سادھو اور مسافر


آسمان میں تارے جگ مگ چمک رہے تھے اور میں ٹریفک کے شور میں لانگ کوٹ کی جیب میں ہاتھوں کو ڈالے اداس سا سر جھکائے چل رہا تھا۔ دسمبر کی اداس شاموں کی طرح میرے اندر بہت سے سوال تھے۔ جن کی تلاش میں، میں فٹ پاتھ پہ چلتا جا رہا تھا۔ دسمبر کی شام بھی کتنی اداس اور تنہائی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی ہی وہ شام تھی۔ میرے دائیں جانب ٹریفک اپنی ہی دھن میں رواں تھی اور بائیں جانب کچھ درخت اور گھاس تھی۔ میں سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں اپنی سوچوں میں گم چل رہا تھا، کہ میرے بائیں جانب سے ایک آواز آئی، چلتے ہی رہو گئے یا رکو کے بھی، غور کرنے پر پتا چلا ایک بزرگ کی آواز تھی جو درختوں کے درمیان رہائش رکھے ہوئے تھے۔ زمین پر ایک بستر نما چادر تھی جس پہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، اورپاس میں ایک شاپر رکھا ہوا تھا، شاید اس میں ان کا کچھ سامان تھا۔ میری طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولے، چلتے ہی رہو گئے یا پھر رکو گے بھی۔

میں فٹ پاتھ سے ہٹ کر ان کے پاس چلا گیا۔ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے میں نے کہا، رکنا ہی تو نہیں چاہتا، دل کرتا ہے کہ اس دنیا سے کہیں دور چلا جاؤں۔ اس لئے آج سفر کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے، لیکن میں وہیں ہوں۔ اسی دنیا میں ہوں، جہاں انسانوں کا ناموں نشاں نہیں رہا ہے۔ آپ بھی اس ہھی دنیا سے چھپ کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں نا؟ آپ بھی میرے ساتھ سفر کریں، کہیں اور چلتے ہیں یہاں سے دور۔ میں نے سوال کے ساتھ رائے دی۔

کتنی دور جائے گا پتر، اس رب نے ہر جگہ ایک ہی جیسے انسان بناے ہیں۔ ہم نے ہی اپنی انا کی دنیا میں انسانوں کو حیوان بنایا ہوا ہے۔ محبّت سے ملو تو سب انسان بن کے ہی ملتے ہیں۔ ہم نے یہاں سے اب ایک ہی جگہ جانا ہیں، اس جگہ میرا اور تیرا حساب ہوگا اس دنیا میں رہنے کا حساب ہوگا۔ اب اس دنیا کے سفر کی ہی تیاری کرو

سب کچھ کر لیا، اپنے اندر انا جیسی حقیر چیز کو نہیں رہنے دیتا، سب سے محبّت سے ملتا ہوں۔ اپنا آپ چھپاتا نہیں ہوں، جو اندر ہوتا ہے ویسے ہی ملتا ہوں۔ میری آنکھوں میں دیکھیں ان میں آپ کو نفرت نظر نہیں آئی گی۔

ہاں نفرت تو نظر نہیں آ رہی، نظر آ رہا ہے کہ یہ آنکھیں کسی کی محبّت کی راہ دیکھ کر آئی ہیں۔
جی اچھی نظر ہے آپ کی۔ جنہوں نے میرے اندر کا افسانہ پڑھ لیا ہے اور میرے اندر جلتی آگ کو پھر سے ہوا دے دی ہے۔
تو پھر یہ بھی بتا دو یہ آگ لگنے کا سبب کیا ہے۔

محبّت، محبّت نے یہ آگ لگائی ہے، میں جس کی درگاہ میں محبّت کا پیالہ لئے کھڑا رہتا تھا، ایک دن اس نے محبّت کے پیالے کو ٹھوکر مار دی، اور کہنے لگی، تم محبّت کے یہ ڈرامے کرنا بند کر دو۔ مجھے تم سے محبت نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔ میں کسی اور سے محبّت کرتی ہوں، اور مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔ ایسے ہی جیسے کوئی کسی پرندے کو آزاد کرتا ہے۔ تو وہ پرندہ پھر اکیلا اداس سا بیٹھا سوچتا ہے کہ اب میں کہاں جاؤں، مجھے تو اس قید خانے کی عادت ہو گئی تھی۔ اب میں کہیں اور ٹھکانا کیسے رکھ سکتا ہوں۔

شاید مجھے یہ میرے گناہوں کی سزا ملی ہے۔
گناہ۔ کون سا گناہ ہوا ہے تم سے؟

میرا گناہ وہ ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ ایسا گناہ جس کا کوئی نام نہ ہو، جس کا کوئی گواہ نہ ہو، لیکن میرا پیارا رب سب جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے میں نادان اس کا بندہ ہوں، اوراسی کی درگاہ کا پیالہ پیتا ہوں، اب مجھے کسی اور درگاہ کے پیالے کی ضرورت نہیں۔ اب ضرورت ہے تو بس ایک چیز کی، کہ مجھے پیالے میں رحمت اور محبّت مل جائے۔ آپ کیا کہتے ہے مل جائے گی مجھے رحمت اور محبّت؟

آپ کا نام کیا ہے؟
معذرت چاہتا ہوں آپ کا نام پہلے پوچھنا چایئے تھا مجھے۔
مجھے سادھو فقیر کہتے ہے۔
اور مجھے عبداللہ کہتے ہے۔

جا عبداللہ پتر میں کہتا ہوں، اس پیارے رب نے تمہیں اپنی رحمت و محبّت کے محور میں لے لیا ہے۔ اب جا آرام سے سوجا، اور اس کی محبّت کے مزے لے۔ جو محبّت کی راہ دیکھ لے، جس کو اس کی محبّت مل جائے وہ پھر مزے میں رہتا ہے عبداللھ۔ کل پھر ملتے ہیں اسی جگہ پر۔

جب میں اگلے دن اس جگہ پہ گیا تو مجھے وہاں بابا سادھو فقیر نہیں ملے، لیکن ایک رقعہ اس جگہ پر ملا، جو ایک پتھر کے نیچے رکھا ہوا تھا۔ میں نے کھولا تو لکھا ہوا تھا۔

عبداللہ محبّت کرتے جاؤ انسانوں سے، اور اس پاک ذات کی بنائی ہوئی ہر چیز سے محبّت کرتے رہو، چاہے تمہیں نفرت ہی ملے، ویسے ہی جیسے وہ رب تمہاری غلطیوں کے باوجود تم سے محبّت کرتا ہے، اور وہی محبّت کرتا ہے، عشق کرتا ہے، اسی کا عشق سچا ہے۔

میں نے رقعہ بند کیا، جیب میں ڈالا اور اپنے نئے سفر کی تیاری کا آغاز کر دیا۔ میں آج بھی اپنے سفر میں محبّت کو لئے نفرت کا مقابلہ کر رہا ہوں۔
مسافر

Facebook Comments HS