زلزلے کے انتظار میں


”اپنی تو بس لاٹری نکل گئی، “ اس نے مری بیئر کی بوتل کو ہونٹوں سے ہٹا کر بڑے مست انداز میں کہا تھا۔

”اُٹھائیس لڑکیاں مل گئی ہیں ابھی تک اور ابھی تو صرف شروع کا معاملہ ہے اوربھی مل جاتیں اور بھی ملیں گی پر مسئلہ یہ ہے کہ ساری دنیا ادھر گھوم رہی ہے۔ یہ سالے جیؤ، اے۔ آر۔ وائی، ہم، آج، انڈس، سبھی حرامی ادھر ہی گھوم رہے ہیں۔ پولیس کو تو سنبھالنا آسان ہے ایک بڑے کی مٹھی گرم کردی سبھی کچھ سیٹ ہوجاتا ہے۔ ان حرامیوں سے کون نمٹے۔ اب تو میں نے پالیسی بنا لی ہے اگر ایک دفعہ بھی ان سے مدبھیڑ ہوجائے تو اپنا آپریشن بند کردیتا ہوں بلکہ اس جگہ سے ہی غائب۔

نظر میں آؤ اور نہ ہی جواب دو۔ اگر جو بھڑے ان سے تو پھر بڑا مسئلہ ہوجاتا ہے۔ سالے جان کو آجاتے ہیں ایک سے ایک مچھر کی شکل کے لمبے بالوں والوں سنگل پسلی کے لونڈے یا ایسی میمیں جو صرف میں میں بک بک کرتی رہتی ہیں۔ ان سے اُلجھنا صحیح نہیں ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سالے بھول بھی جاتے ہیں اور جلدی بھول جاتے ہیں۔ اب مظفر آباد، بالاکوٹ، باغ، گڑھی دوپٹہ، کوایء الایء سب بھول ہی گئے ہیں نا۔ ابھی خبروں میں آرہا ہے تھوڑے دنوں میں خبریں بھی ختم، باتیں بھی ختم اور سالے حرامی یہاں سے واپس کراچی، لاہور جاکر اپنے چکروں میں لگ جائیں۔ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ پھر اپنے دن ہیں اپنی رات ہے۔ ”

ہم دونوں پنڈی کے راجہ بازار کے ایک چھوٹے سے ہوٹل کے اچھے سے کمرے میں دل کی بھڑاس نکال رہے تھے اور گلے کی پیاس بجھا رہے تھے۔

ہوا یہ تھا کہ جیسے ہی زلزلے کی خبر ملی تھی میں لاہور سے فوراً ہی کسی نہ کسی طرح سے پنڈی کے راستے مری اور نتھیاگلی سے ہوتا ہوا مظفر آباد پہنچ گیا تھا۔ جتنی زیادہ تباہی تھی اتنی ہی زیادہ میری اُمیدیں۔ جہاں تباہی آئی وہاں سب سے پہلے ملنے والی چیز لڑکی ہوتی ہے پھر سرحد اور کشمیر کی لڑکیاں خوبصورت، دلربا، ساری دنیا کی حسیناؤں سے حسین، سرحد کے دونوں طرف کے حسن کے بازاروں میں ممبئی کے بولی وڈ سے لاہور لولی وڈ، ڈھاکہ اسلام پور ہ تک ان کی قیمتیں الگ ہیں اور ان کا اسٹیٹس جدا ہے۔ حسن وشباب کی خرید وفروخت میں کم از کم مسلمان، ہندؤں کا ایک ہی معیار ہے اور ایک ہی پسند۔

میرا آپریشن فوراً ہی شروع ہوگیا تھا۔ لڑکیاں بھگائی گئی تھیں۔ دم، دلاسے، دھوکے سے پھانسی گئی تھیں اور جہاں خریدنا پڑا وہاں خریدا بھی گیا تھا۔ ہر ایک کا بیوپار کرنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے مگر مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو۔ طریقہ کار کوئی بھی ہو کامیاب ہے، اگر آخر میں نتیجہ وہ نکلتا ہے جس کی خواہش کی جاتی ہے۔

