آسمان کے گوشے میں بیٹھے تین انجان بوڑھے، اور میری روح


سردیوں کی ایک خاموش اور طویل رات تھی جب میری روح چپکے سے سیاہ آسمانوں کی جانب محوپرواز ہوئی، ایسا کبھی کبھار بلکہ طویل وقفوں کے بعد ہوتا ہے جب یہ کائنات کے کسی انجان گوشے کے سفر پر نکلتی ہے اور اپنے ساتھ ہمیشہ بے شمار اندیشے، وسوسے، سکون، سوال اور جواب کے خزانے لے کر واپس آتی ہے۔ اس رات بھی جب یہ کالے آسمانوں پر چمکتے تاروں کو عبور کرکے بہت دور نکل گئی تو اس نے وہاں آسمان کے ایک الگ تھلگ گوشے میں بیٹھے تین عمررسیدہ، باریش اجنبیوں کو دیکھاجو ایک بیضوی سے دائرے کی شکل میں سرجوڑے

سرگوشیاں کر رہے تھے، فضاء ایک عجیب سکون اور ٹھنڈے احساس سے بھری تھی جس میں وقفے وقفے سے ہونے والی یہ سرگوشیاں ارتعاش پیدا کررہی تھیں۔ ان میں سیاہ لباس میں ملبوس ایک کالے رنگ کا بوڑھا تھا جو زمین پر کبھی اس زمانے میں رہاتھا جب اس کے خدا نے یہاں صرف اس کی نسل کو آباد رکھا تھا اور ان کے بعد آنے والی اشرف مخلوق کا ابھی نام و نشان تک نہیں تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے یوں گویا تھا کہ دیکھو میں خدا کا برگزیدہ اور محبوب بندہ ہوں، میری بندگی اس وقت سے قائم ہے جب زمین صرف ایک بنجر اور زہریلے مادوں کا گولہ تھا اور اس کے سوا اورکچھ نہیں، لیکن میں نے اپنے گروہ کے ساتھ لاکھوں کروڑوں برس تک خدا کی اس زمین کو آباد رکھا اور میری وجہ سے بعد میں آنے والی مخلوقات کو ایک بنا بنایا گھر مل گیا، میں نے اور میرے ساتھیوں نے ایسی زندگی گزاری جس نے آنے والوں کے لئے خالق کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے پیمانے قائم کیے اور خدا نے ہماری مثال دے کر اپنی اشرف مخلوق کو ہمارا جانشین بنایا، زمین کے چپّے چپّے پر آج تک ہماری بندگی کے نشان ہیں اور تاقیامت رہیں گے۔

یہ سن کر بہت پرنور چہرے اور سفید داڑھی والا دوسرابوڑھا جو لمبے سبز کرتے میں ملبوس تھا، بارعب آوازمیں کہنے لگا ”نہیں! میں تم سے برتر ہوں، بہت برگزیدہ ہوں، میرے سجدے ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں، ہواوٗں، سمندروں، صحراوٗں اور جنگلوں میں ثبت ہیں، میرا ماتھا ہر اس جگہ ٹکا ہے جہاں تم لوگ آج قدم رکھتے ہو، میں خدا کو بہت محبوب ہوں، میں پسندیدہ ہوں“۔ اتنے میں تیسرا بوڑھا جس کا رنگ گندمی تھا اور اس کے بال کچھ بے ترتیب طور پر بڑھے اور شانوں پر بکھرے ہوئے تھے، نے دور کہیں خلاوں میں کھوئی نظریں واپس کھینچ لیں اور بے خیالی میں پوچھا ”میں کون ہوں؟ “ یہ سوال سنتے ہی باقی دو بوڑھے اچھل پڑے اور بولے یہ تم کیا پوچھ رہے ہو؟ تم تو وہی ہو جسے ہم پر برتری دے دی گئی تھی۔ سبزپوش بوڑھا بولا تم تو وہی ہو جس کی حفاظت پر میری نسل کے لوگوں کو مقرر کردیا گیا اور جس کے لئے ہمارے سردار آسمانوں سے زمین تک آنے کی التجائیں کرتے تھے۔ سیاہ پوش بوڑھے نے اپنے لہجے میں قدرے طنز شامل کرتے ہوئے جواب دیا، کیا تم بھول گئے؟ تم کیسے بھول سکتے ہو، تم ہی نے تو ہمارے سردارکو عرش کے بندے سے فرش کے حیوان میں تبدیل کردیا تھا، اس کی کروڑوں برس کی ریاضت تباہ کی، جس کے بے فیض سجدوں کے نشان ہم آج بھی زمین پر دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں سے ٹھنڈی آہ نکلتی ہے اور ہم افسوس سے اپنے ہاتھ ملتے ہیں۔

