جنگ ہرگز بھی پکنک نہیں


کسی بھی قوم کی ذہنی نشوونما کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ جنگ میں زیادہ خوش رہتی ہیں یا امن میں۔ بد قسمتی سے پاکستان اور ہندوستان دونوں قومیں امن سے زیادہ جنگ میں خوش رہتی ہیں۔ ہندوستان کے سوشل میڈیا کے مطابق ادھے پاکستان پر وہ سرجیکل سٹرائیک کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کے سوشل میڈیا کے مطابق ہم اس وقت سیالکوٹ کے قریب ہندوستان پر پاکستان کا جھنڈا لہرا چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک جنگ ایک پکنک ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر منا رہے ہیں۔

جنگ پکنک بالکل بھی نہیں۔ جنگ کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں یہ جاننے کے لئے کسی بھی موجودہ قبائلی اضلاع کے باشندے سے پوچھ لے۔ وہ اپ کو بتائے گا کہ کیسے ایک ہنسی خوشی اور پر امن زندگی ایک دم ایک فرد، خاندان اور قوم کو اپنے ہی ملک کے اندر مہاجر بنا دیتا ہیں کیسے چلتے پھرتے کاروبار ختم ہو جاتے ہیں کیسے گھر، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو جاتا ہیں کیسے پھر اپنے زخموں کو بھر جاتا ہیں اور کیسے باردوں کے ساتھ گزر بسر کرنا ہوتا ہیں

1945 کو جب 6 اگست کی صبح امریکہ ”لٹل بوائے“ نامی ایٹم بم ہیروشیما پر گراتا ہے تو ایک منٹ کے اندر اندر140000 لاشوں کا انبار لگ جاتا ہیں۔ تین دن بعد جب 9 اگست دوسرا ایٹم بم ناگا ساکی پر گرتا ہیں تو 80 ہزار لاشوں کا ایک انبار لگ جاتا ہیں

کسی افغانی سے پوچھ لو کہ کیا جذبات ہوتے ہیں جب پورا خاندان جنگ کی وجہ سے پڑوس ممالک مییں پناہ گزین بن جائے۔ کیا احساسات ہوتے ہیں جب 30 سال بطور مہاجر کی در بدر کزارے جاتے ہیں اور ایک پوری نسل مہاجر کا لیبل لے کر جوان ہو جائیں۔ روس کے ساتھ جنگ شروع تو ہو گئی تھی لیکن اج تک جنگ ختم نہیں ہوئی۔

عمران خان نے بالکل صحیح کہا تھا کہ جنگ شروع کرنا تو اسان ہیں لیکن ختم کرنا پھر نا ممکن ہوتا ہیں۔ جنگوں کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی اثرات نہایت ہی بھیانک ہوتے ہیں۔ ان اثرات سے نکلنے کے لئے دوبارہ ایک صدی چاہیے ہوگی۔

غربت، جہالت اور بیماریوں سے لڑنے کے لئے ضروری ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے اندر ”گاندھی گیری“ اور ”باچا خانی“ کا فلسفہ عام کیا جائے۔ عدم تشدد اور امن و شانتی ہی اس خطے کو جہالت، غربت اور بیماریوں سے نکال سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS