دم سازوں کی میزبانی


جب دوست محتشم اور محترم ہوں تو ان کو قیام گاہ میں بلانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ان کی قدو قامت، شہرت اور طمطراق کو دیکھتی تو کہتی چلو کیا گھر بلانا، خود کو قربان کرنے کی بجائے باہر کسی ہو ٹل میں مرغی اور بکرے کی قربانی دے دیتی ہوں۔ مگر یہ یار دوست میرے ہیں اس لیے دانا اور عقل فتور کے درمیاں ہی رہتے ہیں۔ اس لیے اس مقدمے کا فیصلہ میرا نہیں، ان ہی کا تھا کہ اپنے گھروندے میں بلاؤ۔ اب ان کے تمنائے خواب پورے ہوتے نظر آتے تھے، ان ادھیکاریوں نے تاریخ بھی اپنی ہی مرضی سے مقرر کی اور دن بھی ایسا منتخب کیا جب دو دھائیاں قبل میرے واحد شوہر اور میرے درمیان رشتہ قائم ہوا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ دیوتا ملک سے “باہر” امریکہ کی یونیورسٹی میں معلم بنا بیٹھا ہے اور”دیوداسی“ مذھبی رسومات نہیں بلکہ قلبی دوستیاں نبھا رہی ہے۔

بس ظہرانے کا وقت طے ہوا اور “درویشوں کے ڈیرے “کے خالق ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الربعہ کے نام یہ محفل کر دی گئی۔ امر واقع یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کینیڈا سے مسلسل مجھ ناچیز سے راست بازی کے انداز میں قائل کر کے کتاب پر راۓ لکھوا کر کتاب میں شامل کرنے کا اعزاز بخشا۔ اب ایک پنتھ دو کاج نہیں؛ کتاب، گھر اور خانہ آبادی کی سالگرہ کے تینوں بٹنوں نے ایک ہی کاج سے گذرنا تھا۔

ان بہی خواہوں کے واسطے اپنے ہاتھوں سے کھانے تیار کرنے کے بعد تمام انتظامات پر ایک گہری تنقیدی نظر ڈالی اور جب سب کچھ وزن میں لگا تو موقعہ غنیمت جان کر اس تھکی جان کو اگلے محاز پر لڑنے سے پہلے کچھ آرام کی سوجھی، گویا مہدی حسن کا یہ گیت لگا کر “کیوں ہم سے خفا ہو گئے اے جان تمنا، بھیگے ہوئے موسم کا مزا کیوں نہیں لیتے”آرام دہ صوفے پر دراز ہو کر چند منٹوں کے واسطے گھر کے مالک کو یاد کیا، ابھی یہ گیت ختم نہیں ہوا تھا کہ “ الو براۓ فروخت “ کی خالق ”آمنہ مفتی“ ہنستی مسکراتی نے پہلے مہمان ہونے کا عزاز حاصل کر لیا۔ لکھنوی لہجے کی یہ پنجابن میری اور بھائی کی سانجھی دوست ہونے کے ناطے دگنی دوست ہے، انسانوں اور ان کے دلوں سے بخوبی واقف ہو جاتی ہیں۔ ابھی گھر کے راستے سے لے کر تزین و آرائش کی مزید فی البدیہیہ تعریف کرتیں تو وہ آن پڑی جو ملکوں ملکوں ساتھ ہوتی ہے یہ چنچل حسینہ؛ نیلم بشیر۔ گھر والوں سے کہیں زیادہ اس سے ملاقات رہتی ہے۔

