مسافر

افسانہ لکھتا ہوں میں، تمہارا اور اپنا، افسانہ لکھتا ہوں میں، کبھی لکھتا ہوں تمہارا نام، پھر اس سے پہلے لکھتا ہوں اپنا نام، دیکھ کے ان ناموں کو مسکراتا ہوں، جو دو نام ایک سے لگتے ہیں، کبھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے وہ شام کا قصہ لکھتا ہوں، جب تمہاری آنکھوں میں شناسائی تھی، جن آنکھوں میں میرا عکس تھا، جب تمہارے دل کی آواز کو سنا تھا، جس شام کو ہم چاند تاروں کی طرح ملے تھے، جس

Read more

پیاسا کوا

ایک پیاسا کوا درخت کے سایے میں بیٹھا اپنی چونچ کو کھولے ہوئے، نہ جانے کس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ کسی کی نظر اس پر نہیں پڑ رہی، کوئی بھی اس کی پیاس نہیں بجھا رہا تھا۔ میں اسٹاپ پہ بیٹھا بس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا اور وہ کوا میرے بائیں ہاتھ کی طرف درختوں کے سائے میں تھا۔ گرمی اتنی تھی کہ میری قمیض پسینے سے بھیگی ہوئی تھی اور

Read more

سادھو اور مسافر

آسمان میں تارے جگ مگ چمک رہے تھے اور میں ٹریفک کے شور میں لانگ کوٹ کی جیب میں ہاتھوں کو ڈالے اداس سا سر جھکائے چل رہا تھا۔ دسمبر کی اداس شاموں کی طرح میرے اندر بہت سے سوال تھے۔ جن کی تلاش میں، میں فٹ پاتھ پہ چلتا جا رہا تھا۔ دسمبر کی شام بھی کتنی اداس اور تنہائی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی ہی وہ شام تھی۔ میرے دائیں جانب ٹریفک اپنی ہی دھن میں رواں تھی اور بائیں جانب کچھ درخت اور گھاس تھی۔ میں سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں اپنی سوچوں میں گم چل رہا تھا، کہ میرے بائیں جانب سے ایک آواز آئی، چلتے ہی رہو گئے یا رکو کے بھی، غور کرنے پر پتا چلا ایک بزرگ کی آواز تھی جو درختوں کے درمیان رہائش رکھے ہوئے تھے۔ زمین پر ایک بستر نما چادر تھی جس پہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، اورپاس میں ایک شاپر رکھا ہوا تھا، شاید اس میں ان کا کچھ سامان تھا۔ میری طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولے، چلتے ہی رہو گئے یا پھر رکو گے بھی۔

Read more