دم سازوں کی میزبانی


اب تو یکے بعد دیگرے مہمانوں کی آمد جاری رہی اور دیوان خانہ مردان خانے میں تبدیل ہونے لگا۔ یہ ہیں توقیر شریفی صاحب سفید رنگت پیلی قمیض اور نیلی سویٹر پہنے اس موصوف کے نام کا اثر ان کے کام پر غالب آتا ہے، ادب، ادب پروری اور community service  کا شفاف چہرہ ہاتھوں میں گلدستہ اٹھائے اس ماحول کو معتبر بنانے کے لئے ممکنہ اضافہ تھا۔ ابھی گلدستے کے رنگین پھولوں کو دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک پھول دار چادر اوڑھے ہمارا پیارا عدیل برکی پھول تھامے چلے آئے وہ جہاں بھی جائیں رونق برپا کر دیتے ہیں۔

اسی اثنا میں تمام لڑکیاں جو بزم زعفران سجاۓ باہر بیٹھی تھیں اندر کا رخ کرنے لگیں۔ ان کے قدم اس قدر بھاری بھر کم ثابت ہوۓ کہ بزم یاراں میں وہ آۓ جن کو تولیں تو ان کا اپنا وزن کم مگر بات میں وزن ہوتا ہے؛ جی ہمارے دوست شعیب بن عزیز جن کو “چاۓ ساز” پکاروں تو کچھ غلط نہیں ہوگا ؛ ہاتھ میں ”سدھارتھا” یعنی بدھا کا مجسمہ جو گورش آسن میں بیٹھا “ہر من ہیس “ کے ناول کی یاد دلاتا ہے کو تھامےگھروندا میں داخل ہوۓ۔ یہ نور چشم اعلی عہدوں کے ساتھ ساتھ اعلی شاعر اور intellectual بھی ہیں۔ بات کرنے اور سمجھنے کے گر آتے ہیں اور دوستیاں نبھاتے ہیں !

احمد سہیل نصراللہ خاموش جھونکے کی مانند ماحول کا حصہ بن گۓ، موصوف بہت کچھ کرنے، سمجھنے اور سیکھنے کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ وہ اچھے لوگوں کی پزیرائی اور بروں کی بات نہیں کرتے !محفل کی شان میں ایک اور اضافہ “ڈاکٹر عمر عادل” جو ہڈیاں جوڑتے ہیں اور اگر کوئی زیادہ تنگ کرے تو۔۔۔۔۔ نفیس، ہر فن مولا، یا قوت نگار، اور مہمان نواز ہونے کے ساتھ ساتھ سگھڑ، داستاں در داستان اور سخن شناسی کا فن جانتے ہیں!

حسن فاروقی سے ملنے کے واسطے ریڈیو اسٹیشن لاہور نا جا سکیں تو شعر و ادب کی محفلوں میں بھی پاۓ جاتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ایک عزیز کے ہاں شادی پر ملاقات میں Descartes سے کے کر Socrates تک فلسفے کے سمندر میں جھکولا بازی کی۔

"جتنی دیگ اتنی کھرچن” اور “اصل سے سود مہنگا” کا محاورہ اس جوڑی کو دیکھ کر سمجھ میں آیا؛ ”سلیم اختر “وجہ ملاقات شاہد رضا بنے اور ادب کی محفلوں میں اکثر پائے جاتے ہیں۔ ”اصل“ یعنی شاہد رضا ہر دم مسکراہٹ کو چہرے پر سجاۓ “متحرک “ہیں۔ ایک اعلی شاعر، نقاد اور معلم تو وہ ہیں مگر ایک با وصف انسان بھی ہیں۔ orbit  میں ہیں مگر “کشف“ کے دائرے میں ہی رکھتے ہیں۔ کھل کر ہنسنا اور پھر اس پر خود ہی خوش ہونا ان ہی کو سجتا ہے۔ اب تو ریڈیو پاکستان کا parent figure  نزاکت شکیلہ اور ان کے میاں جاوید صاحب جو بنجر فن پاروں کو زرخیزی اور گواچے نگینوں کی تلاش کرتے ہیں، کی آمد سے کورم پورا ہوتا نظر آنے لگا۔

میرے اگلے مہمان، اپنے نام کی مانند حسین، دانا اور خوش بخت۔ ان سے پوری دنیا میں کانفرنسوں پر ملاقات ہوتی ہے۔ ان میں ایک شفیق استاد کی جھلک اتنی نمایاں ہے کہ حال بھی پوچھیں تو لگتا ہے کہ شاید فیثا غورث کا تھیورم سمجھا رہے ہیں۔ اب تو گہما گہمی اور قہقہوں کی گونج میں بھوک کی فریاد کو دبانے کی کوشش کرتی رہی کہ ابھی تو مہمان خصوصی پہنچے نہیں اور بیشتر دوست اشاروں کے علاوہ اب تو میرے کان میں بھی” پارنج” یعنی کھانا مانگ رہے تھے۔ اسی دوران “امیر حسین جعفری” وعدہ وفا کرنے پہنچ گئے، اگر مسکراہٹ کو مچلتے اور نظروں میں سفر کرتے دیکھنا چاہیں تو ان سے ضرور ملئے!

