مقامی حکمرانی کا بحران اور حکومتی ترجیحات


پاکستان میں بنیادی طو رپر حکمرانی کا بحران ہے۔ یہ بحران کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ ہر سیاسی اور فوجی حکومت کے ادوار میں ہمیں حکمرانی کا بحران بالادست نظر آیا ہے۔ وجہ واضح ہے کہ ہم دنیا میں اچھی حکمرانی کے نظاموں اور ان کے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی اچھی حکمرانی کا نظام ہماری بڑی سیاسی ترجیحات کا حصہ بن سکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکمرانی کے نظام کے تناظر میں ہمیں ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان واضح خلیج اور بداعتمادی دیکھنے کو ملتی ہے۔ عمومی طور پر دنیا نے اچھی حکمرانی کے لیے عدم مرکزیت یعنی اختیارات کو نچلی سطح پر زیادہ سے زیادہ منتقل کرکے اپنی مقامی حکمرانی یا مقامی حکومتوں کے نظام کو درست سمت اور ایک با اختیا رادارہ بنانے کی طرف پیش قدمی کرکے سیاسی اور جمہوری نظام کی ساکھ کو بحال یا قائم کیا ہوا ہے۔

پاکستان میں مقامی حکمرانی یا مقامی حکومتوں کا نظام کبھی بھی سیاسی اور جمہوری قوتوں کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں بن سکا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ با ر بار کی جمہوریت پر مبنی نظام میں بھی مقامی حکومتوں کا نظام اول تو قائم ہی نہیں ہوسکا اور اگر کبھی نظریہ ضرورت کے تحت ان کو قائم بھی کیا گیا تو اس کو سیاسی، انتظامی اور معاشی طور پر مفلوج رکھ کر حکمرانی کے نظام میں پہلے سے موجود بگاڑ میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کیا گیا۔

بدقسمتی سے ہماری سیاسی اور جمہوری حکومتوں کا اپنا مزاج غیر جمہوری اور آمرانہ سوچ سے جڑا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ذاتی طور پر مرکزیت پر مبنی نظام کی حامی ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر زیادہ سے زیادہ اختیارات کو مرکز تک محدود کرکے سیاسی نظام کو بگاڑا جاتا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ ہم ایک نئے سیاسی نظام کا حصہ بن رہے ہیں جہاں مرکز صوبوں کو اور صوبے ضلع کو اور ضلع تحصیل، ٹاون یا یونین کی سطح پر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دے کر ایک نئے مضبوط اور مربوط نظام کی بنیاد رکھیں گے۔

1973 کے آئین کی شق 140۔ Aکے تحت ہر صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبہ میں مقامی انتخابات، سیاسی، انتظامی، مالی اختیارات اور یہ اختیارات بیوروکریسی کی بجائے عوام کے منتخب نمائندوں کو دیے جائیں گے۔ لیکن سیاسی اور جمہوری حکمران جو ہمیشہ ملک میں جمہوریت کے نظام کا واویلا مچاتے ہیں مگر خود نہ تو جمہوری بننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے اقتدار میں مقامی نظام حکومت کو مضبوط بنانا ان کی اہم ترجیح ہے۔

آج کل پیپلز پارٹی کا ماتم یہ ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ اور تحریک انصاف کی حکومت 18 ویں ترمیم کی مخالف ہے اور اس کو ختم کرکے صوبائی خود مختاری پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی یہ تو جواب دے کہ اس نے خود 18 ویں ترمیم کے تحت اپنے صوبہ سندھ میں کیوں مقامی نظا م حکومت کو مفلوج اور یتیم ادارہ بنایا ہوا ہے۔ صوبائی خود مختاری کبھی بھی ممکن نہیں ہوگی جب تک صوبے اپنی سطح پر ضلعوں کو خود مختاری نہیں دیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان اپنی سیاست میں جن چند نکتوں کو بنیاد پر اپنی اہمیت بڑھاتے تھے ان میں ایک نکتہ مقامی حکومتوں کے نظام کا بھی ہوتا تھا۔ خیبر پختونخواہ میں وہ اپنے مقامی نظام حکومت کو باقی صوبائی حکومتوں کے ماڈل سے بہتر حکومت کا درجہ دیتے تھے۔ یقینی طو رپر ان کا نظام دیگر صوبوں سے کافی بہتر تھا، مگر وہ بھی مکمل طور پر آئین کی شق 140۔ Aکے منافی تھا اور کئی اختیارات پر صوبائی حکومت کا قبضہ تھا۔ لیکن اب جب کہ تحریک انصاف مرکز سمیت پنجاب میں اقتدار میں ہے اور بلوچستان میں اس کی مخلوط حکومت ہے تو خیال تھا کہ وزیر اعظم اپنی سیاسی ترجیحات میں پہلی ترجیح مضبوط اور مربوط مقامی حکومتوں کے نظام کو دیں گے۔

