہی ملتا ہے۔ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں علم کو کبھی قسمت سے منسلک کیا جاتا رہا ہے تو کبھی محنت اور سخت جانفشانی سے۔ آج کل ایک نئی چیز جو ہمارے معاشرے میں دیکھنے میں آ رہی ہے وہ ہے دولت کا حصول۔ دولت کا علم سے بالواسطہ مقابلہ ہے۔ دولت والے علم حاصل کر لیتے ہیں اور غریب بیچارے کو سکول کی فیس اور یونیفارم کے پیسے بھی کوئی نہیں دیتا۔ علم جو کہ کسی وقت عالم کی پہچان تھا آج دولتمندوں کے گھر کی کنیز کیوں بنتا جا رہا ہے۔ علم جو کہ ایک عمل اور کردار کا عکاس تھا آج محض دولت کی نمائش ہی کیوں بنتا جا رہا ہے۔

علم کی بھی کئی اقسام اور ورائٹیاں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سرکاری علم، غیر سرکاری علم، گلی محلے کا علم، گاؤں کا علم، شہری علم، نیم شہری علم، انگریزی علم، غیر انگریزی علم، مشنری علم، مذہبی علم، غیر مذہبی علم، اّپر کلاس علم، لوئر کلاس علم، ماڈرن علم اور الٹرا ماڈرن علم وغیرہ وغیرہ۔ علم حاصل کرنے والا ہی پریشان ہے کہ وہ کون سا علم حاصل کرے، اور پھر بات صرف یہی تک ختم نہیں ہو تی بلکہ اس علم کے الگ الگ شرح نرخ مقرر ہیں۔

علم کا ایک علیحدہ سے پورا پیکیج ہے جو کہ والدین کو پیش کر دیا جاتا ہے۔ جس میں سب کچھ سکھایا جاتا ہے سوائے علم و ادب کے۔ وہ آپ کو خود سیکھنا ہو تا ہے کیونکہ علم وادب تو قسمت والوں کوہی ملتا ہے۔ یہ قسمت کہاں سے ملتی ہے اس کا شاید ابھی تک والدین کو پتہ ہی نہیں یا پھر قسمت دینے والا کوئی ادارہ یا کمپنی ابھی تک مارکیٹ میں آئی ہی نہیں۔ مگر بظاہر یہ پرائیویٹ ادارے جو کہ اپنے آپ کو علم کا گہوارہ اور دانش کدہ سمجھتے ہیں یہ بھی دعوی کرتے نطر آتے ہیں جیسے قسمت اور نصیب بھی شاید انہی کے گھر کو لونڈی ہے اور آپ کو مناسب نرخ پر مہیا کی جاسکتی ہے اگر آپ اس کی قیمت دینے پر آمادہ ہو جائیں۔

کارپوریٹ تعلیمی انتظامیہ جہاں تعلیم برائے فروخت کے فلسفے پر عمل درآمد میں مصروف ہیں وہیں والدین تعلیم کو ایک بکاؤ جنس سمجھ کر خریدنے میں لگے ہو ئے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم ایک تجارت بن کر رہ گئی ہے۔ والدین کے غیر دانش مندانہ فیصلوں کی وجہ سے کارپوریٹ تعلیمی ادارے دولت بٹورنے کی دوڑ میں مصرو فِ عمل ہیں۔ والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی خواہشات کا گلہ دبا کر اپنے بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں اس امید پر داخل کراتے ہیں کہ ان کا مستقبل تابناک ا ور روشن ہوگا۔

مگر افسوس کہ ان کے یہ خواب دھرے کے دھرے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور نتیجہ وقت اور پیسے کی تباہی کے سواکچھ بھی نہیں نکلتا۔ کارپوریٹ تعلیمی ادارے بھی روپے کمانے کی دوڑ میں محنت کش طبقے کی کمائی اور بچوں کا مستقبل دونوں نگل ر ہے ہیں۔ تعلیم پرخرچ کردہ ہوشربا اخراجات نے والدین اور طلبہ کے ذہنوں کو آلودہ کرددیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں رشوت خوری اور دیگر مادی فوائد حاصل کرنے کی غیر قانونی روش نے جنم لے لیا ہے۔