فلسفے، شاعری تنقید اور سب سے بڑھ کر اگر ان کے دل کو کوئی بھا جاۓ تو توصیف تھک جاۓ گی مگر یہ نہیں تھکتے۔ پیارے امیر نے کینیڈا میں جاکر بھی نام کا غلط استعمال نہیں کیا۔ اپنی پا شکستگی پہ کیا غم کرتی کہ آمنہ اور سعدیہ بشیر نے خدمت گاروں کے سنگ رسوئی میں عمل دخل شروع کردیا اور اب تو کھانا آئرلینڈ پر لینڈ ہونے لگا اور سب دوستوں کے چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں چمک تے ستارے نظر آنے لگے۔ اسی گہما گہمی کے دوران “اسرار چشتی” غائبانہ message system  پر عمل کرتے ہوتی تمام دیگر مصروفیات کو رد کرتے ہوۓ پہنچ گئے۔ کچھ لوگ صرف اپنے فن سے پہچانے جاتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو خوشبو میں تر کر کے فن کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اسرار چشتی اعلی شاعر اور نعت سرائی کا بہت بڑا نام ہیں۔ ارے یہ کیا میں نے تو ان کو دیکھا ہی نہیں نظر تب پڑی جب ایک آواز آئ بینا دو پلیٹیں ادھر ان کو بھی پکڑا دیں۔ اکیڈمی آف لیٹرز کے ساتھ ایک ہی خیال آتا ہے اور وہ ہے , “جمیل صاحب”the man of the game

اس اللہ کے بندے کو ادیبوں کی خیر کرنے کے علاوہ شاید کچھ نہیں آتا! مجھے یاد ہے جب اس نے نیا نیا خیر کا کاروبار شروع کیا تھا، ادھر سے ادھر بھاگا دوڑتا اور اپنی انا کو گھر چھوڑ کر آتا تھا، تب ہی تو ادب کے ٹیلوں، پہاڑوں کو باآسانی توڑتا اور روٹھے ہوؤں کو جوڑتا ہے۔ سب کھانے میں مصروف تھے کہ ڈاکٹر خالد سہیل اپنی ہمشیرہ کے ساتھ پہنچ گئے۔ اور میری جاُن میں جان آئی۔ صرف حلئیے سے درویش نہیں لگتے یہ اندر سے بھی ذہنوں اور دماغوں کا علاج کر کر کے انسانی نفسیات کو شترنج کے مہروں کی مانند چالیں چلتے ہیں۔ باعلم ہونے کے ساتھ ساتھ باعمل شخص ہیں۔ کھانے کے دور کے بعد چاۓ کے دور تو شروع ہوۓ مگر ساتھ ہی نظامت شاہد کے سپرد کر کے میں اپنی نشست پر فرماں روا کی طرح بے خبر ہو گئی۔ اسرار چشتی سے آج کے مشاعرے کا آغاز ہوا؛ محفل تو وہ لوٹ چکے تھے، اب شمع آگے کیسے جاتی ان کے اس شعر نے بے پناہ داد وصول کی

میری تدفین میں تاخیر نا کرنا اسرار

بیج مٹی میں نا جاۓ گا تو مر جاۓ گا

نیلم نے گانا، سینا نے ٹپے، عدیل برقی نے بلھے شاہ کا کلام اور باقی تمام شعرا نے اپنا اپنا کلام سنایا۔ آج سب سی خاص بات ہی تھی کہ شعیب بن عزیز نے بنا انکار اپنی باری پر اپنا خوبصورت کلام سنایا

قیامت ہے کہ میری داستاں میں

کوئی بھی واقعہ میرا نہیں ہے

بشرہ اعجاز نے دیہاتی تہذیبی استعاروں میں گوندھی ہوئی ایک طویل نظم سنائی، جبکہ آمنہ مفتی نے اپنا ایک بلاگ ہی سنا دیا۔

اسی دوران وہ آ گیئں جس کے بغیر محفل شروع نہیں ہوتی تو مگر ختم کیسے ہو جاتی۔ ڈاکٹر صغرہ صدف a woman with grace and powerیونیورسٹی کے زمانے کا ساتھ۔ میری یہ دوست صوفی شاعرہ ہونے کی ساتھ ساتھ فلسفہ حیات کو بخوبی جانتی ہے۔ تمام دوستوں کو داد اور تحسین بانٹنے کے بعد اپنی باری پر ڈاکٹر سہیل کو یہ شعر پیش کیا۔

وہ بگولا سرشت تھا بینا

اور میری ریت تک رسائی تھی

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2