سہیل کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا۔ وہ پڑھا لکھا آدمی تھا مگرہمارے دھندے میں کیسے آیا اس کا مجھے کبھی بھی پتہ نہیں لگ سکا۔ اس کا دھندہ ذرا مختلف تھا۔ میں لوکل کام کرتا تھا وہ انٹرنیشنل آدمی تھا۔ پاکستان کی لڑکیاں عربستان کے مختلف ملکوں کو پہنچاتا تھا۔ پاکستان میں شوقین لوگوں کے لیے تھائی لینڈ، فلی پائن اور بنگلہ دیش کی بندیوں کا بھی انتظام بھی کرتا تھا۔ اس کے رابطے روس، پولینڈ، تاجکستان، ازبکستان، رومانیہ کے بیوپاریوں سے بھی تھے، فرمائش کے مطابق وہ ان تمام جگہوں سے لڑکیاں منگوا لیتا تھا۔

ہم دونوں کے عجیب قسم کے تعلقات تھے، کبھی اچھے ہوجاتے تو کبھی خراب۔ عام طور پر غلطی میری ہی ہوتی تھی۔ میں ذرا اجڈ تھا، وہ اجڈ بھی تھا مگر سلجھا ہوا بھی۔ اسے پتہ تھا کہ کب اجڈ پنے کی ضرورت ہے، گالی گفتار کرنے کی مجبوری ہے اور کب شائستگی کے بغیر کام نہیں نکلے گا۔ میں اخبار تک نہیں پڑھتا تھا مگر اس کے ہاتھ میں کتابیں ہوتی تھیں، کبھی اُردو کی اور کبھی انگلش کی، میں ڈٹ کر گوالمنڈی میں کھاتا اور لسی پی کر سو جاتا تھا۔

اس کے شوق لاہور کے چائینز ریسٹورنٹ اور فائیو اسٹار ہوٹل تھے۔ میں نواز شریف کا حامی اور وہ بے نظیر کا جاں نثار دل سے ہم دونوں ہی چاہتے تھے کہ فوجی حکومت ختم ناہو یہاں پر معاملہ ایک دو ہی لوگوں سے کرنا پڑتا تھا اور ایسا ہی چلتا رہے تو بہتر تھا۔ سیاسی حکومتوں میں بہت ساروں کو کھلانا پڑتا ہے پھر سیاستدان حرامی وعدے کے پکے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ ہم دونوں ہی شراب کے شوقین تھے۔ ہم دونوں کی رنجشوں اوردشمنیوں کے باوجود شراب کی بوتل کبھی کبھی ہم دونوں کو اکٹھا بھی کردیتی تھی۔

ایک بڑا گھونٹ لے کر اس نے ہی مجھے بتایا تھا کہ بنگال میں پہلے بہت پہلے پاکستان کے بننے سے بھی پہلے ایک قحط پڑا تھا تو کلکتے کے چکلے میں طوائفوں کی کمی پوری ہوگئی تھی۔ ماں باپ نے غلّے کے عوض اپنی بیٹیاں بیچ دی تھیں۔ چچا ؤں، ماموؤں نے اپنی بھتیجیوں اور بھانجیوں کا سودا کیا تھا اور غریب بھوکے کسانوں نے اپنے جگر گوشوں کو چند مٹھی چاولوں کے لیے اپنے سے جدا کردیا تھا۔ ابے یہ دنیا کا اصول ہے باقی، سب راگ ہے، ”راگ اس نے مستی میں اپنی بھاری بھاری آواز میں بڑی بھاری بات کہہ دی تھی۔

اس زلزلے میں یہ نہیں ہوا تھا۔ لوگوں نے بیٹیاں بیچی نہیں تھیں مگر بیٹیوں کے بچنے پر خوش نہیں ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے بیٹوں کا سوگ منایا تھا اوراپنی چاند سے پیاری، نازک، نادان، ناسمجھ ہراساں پریشان بیٹیوں کی حفاظت نہیں کرسکے تھے۔

ہم دونوں کی ٹیمیں زلزلہ زدہ علاقوں میں کام کررہی تھیں۔ طریقہ کار فی الحال ایک ہی تھا۔ امدادی سامان لے کر ہم لوگ بھی پہنچ گئے تھے۔ ہماری عورتیں بھی ساتھ تھیں۔ جہاں آبادی اور بربادی دیکھی وہاں تھوڑے سمے کے لیے ٹھہر گئے، کچھ محدود سامان بانٹا۔ بیوہ، یتیم اور لاوارث عورتوں لڑکیوں کو تاڑا، پھر سامان ختم ہونے کا بہانہ کرکے کسی اور وقت انہیں بلالیا۔

