اکثریت جنگ نہیں چاہتی
شاباش پاک فضائیہ، ویلڈن پاک فوج، جو گھر میں گھسنے کی جسارت کرے اسے ایسا جواب ہی دیتے ہیں۔ غنیم رات کے اندھیرے میں گھسا، تم نے دن کے اجالے میں اسے اوقات یاد دلائی۔ دفاع تمہاری ذمہ داری ہے اور تم نے اپنا فرض بخوبی نبھایا۔
انسانی امنگیں تاہم جنگ کے ماحول میں نہیں، حالت امن میں ہی پنپتی اور پوری ہوتی ہیں۔ امن کے حوالے سے فوج کا کام ہر عاقبت نا اندیش مجرمانہ حرکت کا بھرپور جواب دینا ہے تاکہ امن کو لاحق خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
سرحد کے دونوں جانب غربت ہے، بیماری ہے، بھوک ہے اور عدم برداشت بھی ہے۔ سیاسی قیادت کا کام وژن، مادی اور انسانی وسائل کے بہترین استعمال اور دردمندی کے ساتھ انسانی امنگوں کی تکمیل کے اسباب پیدا کرنا ہے۔ یہ انسانی امنگیں عافیت کے خواب ہیں۔ انسانی امنگیں جو تندرستی میں روزگار اور غذا اور بیماری میں دوا ملنے کی امید پر مبنی ہیں۔ ان انسانی امنگوں میں اپنی تقدیر پر اختیار کی خواہش بھی شامل ہے۔ فیصلے کا اختیار مانگتی ہیں یہ امنگیں۔ ان امنگوں کو پانے کے لئے دیگر اسباب کے علاوہ تعلیم کے مواقع بھی درکار ہیں۔ سستی اور معیاری تعلیم جو ”ذہن سازی“ کی بجائے تجسس بیدار کرے اور اس کی تسکین کا ہنر بخشے۔
وزیراعظم پاکستان نے ہندوستانی وزیراعظم کو امن کو ایک موقع دینے کی جو پیشکش کی تھی وہ ایک سیاسی چال نہیں، اس خطے کے ہر فرد کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور اگر ہندوستانی قیادت تعصب کی گرفت سے آزاد ہو کر غور کرے تو یہ ہر ہندوستانی اور پاکستانی کے دل کی آواز بھی۔
انسان کا دکھ سرحد کے اُس پار یا اِس پار ہونے سے مقدس یا مطلوب نہیں ہو جاتا۔ کسی کا کوئی مرتا ہے تو جو اس کے دل پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ تعزیت کرنے والوں کے الفاظ دکھ سے توجہ ہٹانے کا سبب تو بن سکتے ہیں نقصان کا مداوا نہیں کر سکتے۔ جب تک سانس ہیں جینا تو پھر ہے ہی لیکن سینے میں دھڑکتے لوتھڑے پر کوئی نہ کوئی نشان تو پڑ ہی جاتا ہو گا۔
بندوقوں کی ٹھاں ٹھاں، جہازوں کی گھن گرج میں، سرحد کے اس پار یا اس طرف، رام داس مرے یا غلام مصطفے ٰ، دونوں کی بیواؤں کا دکھ اور دونوں کے بچوں کی یتیمی ایک جیسے اثرات ہی مرتب کریں گے۔ دونوں کی مائیں اپنی کوکھوں میں خلا محسوس کریں گی۔ دونوں کے باپوں کو لگے گا جیسے اچانک ان کے جھریوں بھرے ہاتھوں میں پکڑی عصا ٹوٹ گئی ہو۔
دونوں کو اپنی اپنی حکومتیں، اپنے اپنے ادارے اور اپنے اپنے معاشرے یقین دلائیں گے کہ مرنے والا ملک و قوم کے لئے کتنی عظیم قربانی دے گیا۔ ان کے مادی مسائل کا مداوا بھی کریں گے۔ لیکن ان کے سینوں میں دھڑکتے لوتھڑوں پر رام داس اور غلام مصطفے کی جدائی نے کیا نشان ثبت کیے ہوں گے ان کا اندازہ کرنا ممکن نہیں۔
یہ المیہ ہو گا بہت بڑا کہ تعصب اور نفرت ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کے اس خطے، ان کی امیدوں، اور امن کے امکانات کو یرغمال بنا لیں۔ ابھی تک ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جنگجویانہ سوچ سرحد کے دونوں طرف موجود ہے۔ اور اس میں کچھ تعجب نہیں کہ ہم نے دہائیوں اس سوچ کی آبیاری کی۔ تعلیمی نصاب سے لے کر تھیٹر اور فلموں تک، حتی کہ کھیل کو بھی سستے جذبات کی تسکین کے لئے یُدھ بنا کر پیش کر کے ہم نے تعصبات اور نفرت کو مزید گہرا کیا۔
دونوں جانب پائے جانے والے اس جنگجویانہ ماحول اور اس کے دباؤ کے باوجود وزیراعظم پاکستان کا امن کی خواہش کا اظہار اور ہندوستانی ہم منصب کو اس کی پیشکش ایک قابل قدر اقدام ہے۔ صرف پاکستان کے نہیں، اس خطے کے، ہندوستان کے اور اربوں لوگوں کے بہترین مفاد میں ہے کہ وزیراعظم مودی اسی طرح کا جواب دیں۔
ہاٹ سیٹ پر بیٹھے حکمرانوں کو شاید ابھی اندازہ نہ ہو اور انہیں شاید ایسا لگے کہ جھاگ اڑاتے دہن اور غصے سے لال آنکھیں ہی اکثریت کی نمائندہ ہیں لہذا ”عافیت“ اور فائدہ جنگ کا بھاڑ جھونکنے میں ہی ہے۔ تاہم یہ سنگین غلطی ہو گی۔ اکثریت جنگ نہیں چاہتی۔ کیونکہ اکثریت ہمیشہ درست سوچتی ہے۔ جنگ کی سوچ درست سوچ نہیں اس لئے اکثریت ایسا نہیں سوچ سکتی۔
کسی کو اگر ایسا لگتا ہے تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اکثریت خاموش ہے اور جنونی اقلیت اپنے جذبات کو اظہار کا راہ دے رہی ہے۔ کیونکہ جنون کے اظہار کے لئے کچھ کوشش نہیں کرنا پڑتی۔ جبکہ حرف دانش کہنے لئے برداشت، بردباری اور وسیع القلبی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اکثر اسے لمحہ حاضر میں قبولیت عامہ بھی نہیں ملتی، تاریخ بھلے اس کا اجلا پن آشکار کر دے۔
وزیراعظم عمران خان کی تحمل کی بات اور امن کو موقع دینے کی پیشکش حرف دانش ہے۔ نریندرا مودی صاحب آپ عمران خان سے چھ گنا بڑی قوم کے رہنما ہیں۔ انسانیت آپ سے دانش اور بردباری کی توقع رکھتی ہے۔


