جنگ کیا ہوتی ہے؟ سرحدی مکینوں سے پوچھو


جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ میڈیا جنگی جنون کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ آر پار کی بھوک و افلاس زدہ عوام جنگ کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں سے بے خبر ایک دوسرے کی ہلاکتوں اور تباہی و بربادی پر جشن مناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہلاکتوں کی گنتی جاری ہے۔ یعنی دونوں جانب کی جنتا حکمرانوں کے سفاکانہ عمل کے زیر اثر آکر اپنی زندگی کی تلخیاں بھول کر جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ جنگ کی مخالفت اور امن کی بات کرنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن انہیں شاید یہ علم نہیں ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ افغانستان، شام، عراق اور لیبیا کی جنگ سے متاثرہ عوام کی حالت زار سے شاید واقف نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ جنگ نے کیا کیا ہے۔ کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں۔ کتنی ماؤں کی گود اجڑی ہے۔ کتنے ہستے بستے گھر تباہ ہوئے ہیں۔ امن کے دشمنوں کے بہکاوے میں آنے والوں نے شاید نہیں سوچا ہوگا کہ جنگ کے مارے لوگ زندگی کی جانب لوٹتے بھی ہیں کہ نہیں۔ شہروں میں رہنے والے اور اقتدار کے محلوں کے باسی شاید ان لوگوں کی تباہ حالی اور دکھوں سے واقف نہیں جو ایل اوسی یا انڈین بارڈر کے قریب رہتے ہیں۔

جنگ اور تباہی و بربادی پر جشن منانے والو، جاؤ سیالکوٹ اور نارووال کے سرحدی دیہاتوں کے لوگوں کی زندگیاں دیکھو۔ وہ بھی تمہاری طرح پاکستانی ہیں۔ جاؤ دیکھو۔ وہ کس مصبیت و لاچاری سے اپنے مال مویشی، گھر سامان اپنے بوڑھے والدین، شیرخوار بچوں اور جوان بہوں بیٹیوں کے ساتھ محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ جاؤ دیکھو، جن کا واحد روزگار فصل ہے جو ٹینکوں نے برباد کردی ہے۔ جاؤ دیکھو سکول و کالج جاتے طالب علم اپنی کتابیں اور بستے اٹھائے بے گھر پھر رہے ہیں۔

جاؤ دیکھو۔ معصوم بچیاں اور باپردہ عورتیں انسانی درندو ں کی ہوس ناکیوں کی زد میں ہیں۔ جاؤ دیکھو۔ کڑیل دیہاتی سورمے اپنی جوان عورتوں کو بچانے کے لئے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہے جنگ۔ اس کو جنگ کہتے ہیں جب کچھ اجڑ جاتا ہے۔ چلتے کاروبار تباہ ہوتے ہیں۔ زندگی بھر کی جمع پونجی سے بنائے گئے مکان ملیا میٹ کردیئے جاتے ہیں۔ جب ہریالی کھنڈر کا منظر پیش کرتی ہے۔ جب پھولوں کی خوشبو سے بھی بارود کی بو آتی ہے۔

موسیقی کی بجائے گن گرج اور دھماکوں کا شور چاروں طرف ہوتا ہے۔ تعمیر کی بجائے ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ امیدیں دم توڑنا شروع ہوتی ہیں۔ جیتے جاگتے انسان لاشے بنتے ہیں۔ جنازے پڑھانے والے بھی دستیاب نہیں ہوتے۔ جنگ زدہ لوگ اپنے پیاروں کو امانتوں کی صورت میں دفنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے جنگ۔ جنگ کا طبل بجانے والے کیا جانیں کہ جنگ کیا کیا نگل جاتی ہے۔ اے شریف انسانو! جنگ کے لئے نہیں، امن کے لئے اپنی حکومت اور فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لئے باہر نکلو۔

جنگ کی وحشت و بربریت صرف انڈیا کے لئے نہیں ہوگی۔ اس آگ میں ہمارے گھر بھی جلیں گے۔ جنگ کی گولی کی آنکھیں نہیں ہوتی کہ دیکھ سکے کون امن پسند ہے اور کون زیادہ محب وطن ہے۔ کس جنگ کے خلاف مظاہرے کیے اور کون جنگ کی حمایت کے لئے باہر نکلا ہے۔ جلتی ہوئی آگ پر تیل نہیں پانی ڈالو تاکہ مزید بھڑکنے نہ پائے تاکہ سرحدی دیہاتوں کے مکین اپنے گھروں میں آباد رہیں محنت سے اگائی کئی فصلوں کاٹ سکیں۔

جنگوں میں کیا رکھا ہے

بارود کے ڈھیر گرتے ہیں

دھان کی فصلیں جلتی ہیں

گاؤں پر کالے بادل رہتے ہیں

خون بھی بہتا ہے

زخم بھی گہرے لگتے ہیں

آہیں سسکتی رہتی ہیں

آنسو گرتے رہتے ہیں

شعلے سے بھڑکتے ہیں

موت ناچتی رہتی ہے

جنگ کرنے والے ملکوں کے

بچے بھی سہمے رہتے ہیں

جنگوں میں کیا رکھا ہے؟

Facebook Comments HS