جب وہ آتیں تو پھر انہیں گھیر نا مشکل نہیں ہوتا تھا۔ جو ذرا بھی سمجھدار لگتیں انہیں گھی کے ڈبے اور کمبل دے کر واپس بھیج دینا ہی مناسب تھا لیکن جو ناسمجھ تھیں بلکہ شاید بے وقوف انہیں آنکڑے میں پھنسانا بہت مشکل نہیں ہوتا تھا۔

سہیل نے مجھ سے اتفاق کیا تھا۔ ”مگر یار ان ٹی وی والوں کے علاوہ یہ ایدھی والے بھی بڑے حرامی ہیں۔ بہت سی جگہوں پر انہوں نے ہمارا ناٹک خراب کیا ہے۔ جہاں ہم نے امدادی سامان کی کمی کردی وہاں پر پہنچ گئے اوپر سے حرامیوں نے لاوارث لڑکیوں کے لیے گھر بھی لے لیے ہیں۔ پناہ گھر۔ اب دھندہ ہو تو کیسے ہو۔ پولیس والوں کو کھلاؤ، فوجیوں کو رام کرو اوپر سے ان حرامیوں سے بھی بچو۔ بس یہ ہے کہ احتیاط کرنی پڑتی ہے میرے پاس بڑا آرڈر ہے کچھ تم سے بھی لڑکیاں لوں گا۔ دوگے نا۔ “ اس نے بات ختم کرتے کرتے سوال کردیا تھا۔

”کیوں نہیں دوں گا؟ مال پکڑوں گا تو بازار میں ہی ڈالوں گا۔ شوکیس میں تھوڑا سجانا ہے یا ان سے شادی بنانا ہے دھندہ، دھندہ ہے مال تول میں دشمنی نہیں۔ صرف پیسہ ہے بھائی، جو اپنے کام کی ہوگی اسے اپنے پاس، جو تمہارے کام کی ہوگی تمہارے حوالے مگر قیمت میں حرام پائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آگے والوں سے بھی صحیح پیسے لینے ہیں۔ ایسی خوبصورت سپلائی پہلے کبھی نہیں ملی ہوگی درجنوں کے حساب سے۔ “ میں نے داروکی مستی میں جھومتے ہوئے جواب دیا تھا۔

”نہیں قیمت میں کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔ “ اس نے مجھے تسلی دی پھر رک کر بولا تھا ”ابے کیوں حرامی پن کررہا ہے۔ پہلے کبھی گڑ بڑ کی ہے میں نے۔ جتنا طے ہوا اتنا تو میں نے ہمیشہ تجھے پہنچایا ہے پھر کیوں بکواس کرتا ہے۔ کام اب مشکل ہوگیا ہے۔ گاؤں، دیہاتوں اور شہروں سے نکلو تو حرامی ہر جگہ پر چیکنگ کررہے ہیں۔ گاڑیوں میں بھی روک لیتے ہیں۔ میں تو گروپ میں لے کر ہی نہیں جارہا ہوں۔ ایک ایک کرکے بھیجتا ہوں اپنی عورت کے ساتھ ماں بہن بناکر ایک دفعہ پنڈی پہنچ گئیں حسن ابدال یا مری کے راستے سے تو پھر سب مسئلہ حل ہوگیا۔ پھر کون ہاتھ لگاتا ہے۔ لاہور پہنچا کر ٹریننگ پروگرام میں ڈال دیتا ہوں ابھی تک تو سب قابو میں ہیں۔ دوچار نہیں مانیں گیں، اُلجھیں گیں، ناراض ہوں گی ں، شاید بھاگ جائیں مگر زیادہ ترفٹ ہوجاتی ہیں ہمارا ٹریننگ کا طریقہ ہے ہی ایسا زوردار۔ “

یہ کہہ کر وہ زور سے ہنس دیا تھا۔

”میں بھی اب یہی کررہا ہوں۔ پہلے بیوقوفی میں پھنستے پھنستے بچا ہوں۔ بڑے پیسے خرچ ہوگئے اندر ہوتے ہوتے رہ گیا۔ پولیس والوں نے ایبٹ آباد سے ذرا آگے ویگن کو روک لیا انہیں پتہ تھا کہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکیاں عام مسافر نہیں ہیں۔ بلکہ آگے آنے والے بڑے شہروں کے چکلوں کی رونق ہیں۔ اچھا خاصا جرمانہ دینا پڑگیا تب جاکر چھٹکارہ ملا تھا۔ آسان نہیں ہے یہ کام ہرسور کا بچہ ہم لوگوں پر نظر رکھتا ہے۔ ٹی وی کے حرامی، ایدھی کے پلّے اور پولیس کے سوّر۔ “