ابتدامیں وزیر اعظم عمران خان نے مرکز کی سطح پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس کا مقصد پہلے سے موجود مقامی نظام حکومت میں بہتری پیدا کرنا اور ایک ایسا نظام لانا جو واقعی مقامی نظام حکومت کی عکاسی کرتا ہو۔ پنجاب میں بھی نئے نظام کی نوید سنائی گئی اور کہا گیا کہ ہم نئے نظام کے تحت نئے انتخابات کی مدد سے مقامی نظام کی تشکیل نو کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں ایک جیسا نظام لانا چاہتے ہیں، لیکن اپنی حکومت کے ابتدائی چھ ماہ میں وہ مقامی نظام حکومت کے حوالے سے کچھ نہیں کرسکے۔

اس وقت چاروں صوبوں میں مقامی نظام حکومت مفلوج نظام کی صورت میں موجود ہے اور اس کی ذمہ دار مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہیں جو عمی طو رپر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقلی کرنے میں غیر سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف سمیت سب نے ہی مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی ہی جماعت میں موجود سیاسی عناصر کی عملی روایتی سیاست کا شکار ہوگئے ہیں اور لگتا ایسا ہے کہ وہ بھی دیگر حکمرانوں کی طرح سمجھوتے کی سیاست کا حصہ بن گئے ہیں۔

رہی سہی کسر موجودہ بیوروکریسی نے پوری کردی جنہوں نے نئے نظام کی تشکیل میں حکومت کو روایتی سیاست میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔ کیونکہ اس نظام میں جہاں اور بہت سی رکاوٹیں ہیں ان میں ایک بڑی رکاوٹ خود بیوروکریسی ہے جو مقامی نظام پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی قیادت، اور بیوروکریسی مل کر کوئی بھی نیا نظام سامنے نہیں لاسکے۔

کچھ دن قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھر اس عزم کا اظہا ر کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کا نیا نظام حقیقی معنوں میں عوام کو با اختیار بنائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ کب اور کیسے ممکن ہوگا اور اس کا روڈ میپ کیا ہے کسی کو کوئی خبر نہیں۔ جو پہلے سے موجود مقامی نظام ہے اس پر حکومت کی ترجیح نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اس کے مقابلے میں نیا متبادل نظام لانا چاہتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم تضاد سمیت خود پیپلز پارٹی کا غیر جمہوری رویہ رکاوٹ ہے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے عملی طو رپر کچھ نہیں کیا اور اسی پرانے اور فرسودہ نظام کی مدد سے نظام کو چلایا جارہا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صورتحال بھی کافی مخدوش ہے کیونکہ نئے نظام کی تشکیل کی وجہ سے پہلے سے موجود نظام میں سنجیدگی کی کمی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں میں لوگوں کا حکمرانی کے نظام سے اعتماد کمزور ہورہا ہے اور لگتا ہے کہ عام آدمی کو با اختیار بنانا اور مقامی نظام میں ان کی موثر شمولیت محض ایک سیاسی نعرے سے زیادہ نہیں۔ تعلیم، صحت، امن و آمان، پانی، سیوریج، تجاوزات، روزگار، امن، انصاف، ماحول، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، سڑکوں، پارکوں اور گندے نالوں کی تعمیر جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مقامی ایم این اے ایم پی اے اور مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں میں خلیج اور بداعتمادی ہے۔

اگر صوبے عوام کو باختیار نہیں کررہے اور مقامی نظام کو مفلوج بنا کر چلانا چاہتے ہیں تو مرکزی حکومت خاموش ہے۔ بلکہ مرکزی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ ان صوبائی حکومتوں سے قانون کے دائرے میں پوچھے یا احتساب کرے کیونکر مقامی نظام کو موثر انداز میں نہیں چلایا جارہا۔ عملی طو رپر اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی منتخب چیرمین، وائس چیرمین یا ناظم اور کونسلرز موجود ہیں لیکن ان کا کردار مقامی حکمرانی میں کافی محدود ہے اور وہ عملی طور پر اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کے سیاسی استحصال کا شکار ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ وہ اور ان کی جماعت اپنے ہی وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور ا س کا عملی مظاہرہ ہمیں ان کی حکمرانی کے نظام اور مقامی نظام حکومت کے تناظر میں دیکھنے کو مل رہاہے۔ وزیر اعظم عمران خان کم ازکم اپنے دو صوبائی وزرائے اعلی پنجاب اور خیبر پختونخواہ سمیت دو صوبائی وزیر بلدیات اور صوبائی سیکرٹری اور ڈی جی بلدیات کو تو احتساب کے دائر ے میں لائیں جو ابھی تک ان چھ ماہ میں کوئی نئے مقامی نظام کو عملی خاکہ پیش نہیں کرسکے۔

حتی تک کے صوبائی سطح پر میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت سیاسی جماعتوں کی سطح پر بھی کوئی مشاورتی عمل دیکھنے کو نہیں مل سکا۔ جو کمیٹی وزیر اعظم نے اپنی سربراہی میں مقامی نظام کی تشکیل نو کے سلسلے میں بنائی تھی وہ کیونکر اپنا کام مقررہ وقت میں نہیں کرسکی، ا س کا جواب سامنے آنا چاہیے۔ اگر وزیر اعظم عمران خان نے بھی مقامی حکومتوں کے نظام میں وہی پرانی روایتی سیاست ہی کرنی ہے تو پھر نئے پاکستان کا نعرہ محض دکھاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

Facebook Comments HS