کوئی قیامت نہیں آنے والی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح سویرے نماز کے لیے اٹھا، حسب عادت رات کے میسج چیک کرنے کے لیے واٹس ایپ آن کیا تو اچانک پیغامات کی برسات ہو گئی کہ رات کے آخری پہر انڈین فضائیہ کے طیاروں نے مظفر آباد کے قریب پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جوابا جب ان کی سرکوبی کے لیے پاکستانی جہاز فضا میں بلند ہوئے بزدل انڈین پائلٹ اپنا فالتو ایمونیشن اور اسلحہ بالا کوٹ کے قریب گرا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب سے پلوامہ میں حملہ ہوا، اور بھارت کی طرف سے جنگی جنون کا مظاہرہ ہو رہا اس طرح کی چھوٹی موٹی شرارت کوئی عجب بات نہیں، لیکن میری ناقص رائے میں انڈیا اس سے بڑھ کر کسی ایڈونچر کی ہمت کبھی نہیں کرے گا۔

اس یقین کی وجہ کیا ہے، یہ آگے چل کر ذکر کروں گا، پہلے یاد دلاتا چلوں انہیں صفحات پر جنوری کی ابتدا میں انتہائی ٹھوس ذرائع سے ملی معلومات کی روشنی خبر دی تھی کہ مودی سرکار مارچ سے مئی کے درمیانی عرصے میں کوئی احمقانہ اقدام کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ صرف انتخابات میں یقینی نظر آنے والی شکست سے بچنا اور ان دنوں اپنی حکومتی کارکردگی سے عوام کی نظریں ہٹا کر ہندو دھرم میں موجود دائمی تنگ نظری، کم ظرفی اور عدم برداشت کو ابھارنا ہے۔

جس پلوامہ واقعے کو بنیاد بنا کر تشدد اور جنونیت کو ہوا دی گئی ہے، اس پر اب خود بھارت کے اندر سے شکوک اور سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو چکے ہیں۔ کل ایک ہندو سماجی رہنما اور سیاستدان نے مجمع عام میں کہا، پلوامہ واقعے کے متعلق انڈین آئی بی کو آٹھ روز پہلے سے اطلاع تھی۔ پھر آخر اتنی بڑی تعداد میں افواج کی نقل و حمل کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی کیوں نہ بنایا گیا؟ مطالبہ تو یہ ہونا چاہیے تھا اتنی جانوں کے ضیاع پر ڈائریکٹ مودی کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے اسے شامل تفتیش کیا جائے۔

نریندر مودی کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھا جائے تو اس سے بعید نہیں وہ اپنے سیاسی عزائم کے حصول کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے۔ دو ہزار دو کے انتخاب اگر کسی کو یاد ہوں ڈھائی ہزار مسلمان اس بدبخت کی مسلم دشمنی کی بھینٹ چڑھے تھے۔ یہ بات الزام نہیں مسلمہ ہے برطانیہ اور امریکا نے اس وجہ سے اس کے اپنے دیس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

افسوس ان ہم وطنوں پر ہوتا ہے، جو پڑوس سے الزام لگنے سے پہلے ہی خارش زدہ کتے کی طرح اپنے ہی جسم کو نوچنے کھسوٹنے لگتے ہیں۔ پورا ملک پھر لیں، کسی مدرسے چلیں میں دکھاتا ہوں قال اللہ و قال الرسولؐ کے سوا وہاں کیا سرگرمی ہوتی ہے۔ اب تو سرکاری اداروں نے ہر طرح کی اسکروٹنی کرلی۔ اساتذہ سے لے کر طلباء تک سب کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔ ذرائع آمدن تک انہیں بتائے جا چکے، پھر پابندیوں کے مطالبے کی حاجت کیوں؟ کیا ریاست اتنی تعداد میں طلباء کی کفالت کی ذمہ داری قبول کر سکتی ہے؟

آج تک پاکستان میں ہونے والی ہر تخریب کاری کے طعنے بانے انڈیا اور افغانستان سے ملتے رہے۔ ہم نے انہیں کبھی گریباں سے پکڑا یا پرائے پیسوں پر پلنے والے اور حمیت فروشی کے عوض این جی اوز کا لقمہ حرام کھانے والوں کو اپنے بیرونی آقاؤں کے خلاف لب کشائی کی جرات ہوئی۔ یہ ہم پر حکمرانی کرنے والے استعمار کا ہی تحفہ ہے، کچھ معاملات دانستہ بغیر حل کیے چھوڑ گیا تاکہ کشت و خون مسلسل بہتا رہے اور خطہ ترقی سے محروم اور ان کا محتاج رہے۔