اس نے کچھ مزید موٹی موٹی گالیاں بھی ان حرامیوں، سوؤروں اور پلّوں کو دی تھی۔ اس دن کے بعد سے روٹین بدل دیا ہے ہم لوگوں نے۔ اب آنکڑے میں آنے کے بعد سمجھانے پچکارنے اور راہ پر لانے سے پہلے ایک ایک کرکے انہیں لے جارہا ہوں۔ بس راضی کرلیتا ہوں لارے لپے دے کر کہ پنڈی میں سب کچھ ہوجائے گا۔ جو بھی ضرورت ہے پوری ہوگی سامان سے علاج تک۔ گھر کی تعمیرسے آپریشن تک میں نے تفصیل سے اپنے کام کے طریقے کو سمجھا یا تھا۔

ہم دونوں ہی مکمل طور پر نشے میں تھے دونوں ہی سگریٹ پی رہے تھے اور دونوں ہی مزے میں تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ سگریٹ، شراب اور بازاری عورت کا بڑا تعلق ہوتا ہے۔ مگر میں سگریٹ اور شراب پینے کے باوجود کبھی بھی دھندے کی عورت کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا، یہاں تک ٹریننگ کے طور پر بھی نہیں۔ میں نے انہیں صرف مال ہی سمجھا تھا۔ نہ جانے کیوں ماں، باپ نے جس سے بیاہ دیا تھا اس سے بلاکی محبت تھی مجھے۔ اور اپنے بچوں سے بے پناہ پیار۔

حالات نے ایسے کام میں اُلجھا دیا تھا وہ اور بات تھی۔ کپڑے کی دوکان نہیں تھی لڑکیوں کی آڑھتی تھی۔ گاڑیوں کاکاروبار نہیں تھا لڑکیوں کادھندہ تھا۔ یہی زندگی کی حقیقت تھی اور اس حقیقت کو میں تہہ دل سے تسلیم کرکے اپنے آپ میں مگن تھا۔ میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا مگر کاروبار کو کاروبارہی سمجھتا تھا۔ اور انہی اصولوں کے مطابق کام کرتا تھا جو کاروبار کے اصول ہیں۔ نہ جانے کیو ں مگر میرا طریقہ یہی تھا۔

لیکن سہیل کا قصّہ الگ تھا۔ اسے جب موقع ملتا وہ اپنی ہی لڑکیوں سے مستفیض بھی ہوتا۔ انہیں دھوکہ بھی دیتا، ان پر جبر بھی کرتا۔ شاید اسے اس کھیل میں مزا آتا تھا۔ جھوٹی محبت کی اداکاری، ان کے ارمان جگانا انہیں سنہرے خواب دکھانا عزت کی زندگی کاجھانسہ، اُمید وں کی کرن اور پھر یکایک دھوکہ دوسروں کے ارمانوں کے محل کو پاش پاش کرکے اسے خوشی ہوتی تھی اور اس کا شکار صرف لڑکیاں ہوتی تھیں ہم لوگوں کو اس لیے پتہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے تجربے کو قصّہ اور داستان بنانے میں دیر بھی نہیں لگاتا تھا۔ شرو ع میں اس نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں بھی کی تھیں۔ پہلی تو بچے کو جنم دینے میں مرگئی اور دوسری دونوں بھاگ گئی تھیں۔ پھر اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

”یار، اب کبھی کبھی دل گھبرا جاتا ہے جب شام کو کوئی گھر نہیں ہوتا ہے۔ تیری اچھی بات یہ ہے کہ تیرا گھر تو ہے، اس نے انگلیوں کو میری آنکھوں کے سامنے نچاتے ہوئے کہا تھا۔