گانا، افسانہ اور۔۔۔۔ یہ سب اعلی کرتی ہے۔ اور نیلم کے بازو میں کھڑی خوبصورت شاعری اور شاعرہ فرحت زاہد فاصلوں کو کم کرنے کے واسطے بغل گیر ہو گئُیں۔ سیما پیروز حسن، سلیقے نزاکت اور نفاست کا حسین امتزاج ہیں؛ وہ اتنی ہی خاموشی سے آن پہنچیں جس طرح وہ خاموشی سےکہانیاں اور افسانے بنا کسی رونمائی کے لکھتی چلی جا رہی ہیں اور نیکیاں کما رہی ہیں۔ ابھی موج نفس میں اف پف ہوتی کہ بھگتی بی بی روشن دل اور سیاہ لباس میں پلاؤ کے پتیلے کے سنگ ڈرائیور کو تھمائے میرے گھروندے میں قدم رنجہ ہوئیں؛ جی پنجاب کی مٹیارن بشرہ اعجاز جو سرگودھا سے میرے ساتھ ساتھ ہیں، زمانے نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اس سدا بہار کی آمد سےتجلئ دوستاں میں بیش بہااضافہ ہوا، ان بھرے سمندر پیاسے یاروں نے دھوپ میں ہری گھاس پر دری ڈال کر بیٹھنا اور سرگودھا کے ہی کنو کھانے کے ساتھ ساتھ وہیں ظہر کی نماز بھی ادا کر کے میرے گھر کو برکتوں سے مالا مال کیا۔

ابھی بزم رنگ وزیب کو مزید سیلفیوؤں میں بند کرتی بزم یاراں کا پہلا مرد نمو دار ہوا۔ وہ کوئی اور نہیں ڈاکٹر غلام حسین ساجد تھے ان کی شناخت ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہو جاتی ہے کہ وہ ایک اعلی شاعر، ادیب اور نقاد ہیں، ایک رشتہ داری کے ناطے بڑے پرتپاک طریقے سے ان کا خیر مقدم کیا مگر وہ گیٹ میں داخل ہوتے ہی پریشان ہوئے کہ جب بزم خاص کی تتلیوں کو یوں کھلے لان میں گھاس پر نوافل ادا کرتے دیکھا تو چند لمحوں تک ان کے چہرے کا ایک رنگ آتا اور جاتا۔ میں نے بھانپ لیا اور فورا اندر آنے کو کہا۔ اندر آئی تو دیکھا، کہ اندر تو ایک مہمان پہلے سے موجود ہے اور وہ تھیں عطیہ سید جو غالبا سیما پیروز کے ساتھ ہی آئیں تھیں مجھے مصروف دیکھ کر ایک طرف کو ہو لیں۔ میرے ہاتھ میں تحفہ عطیہ تھمایا اور میرے ہاتھ کو محبت سے بھینچا۔

خدا پر یقین اور دنیا پر بھروسہ نہ کرنے والی یہ میری پیاری سہیلی جو ابھی تک ویسی کی ویسی ہے جب ان سے صدیوں قبل پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ فلسفے کی گتھیاں سلجھانے کی کوششش میں اتنی الجھ جاتی ہیں کہ لگتا ہے اب زمین رہے گی یا آسمان ؛ مگر ذی اختیار دوست تاجدار سریر آرا کی مانند مفکر، مدبر، عاقل اور شائستگی سے صاحب عرفان کو عارف اور علم سے پیدل کو پریشان بھی کرتی ہیں۔ حس ظرافت سے مالا مال یہ نازک مگر اندر سے کمان سخت کی مانند اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے بس صرف ایک معصوم سی مسکراہٹ سے بھری پری محفل میں بھی کسی کے پاؤں کے نیچے سے ایک مرتبہ زمین کھسکا ضرور دیتی ہیں!

جب جذبوں کی ترجمانی الفاظ اور اعمال بھی کرنے میں ناکام ہو جائیں تو پھر صبر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ہم اکثر ایسی مشک خوش روح کو اس لئے سونگھتے ہیں کہ وہ نایاب اور دلبر ہوتی ہیں۔ قصہ یہ کہ “وہ” ایک پیاری دوست ہے اب اگر نام لکھ دیا تو بھی ناراضی کا ڈر ہے اور درگذر تو میں کر نہیں سکتی ؛ اس لیے وہ شوخ ادا بھی تحفوں سے لدی پہنچ گیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2