والدین یاد رکھیں کہ جب تک وہ تعلیم خریدنے کی کوشش کریں گے تب تک تعلیمی تجارت فروغ پاتی رہے گی۔ آج کے دور میں تعلیم کی جس قدر پامالی ہورہی ہے اس کی مثال کسی دور میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ گلی کوچوں میں سبزی فروخت کرنے والے ان پڑھ حضرات بھی سو، دیڑھ سو گز پر مشتمل کرایے کے گھروں میں ڈربہ نما اسکول کھول رہے ہیں وہیں چند سرمایہ دار افراد ( غیر معروف ذرائع سے کمائی اپنی دولت کو سفید بنانے اورخود کو سفید پوش افراد میں شمار کروانے کے مقصد سے ) نے اونچی اونچی عمارتوں میں لاکھوں کروڑوں کی اشتہار بازی کے ذریعہ تعلیمی تجارت کے بازار کو گرما رکھا ہے۔

ان مالکان مدارس کا دور دور تک بھی تعلیم و تربیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے اوربیشتر حضرات تو آداب گفتگو اور تمیز و تہذیب سے بھی بالکل ناآشنا ہیں اور بعض تو مجرمانہ ریکارڈ کے بھی حامل ہیں۔ والدین نے گویا تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان لوگوں کے سپر د کردی ہے جو نہ پڑھائے جانے والے علوم پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور نہ تعلیم کے حقیقی مقاصد (روح تعلیم ) سے آشنا ہیں۔ جسے خو د کی خبر نہیں وہ کیسے دوسروں کی رہبری کے فرائض انجام دے سکتا ہے بقول حضرت علامہ اقبال ؒ

قوم کیا چیزہے، قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

دوسری طرف والدین پریشانی اور حیرانگی کے عالم میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف اور صرف دولت کمائیں چاہے وہ حلال ہو یا حرام کیونکہ صرف دولت ہی ان کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم، صحت، قسمت اور شاید نصیب بھی وہ پیسے سے خرید سکتے ہیں۔ بچے یہ تمام چیزیں اپنے والدین، سکول اور معاشرے سے بمعہ عملی نمونہ سیکھ رہے ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہم قوم بنا رہے ہیں جبکہ ہم قوم بنا نہیں رہے بلکہ بگاڑ رہے ہیں اور نا صرف بگاڑ رہے ہیں بلکہ برباد کر رہے ہیں۔

ہماری ہی بوئی فصل کا نمونہ ہمیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی جہالت، عدم برداشت، نفرت، بدتمیزی، بظاہر پڑھے لکھے تعلیم یافتہ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، وکلاء، سرکاری عہدیدار، سیاستدان اور معاشرے کے افراد کی صورت میں مل رہا ہے۔ انسانوں کے جنگل میں کوئی بھی انسان ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ علم معاشرے میں اگاہی لاتا ہے۔ انسان کو جانور سے سماجی جانور بناتا ہے اور پھر وہ سماجی جانور انسان سے ہو تا ہوا انسانیت کی معراج پاتا ہے۔

تعلیم و تربیت اور خدمت خلق کے جذبے سے عاری یہ اسکول نسلوں کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے بر عکس سرکاری ا سکولوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ پائے جاتے ہیں لیکن افسوس چند غیر ذمہ دار اساتذہ کی وجہ سے یہ ادارے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ تعلیم کا ایک بزنس کی شکل میں فروغ پانا ہماری ناقص تعلیمی پالسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یکساں تعلیمی نظام آج وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ یکساں نصاب، یکساں تعلیمی ادارے، یکساں مواقعوں کی فراہمی یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست دان جو زیادہ تر سیاسی نعروں پر زندہ ر ہتے ہیں ضرورت ہے کہ وہ قوم کی تعلیمی حالت کو درست کرنے کے لیے ایک لانگ ٹرم منصوبہ تیار کریں۔ میڈیا اور اہل رائے افرادجو معاشرے میں اپنا اثر رکھتے ہیں وہ اپنا فرض ادا کریں اور تمام عوام کے لیے یکساں نظام تعلیم اور مساوی تعلیمی مواقعوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

تعلیم کا مقصد صرف روزگار اور پیسہ کمانا ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم کا اصل مقصد تو کردار سازی ہے۔ شخصیت کی تکمیل اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان اپنے اور اپنے معاشرے کے مسائل اور حقائق کو سمجھے اور ایک مفید شہری بن کر معاشرے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ تعلیم انسان کے کردار اور اعمال سے نظر آنی چاہیے۔ ورنہ شیخ ابراہیم ذوق نے کہاتھا۔

آدمیت اور شے ہے اور علم کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پَر وہ حیوان ہی رہا

Facebook Comments HS