حب الوطنی
سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک بچہ، سردی سے کانپتا ہوا نازک جسم، ریاست کا جھنڈا ہاتھ میں لئے۔ سوچتا ہوں تعلیم، صحت، انصاف اور فلاح جیسے الفاظ ان معصوم کانوں کے لئے کتنے اجنبی ہوں گے۔ وہ تو کسی محب وطن گاہک کی انتظار میں تھا کہ کوئی اس سے جھنڈا خریدے اور وہ اپنی بھوک مٹا سکے۔ اور دوسری جانب دو ریاستوں کے مابین جنگ کا نام سنتے ہی حب الوطنی کے نام پر مر، مٹنے کی باتیں۔ انا پرستی میں سڑکوں پر کچلتے ہزاروں من دشمن کے ٹماٹر۔
اور اسی ریاست میں لاکھوں بھوکی روحیں۔ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ لفظ ”تہذیب“ انسانی ڈکشنری میں کیسے ایجاد ہو گیا۔ جذباتی لہجوں میں سیاسی لیڈروں کی نفرت انگیز تقریریں۔ ہماری ریاست ہمیں جان سے پیاری۔ اور ہم مرمٹنے کو تیار۔ ایٹمی جنگ کی دھمکیاں۔ سڑکوں کے کنارے بھوکی انسانیت۔ پروٹوکول کے حصار میں گزرتے ہوئے ہمارے لیڈرز۔ لفظ احساس اور ایٹمی جنگ۔ نتائج سوچتے ہوئے بھی رو ح کانپ جائے۔ مگر افسوس ان بے روح جسموں پر۔
کہ بے شعور آج صاحب اقتدار ہیں۔ آج بھی اگر مسائل کا حل لڑائی، جنگ، نفرت، انا پرستی، اور قتل انسانیت سے ہی نکالنا ہے، تو پھر ریاست کی ضرورت کیوں؟ یہ وہ سوال ہے جس سے ہمارے شعورکو جانچا جاسکتا ہے۔ انسانی تاریخ میں وہ دن قابل فخر تھا۔ جس دن انسانوں نے انا پرستی، نفرت اور جنگ کو چھوڑ کر آزادی، حق اور فلاح کی خاطر ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ زمینی حدبندیاں درحقیقت شعور کی ان منازل کی طرف پیش قدمی تھی جو حق، آزادی، فلاح اور انسانیت کواور مضبوط کرتیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج ریاست شعور کے اس درجہ پر ہوتی۔ جہاں مذہب، رنگ و نسل، قانون اور جنگ تہذیب کی گرفت میں ہوتیں۔ مگر افسوس یہاں تو ریاست، مذہب، رنگ نسل، انا پرستی اور نفرت کی غلام بن گئی۔ دلیل آتی ہے کہ کچھ انسان ریاست پر قربان بھی ہو جائیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ انسان کی قربانی مانگے۔ ریاست کا کام انسان کی آزادی اور فلاح سے ہی تھا۔ انسان کی آزادی اور فلاح کے لئے ہی انسان کا خون مانگنا۔
یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ کیا ان چند انسانوں کو جینے کا حق نہیں؟ اور ان کی آزادی، حق اور فلاح۔ کیا ریاست کو ان ماؤں کی کوکھ کا احساس نہیں۔ ریاست جنگ جیت بھی جائے مگر جنگ میں یتیم ہونے والے بچوں کا کیا۔ اور وہ سہاگن عورتیں کب چاہیں گی کہ ان کے جیتے جی سہاگ اجڑ جائیں۔ صدقہ، خیرات اور فطرانوں سے پیٹ بھر بھی جائیں گے مگر ان کی محبت اور تڑپ کا احساس۔ لفظ جنگ کہنا اور سننا جتنا آسان ہے مگر اس کے نتائج۔
کیا حب الوطنی اور بہادری کے نام پر زمین کے چند ٹکڑوں کے لیے جنگ ضروری ہے؟ اگر نہیں تو ریاست جنگ کا نام کیوں لیتی ہے۔ ریاست اپنے مقصد سے کیوں ہٹ گئی۔ اب ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ریاست جنگ کے نام پر انسانوں کی فلاح کر رہی ہیں یا پھر کہیں کسی اور کے مفادات کا تحفظ۔ اور اگر جواب ہاں ہے تو پھر پھٹے پرانے کپڑوں میں، سردی سے کانپتا ہوا جسم، اور ہاتھ میں ریاست کا جھنڈا پکڑے، وہ معصوم بچہ سوچتا تو ہو گا کہ لفظ حب الوطنی بھی اس معصوم روح سے کتنا بڑا مذاق ہے۔