”ہاں گھر تو ہے اور بات سننے والی بیوی بھی اور پیار کرنے والے بچے بھی۔ اس لحاظ سے تو میری قسمت خراب نہیں ہے۔ باقی دھندے میں اونچ نیچ تو سیمنٹ اور لوہا بیچنے میں بھی ہوتی ہے، “ میں نے جواب دیا تھا۔ ”لیکن یار تو نے شادی صحیح نہیں کی تھی۔ یہ لڑکیاں ٹریننگ سے پہلے شادی کے قابل ہوتی ہیں۔ ٹریننگ کے بعد ان کا کوئی کام نہیں ہے سوائے اس کے کہ بازار میں بیٹھیں۔ “

وہ مجھے غور سے دیکھتا رہا پھر ہنس کیربولا ”میرے خیال تو میں تیری بھی ٹریننگ نہیں ہوئی ہے اس لیے تو ابھی تک حرامزادہ نہیں بنا ہے۔ ابھی تک حلالی ہے حلالی۔ تبھی تو واپس چلا جاتا ہے اپنی عورت کے پاس۔ اپنا تو معاملہ الگ ہے۔ ماں بھی رنڈی تھی اور میں تو پیدائشی طور پر ہی ٹریننگ لے کر پیدا ہوا تھا۔ بے بے کہتی ہے پیدا ہوتے ہی دائی کو آنکھ مار دی تھی میں نے۔ “ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسا تھا۔

” ماں نے کوشش بھی کی کہ اپنے باپ کے پاس چلا جاؤں۔ بڑا زمیندار ہے۔ “ ایک دن میں جیپ پر بیٹھ کر بھی ساری زمین نہیں دیکھی جاسکتی ہیں اس کی۔ اس نے اپنے پاس رکھ بھی لیا تھامجھے۔ پر اسکول جاکر پڑھا نہیں گیا مجھ سے۔ باپ بھی خراب تھا ماسٹر بھی خراب۔ میں وہاں سے بھاگ کر دوبارہ ماں کے پاس آگیا۔ ادھر اسکول کوئی نہیں تھا۔ بازار ہی اسکول تھا اور یونیورسٹی بھی۔ وہاں پر ہی شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر پڑھنا سیکھ لیا تھا میں نے۔ پھر کتابیں پڑھنی شروع کردیں تو بہت کچھ سیکھ گیا۔ ”اس نے ہچکی لیے بغیر اپنی داستان دوبارہ سنا دی تھی۔

تھوڑی دیر خاموش رہ کر وہ پھر بولا تھا۔ ”ایک بار ماں کے پاس سے بھی بھاگا تھا اور بھاگ کر معلوم ہے کہاں گیا تھا اپنے باپ کے پاس۔ بغیر ماں کو بتائے ہوئے۔ بغیر باپ کو بتائے ہوئے اسی کا ملازم ہوگیا۔ تھوڑے دنوں میں اس کا اسسٹنٹ بن گیا تھا۔ یار میرا کام کیا تھا۔ اس کے سیاسی کاموں کا خیال رکھوں۔ وزیراعلیٰ کون بنے گا، اسمبلی میں کون جائے گا، وزیراعظم سے کب ملنا ہے، کور کمانڈر کو کیا پہنچانا ہے۔ کس سرکاری افسر کو گاڑی دینی ہے، کسے شراب اور کسے لڑکی، یہ سارے کام تھے میرے۔ اس میں تو ماہر تھا میں چکلے کے اسکول میں اور رنڈیوں کی یونیورسٹی میں یہی سکھایا جاتا ہے۔ پر ایک دن وہ سب کچھ چھوڑ دیا میں نے۔ “

”وہ سالا میرا باپ مجھ سے بھی زیادہ ٹرینڈ ہے۔ اس کا باپ بھی ٹرینڈ تھا۔ اس کے باپ کا باپ بھی ٹرینڈ تھا وہ سالے قوم کو بیچتے ہیں، بچوں کی کتابیں، اسکول کا بجٹ، ہسپتال کی دوائیں، شہر کا امن سب کچھ۔ ہم اورتم تو صرف زلزلہ بیچتے ہیں۔ یہ حرامی تو ہر وقت زلزلہ لاتے ہیں، ہر قسم کا زلزلہ۔ ماہر ہیں اس کام کے۔ “ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنس دیا تھا۔

میں غنودگی میں اپنا سر ٹیبل پر رکھ کر ڈھیر ہوگیا شاید۔ کسی زلزلے کے انتظار میں۔

Facebook Comments HS