سات سمندر پار سے آنے والوں کو ہم سے کیا ہمدردی؟ ایک جانب معصوم پھولوں کو کھلنے سے قبل ہی افغانستان، عراق اور شام میں بم برسا کر شہید کرتے ہیں، دوسری جانب انسانیت کی خدمت کے نام پر این جی اوز کا جال بچھاتے ہیں، جو یہاں جاسوسی اور دیگر عزائم میں معاونت کرتی ہیں۔ خود درویش نے ”سیو دی چلڈرن“ نامی ایک این جی او کے دفتر میں مساجد اور مدارس کی تعداد اور طلباء اور اساتذہ کے کوائف اور تعداد کے بارے فائلوں کے انبار دیکھے۔ اس کا مقصد آخر کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ نہ کرے مملکت خداداد پر کوئی برا وقت آئے، مال متاع بیشتر پہلے ہی ان کا باہر پڑا یہ طبقہ اڑان بھرتے دیر نہیں لگائے گا۔

پھر کہہ رہا ہوں، کافر کے لیے سب سے زیادہ خوفناک چیز موت کا ڈراوا ہے۔ نہیں یقین تو پتا کر لیں امریکن اور نیٹو فورسز بم پروف گاڑیوں اور ٹینکوں سے رفع حاجت تک کے لیے باہر نہیں نکلتے تھے بلکہ، پیمپرز باندھ کر بیٹھے رہتے۔ مودی کی گیڈر بھبکیوں سے ہمیں تو کوئی پریشانی نہیں، نہ ہونی چاہیے۔ مسلمان کے لیے شہادت کی موت کے سوا کیا اعزاز ہو سکتا ہے، اور نہ ہی میں کفار کی دوستی کا قائل ہوں اور نہ ہی مجھے کبھی یقین آیا۔

کیوں کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، ”کفار تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے جب تک تم ان کی طرح نہ ہو جاؤ“۔ ہندو جتنا موت سے ڈرتے ہیں، بیشمار واقعات ہیں کالم کی تنگ دامنی بتانے کی اجازت نہیں دیتی، بہت سے مثالیں ہیں کشمیر یا انڈیا سے تعلق رکھنے والے کسی سے پوچھ لیں۔ کوئی انڈین آرمی چیف مودی کے کہنے پر حقیقتاً جنگ چھیڑنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ حالیہ دنوں میں دنیا نے سنا سابق انڈین چیف جسٹس اور سروسز چیفس کیوں واویلا مچا رہے کہ یہ حماقت ہرگز نہ کرنا پاکستان تر نوالہ نہیں ایسی تباہی ہوگی کہ ہمارے ہاں کچھ نہیں بچے گا۔ کلبھوشن نامی جیتا جاگتا دہشتگردی کا ثبوت ہمارے پاس، انڈیا مصر ہے کہ پہلے دہشت گردی پر بات ہوگی۔ کوئی مضائقہ نہیں، کلبھوشن سے ابتدا کرلیں، جواز لیں یہ یہاں کیا تیل لینے آیا تھا؟ ہمارے بارے میں کوئی ثبوت ہے فراہم کر دیں ہم ابھی بندہ لٹکا دیتے ہیں۔

اس یقین کی بنیاد یہ ہے کہ انڈیا حملہ کیوں نہیں کرے گا؟ پاکستان کو انڈیا پر یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ اس کے پاس ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپن موجود ہیں اور انہیں ٹارگٹ پر ڈپلائے کرنے کے لیے شارٹ رینج نصر میزائل بھی۔ جس کا توڑ کسی اینٹی میزائل شکن نظام کے بس میں نہیں۔ آج کے دور کے عالمی تقاضے ریگولر سائز ایٹمی حملے کی اجازت نہیں دیتے اور کوئی سپر طاقت بھی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ بھارت چاہے ایک کمپنی بھیجے، ایک بٹالین، ایک ڈویژن یا ایک بریگیڈ مکمل جہنم رسید ہو جائے گی اور سویلین جانوں کا ضیاع نہیں ہوگا۔

اس لیے مودی کو بڑھک بازی کرنے دیں آپسی انتشار و تفریق سے باز رہیں، کسی بھی ملکی شہری کو بلا ثبوت پابند سلاسل نہ کریں، چین کی نیند سوئیں۔ لیکن دفاع سے غافل نہ ہوں، کوئی قیامت نہیں آنے والی۔ جتنا زیادہ یہاں ہم ہیجان میں مبتلا ہوں گے، مودی کو اپنے عزائم میں کامیابی ملے گی۔ اب دنیا بھی سمجھدار ہو چکی، پلوامہ پر عالمی برادری میں کسی نے انڈیا کا ساتھ نہیں دیا، آئے روز ایسے ڈراموں کو سب سمجھ چکے۔ سبکی مٹانے کو مودی کی طرف سے جو پیشکش آئی کہ آئیں مل کر غربت کے خلاف جنگ لڑیں، یہ بھی قبول کر لیں مگر، اس شرط کے ساتھ کہ پہلے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات حل ہوں۔ ورنہ دونوں ملکوں کا بجٹ اور توانائیاں بھوک و افلاس سے نبرد آزما ہونے کے بجائے آتش و آہن کی خریداری کی نظر ہوتی رہیں گی۔ اس کے بغیر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو نہیں سکتا اور خطہ مسلسل دہکتا رہے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •