آسمان میں تارے جگ مگ چمک رہے تھے اور میں ٹریفک کے شور میں لانگ کوٹ کی جیب میں ہاتھوں کو ڈالے اداس سا سر جھکائے چل رہا تھا۔ دسمبر کی اداس شاموں کی طرح میرے اندر بہت سے سوال تھے۔ جن کی تلاش میں، میں فٹ پاتھ پہ چلتا جا رہا تھا۔ دسمبر کی شام بھی کتنی اداس اور تنہائی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی ہی وہ شام تھی۔ میرے دائیں جانب ٹریفک اپنی ہی دھن میں رواں تھی اور بائیں جانب کچھ درخت اور گھاس تھی۔ میں سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں اپنی سوچوں میں گم چل رہا تھا، کہ میرے بائیں جانب سے ایک آواز آئی، چلتے ہی رہو گئے یا رکو کے بھی، غور کرنے پر پتا چلا ایک بزرگ کی آواز تھی جو درختوں کے درمیان رہائش رکھے ہوئے تھے۔ زمین پر ایک بستر نما چادر تھی جس پہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، اورپاس میں ایک شاپر رکھا ہوا تھا، شاید اس میں ان کا کچھ سامان تھا۔ میری طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولے، چلتے ہی رہو گئے یا پھر رکو گے بھی۔
Read more