ہاں ہاں! گندمی بوڑھا بولا، مجھے یاد ہے، مجھے سب یاد ہے، میں نہیں بھولا لیکن، یہ سب کچھ میری مرضی سے نہیں ہوا تھا، اس لئے مجھ پر ملامتیں بھیجنا بند کردیں۔ مجھے زمین پر رہتے ہوئے کبھی خود سمجھ نہیں آیا کہ خدا نے مجھے کیوں پیدا کیا؟ تم دونوں نہ تو کبھی بیمار ہوئے، نہ حادثے کا شکار ہوئے اور نہ ہی تمھیں کوئی مالی

نقصان پہنچا، یہ تو میں ہی تھا جو ہمیشہ کبھی رزق کے چکر میں پڑا رہا، تو کبھی بیماری سے لڑا اور کبھی کسی ناآگہانی آفت کا شکار ہوا۔ میں جب بھی سوچتا تھا کہ آخر یہ میرے ساتھ، صرف میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو مجھے ہمیشہ جواب دیا گیا کہ یہ اس لئے کہ تمھیں آزمایا جارہا ہے، تمھیں امتحان میں ڈالا جارہا ہے، اس امتحان سے کامیاب ہوکر نکلوگے تو جاوداں وشادماں زندگی پاوٗگے، ناکام ہوئے تو آگ اور برف کا رزق بنو گے۔

میں چیختا رہا، چلّاتا رہا کہ یہ کیسا امتحان ہے جس میں مجھے میری مرضی پوچھے بغیر، مجھے آگاہ کیے بغیر دھکیلا گیا اور اب مجھ سے کامیابی طلب کی جارہی ہے۔ آخر ایک دن مجھے کہا گیا کہ تم نے بہت زمانہ پہلے کہیں عالم ارواح نامی ایک دنیا میں یہ وعدہ کیا تھا کہ تم یہ امتحان دوگے اور اس کے لئے تیار ہو۔ جب میں نے اگلا عذر پیش کیا کہ اگر مجھے عالم ارواح ہی میں پیدا نہ کرلیا جاتا تو میری مرضی اور آگاہی کا سوال ہی نہ ہوتا، یہ تو سارا جھگڑا ہی اس پیدا کرنے کا ہے۔

پیدا کیوں کیا گیا، زمین پر یا عالم ارواح میں؟ کہیں نہ پیدا کرتا تو میرے جھگڑے کی نوبت ہی نہ آتی۔ سیاہ پوش بوڑھے نے منہ کھولا اور فتح کی شادمانی سے ہنسنے لگا اور بچوں کی طرح اٹکھیلیاں کھیلنے لگا۔ لیکن سبز پوش نورانی بوڑھے نے ایک جملہ کہہ کر اس کی ساری شادمانی ختم کردی، کہ ”اے انسان! تو سمجھتا کیوں نہیں ہے؟ وہ تو خدا ہی اس لئے ہے کہ اسے کسی کی مرضی کسی کی آمادگی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر وہ ہم سے ہماری مرضی پوچھنے لگے تو پھر اس کی خدائی کس بات کی؟

وہ تو بادشاہ ہے، بادشاہوں کے بادشاہ۔ جو چاہتا ہے کرلیتا ہے، ہم تو بندے ہیں، چھوٹے سے، کمتر سے، کمزور سے، ہم تو بس آنکھیں بند کرکے آمادہ ہوجاتے ہیں، وہ خوش ہو، ناراض ہو، ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم تو بے بس ہیں، صرف اس کی رحمت کے طلبگار ہیں ”۔ یہ سن کر گندمی بوڑھے کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ سجدے میں گر کر زاروقطار رونے لگا اور اپنے خدا سے، اپنے خالق برتر سے مدد و رحم کا طلبگار ہوگیا۔ یہ منظر دیکھ کر میری روح واپس نیچے میرے جسم کی جانب پلٹ کر آنے لگی کہ اب صبح کاذب کا وقت ہوگیا تھا اور اسے مجھے دن بھر کے کاموں کے لئے دوبارہ اٹھانا تھا، لیکن آسمانوں میں واپسی کے راستے میں اس کے کانوں میں دور کہیں سے اذانوں کی آواز گونجنے لگی اور اس نے مجھے آج صرف اپنے خدا، اپنے خالق کے لئے جگانے کا ارادہ کرلیا۔

Facebook Comments HS